ہوم خبریں قابض اسرائیلی فوج کی المغیر پر چڑھائی، کمسن فلسطینی بچے کی گرفتاری کے بعد اس پر بدترین تشدد

قابض اسرائیلی فوج کی المغیر پر چڑھائی، کمسن فلسطینی بچے کی گرفتاری کے بعد اس پر بدترین تشدد

0
قابض اسرائیلی فوج کی المغیر پر چڑھائی، کمسن فلسطینی بچے کی گرفتاری کے بعد اس پر بدترین تشدد

مرکزاطلاعات فلسطین

گیارہ سالہ ننھے فلسطینی بچے محمود فواد ابو علیا نے چند روز قبل مقبوضہ مغربی کنارے میں رام اللہ کے شمال مشرق میں واقع قصبہ المغیر پر قابض اسرائیلی افواج کی یلغار کے دوران اپنی گرفتاری اور اسرائیلی فوجیوں کے ہاتھوں بہیمانہ تشدد کی لرزہ خیز تفصیلات بیان کی ہیں۔

محمود نے بتایا کہ وہ اپنی روزمرہ کی ضرورت کی اشیاء خریدنے کے لیے ایک دکان کے اندر موجود تھا جب قابض اسرائیلی درندوں نے وہاں دھاوا بولا اور اسے گرفتار کر لیا۔ ننھے محمود کے بقول پانچ مسلح فوجی دکان میں داخل ہوئے، مجھے گھسیٹتے ہوئے فوجی جیپ تک لے گئے اور میرے چہرے اور پورے جسم پر وحشیانہ ضربات لگانا شروع کر دیں۔

الجزیرہ لائیو کو دیے گئے اپنے بیان میں اس معصوم بچے نے وضاحت کی کہ اسے فوجی گاڑی میں منتقلی کے دوران بدترین سفاکیت کا نشانہ بنایا گیا، فوجیوں نے اسے مسلسل زدوکوب کیا اور زبردستی خاموش رہنے پر مجبور کیا۔ اس نے بتایا کہ فوجی جیپ کے اندر مجھے مسلسل پیٹتے رہے اور ایک فوجی نے بندوق کے دستے سے میری کمر پر زوردار ضرب لگائی۔

محمود نے مزید بتایا کہ اسے تقریباً ایک گھنٹے تک حراست میں رکھا گیا جس کے بعد قصبے کے مشرقی داخلی راستے پر اسے چھوڑ دیا گیا۔ اس نے انکشاف کیا کہ رہائی کے فوراً بعد ایک انتہا پسند یہودی آباد کار نے اس کی طرف براہِ راست فائرنگ کی لیکن خوش قسمتی سے وہ بال بال بچ گیا۔

ننھے محمود نے قصبے کے بچوں کو درپیش خوف و ہراس کی فضا کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ میرا حق ہے کہ میں امن سے رہوں اور کھیلوں، لیکن ایک فلسطینی بچہ اپنی بچپن کی خوشیوں سے محروم ہے؛ اس کا اشارہ قصبے پر قابض دشمن کے بار بار کے چھاپوں اور مسلسل جاری حملوں کی طرف تھا۔

دوسری جانب بچے کے والد فواد ابو علیا نے کہا کہ ان کے لختِ جگر پر ایسا تشدد کیا گیا جسے بڑے بھی برداشت نہیں کر سکتے۔ انہوں نے واضح کیا کہ محمود صرف سودا سلف لینے گیا تھا کہ قابض فوجیوں نے اسے اغوا کیا اور بے رحمانہ طریقے سے پیٹا۔

والد نے مزید بتایا کہ ان کا بیٹا جسم کے مختلف حصوں پر آنے والی گہری چوٹوں اور زخموں کی وجہ سے نڈھال تھا، اسے ضروری طبی معائنے کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

بچے کے والد نے اس بات پر زور دیا کہ قابض اسرائیلی فوج کی مسلسل کارروائیوں اور یلغار کے دوران بچوں کو نشانہ بنانا اب اس قصبے میں ایک روزمرہ کا معمول بن چکا ہے۔

ادھر دکان کے مالک عطاف ابو علیا نے بتایا کہ محمود خریداری کر رہا تھا جب قابض فوجیوں نے دکان پر چھاپہ مارا۔ انہوں نے کہا: چار مسلح فوجی دکان میں گھسے اور بچے کو گھسیٹ کر باہر لے گئے اور اسے مارنا شروع کر دیا، حالانکہ وہ خریداری کے علاوہ کچھ نہیں کر رہا تھا۔

فلسطینی اسیران کے اداروں کے مطابق، قابض اسرائیلی حکام نے اپنے عقوبت خانوں میں قید 9 ہزار سے زائد اسیران میں کم از کم 350 بچوں کو انسانیت سوز حالات میں قید کر رکھا ہے۔

انسانی حقوق کی رپورٹس بتاتی ہیں کہ ہر سال 500 سے 700 کے قریب فلسطینی بچوں کو گرفتار کر کے قابض اسرائیل کی فوجی عدالتوں میں مقدمات چلائے جاتے ہیں، جبکہ ماہرین ان خلاف ورزیوں کے بچوں پر پڑنے والے طویل مدتی نفسیاتی اور سماجی اثرات کے حوالے سے مسلسل خبردار کر رہے ہیں۔