مرکزاطلاعات فلسطین
قابض اسرائیلی افواج کی جانب سے غزہ میں سیز فائر معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیاں جاری ہیں۔ غزہ کی پٹی کے مشرقی حصوں میں تعینات فوجی گاڑیوں سے کی جانے والی بمباری، فضائی حملوں اور فائرنگ کے نتیجے میں متعدد فلسطینی شہید اور زخمی ہو چکے ہیں۔
آج اتوار کی علی الصبح غزہ کی پٹی کے مختلف علاقوں پر قابض اسرائیل کی بمباری کے نتیجے میں 10 شہری شہید اور متعدد زخمی ہو گئے۔
طبی ذرائع کے مطابق جنوبی غزہ میں خانیونس کے مغرب میں واقع مسلخ ترکیہ کے قریب اسرائیلی حملے میں 5 شہداء کے جسدِ خاکی ناصر میڈیکل کمپلیکس لائے گئے ہیں۔ شہداء کی شناخت براء الشقرا، وسیم شاہین، فراس النجار، احمد البيوک اور مہند العایدی کے ناموں سے ہوئی ہے۔ شدید خطرات کے باعث محکمہ شہری دفاع کا عملہ مزید دو شہداء کی لاشیں تاحال نکالنے میں ناکام رہا ہے۔
شمالی غزہ کی پٹی میں جبالیہ کیمپ کے مغرب میں ٹیلی کمیونیکیشن چوراہے کے قریب بے گھر افراد کے خیموں پر ہونے والی بمباری کے نتیجے میں 4 شہری شہید اور متعدد زخمی ہوئے۔
مذکورہ حملے میں شہید ہونے والے وہ افراد جن کی شناخت ہو سکی ہے اور جنہیں الشفاء ہسپتال اور غزہ شہر کے السرايا منتقل کیا گیا، ان میں ایاد ابو عسکر، احمد حسان، عبد الکریم البياری اور مہند كريزم شامل ہیں۔
اسی سیاق میں قابض اسرائیلی فوج نے جبالیہ کیمپ کے شمال میں شیخ زاید چوراہے کے گرد و نواح میں رہائشی عمارتوں کو بڑے پیمانے پر بارود سے اڑانے کا عمل جاری رکھا، جس کے ساتھ ساتھ توپ خانے سے گولہ باری اور فوجی گاڑیوں سے شدید فائرنگ بھی کی گئی۔
قابض اسرائیلی فوج نے ہفتے کی شام شمالی غزہ میں ایک فلسطینی کو اس دعوے کے ساتھ شہید کرنے کا اعلان کیا کہ اس نے یلو لائن عبور کر کے اسرائیلی افواج کے لیے خطرہ پیدا کیا تھا۔
قابض اسرائیل نے جبالیہ کے مشرق میں رہائشی عمارتوں کو بارود سے اڑانے کے ساتھ ساتھ جنوبی شہر خانیونس پر فضائی حملوں کا سلسلہ بھی برقرار رکھا۔
غزہ شہر کے مشرق میں واقع حی التفاح میں رمزون السنافور کے گرد و نواح میں توپ خانے کی گولہ باری کی گئی، جس سے شہریوں کے گھروں کے قریب بموں کے ٹکڑے بکھر گئے۔
قابض اسرائیل کی توپ خانے سے گولہ باری کا نشانہ بننے والے حی التفاح کے اوپر جنگی طیاروں کی پروازیں اور مسلسل فائرنگ کی آوازیں بھی سنی گئیں۔
شمالی غزہ میں قابض اسرائیلی فوج نے شیخ زاید کے علاقے میں 3 بارود سے بھری گاڑیاں دھماکے سے اڑائیں، جس کے ساتھ ساتھ جبالیہ کیمپ کے مشرق میں رہائشی مکانات کو زمین بوس کرنے کا عمل بھی جاری رہا۔
وزارت صحت غزہ نے خبردار کیا ہے کہ اسپیئر پارٹس کی قلت کے باعث غزہ کی پٹی کے اکثر ہسپتال کام بند کرنے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ وزارت نے تصدیق کی کہ سیز فائر کے بعد سے اب تک ضروری پرزہ جات کی کوئی کھیپ اندر داخل نہیں ہونے دی گئی اور انہیں لانے کی تمام بین الاقوامی کوششیں اب تک ناکام رہی ہیں۔
وزارت صحت کے مطابق 7 اکتوبر سنہ 2023ء سے جاری نسل کشی کی جنگ میں اب تک شہداء کی مجموعی تعداد 72051 تک جا پہنچی ہے جبکہ زخمیوں کی تعداد 171706 ہو گئی ہے۔ ہزاروں متاثرین اب بھی ملبے تلے اور سڑکوں پر پڑے ہیں جن تک ایمبولینس اور محکمہ شہری دفاع کا عملہ تاحال پہنچنے سے قاصر ہے۔