ہوم خبریں ایران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی بڑھانے پر نیتن یاھو اور ٹرمپ کے درمیان اتفاق

ایران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی بڑھانے پر نیتن یاھو اور ٹرمپ کے درمیان اتفاق

0
ایران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی بڑھانے پر نیتن یاھو اور ٹرمپ کے درمیان اتفاق

مرکزاطلاعات فلسطین

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور قابض اسرائیلی حکومت کے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو نے وائٹ ہاؤس میں اپنی ملاقات کے دوران ایران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ (میکسمم پریشر) کی پالیسی کو مزید تقویت دینے پر اتفاق کیا ہے، جس کے تحت چین کو ایرانی تیل کی برآمدات کم کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔

ایک اعلیٰ امریکی اہلکار نے ویب سائٹ ایکسیوس کو بتایا کہ واشنگٹن ایران پر ہر ممکن حد تک دباؤ ڈالنے کی کوشش کرے گا، خاص طور پر چین کو تیل کی فروخت کے حوالے سے، کیونکہ چین ایران کی تیل کی برآمدات کا 80 فیصد سے زائد حصہ خریدتا ہے۔ اس تجارت میں کسی بھی قسم کی کمی تہران کی آمدنی پر گہرا اثر ڈالے گی۔

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب گذشتہ ہفتے عمانی ثالثی کے ذریعے امریکی اور ایرانی سفارت کاروں کے درمیان بالواسطہ مذاکرات ہوئے، جن کا مقصد ایرانی جوہری پروگرام کے حوالے سے سفارتی راستہ بحال کرنا ہے۔ اس کے ساتھ ہی امریکہ خطے میں کسی بھی ممکنہ کشیدگی سے نمٹنے کے لیے اپنی فوجی موجودگی میں اضافہ کر رہا ہے۔

واضح رہے کہ چین ایرانی تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے اور وہ امریکی پابندیوں کو تسلیم نہیں کرتا۔ چین اور تہران نے ڈالر کے استعمال سے بچنے اور امریکی پابندیوں کو چکمہ دینے کے لیے یوآن پر مبنی تجارتی نظام اور واسطوں کا ایک نیٹ ورک قائم کر رکھا ہے۔

امریکی حکام کا اشارہ ہے کہ معاشی دباؤ ایران کو اپنے جوہری پروگرام پر رعایتیں دینے پر مجبور کر سکتا ہے، جبکہ مذاکرات اور مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی موجودگی میں اضافہ بھی اسی پالیسی کا حصہ ہے۔

تقریباً دس دن قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے تھے جس کے تحت ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے ممالک پر 25 فیصد کسٹم ڈیوٹی عائد کی جا سکتی ہے۔

اس معاشی کشیدگی سے امریکہ اور چین کے تعلقات مزید پیچیدہ ہونے کا خدشہ ہے، خاص طور پر جب اپریل میں بیجنگ میں ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جین پنگ کے درمیان ایک اہم سربراہی ملاقات متوقع ہے۔

ایکسیس کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ اور بنجمن نیتن یاھو نے ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کے حتمی ہدف پر تو اتفاق کیا، لیکن طریقہ کار پر دونوں میں اختلاف پایا گیا۔ بنجمن نیتن یاھو کا مؤقف تھا کہ کسی معاہدے تک پہنچنا ممکن نہیں ہے جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ کا خیال تھا کہ ایک موقع موجود ہے جسے آزمانا چاہیے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے مشیروں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کے ساتھ تہران کے ساتھ معاہدے کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ مشیروں نے اس کی مشکل کی تصدیق کی لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ ایرانی اب تک مذاکرات کے لیے مثبت آمادگی ظاہر کر رہے ہیں۔

سلطنت عمان میں 6 فروری سنہ 2026ء کو ہونے والے بالواسطہ مذاکرات کے بعد اب منگل کو جنیوا میں عمانی ثالثی کے تحت امریکہ اور ایران کے درمیان براہِ راست مذاکرات کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔