ہفتہ, فروری 14, 2026

Thsi is a sample text

جمعہ 6-فروری-2026

مرکزاطلاعات فلسطین قابض اسرائیلی فوج کے اعلیٰ عہدیداروں نے اعتراف کیا ہے کہ ان کی افواج تاحال غزہ کی پٹی کے نیچے پھیلی مزاحمتی سرنگوں کے جال کے صرف تقریباً نصف حصے ہی سے نمٹ سکی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ عمل توقع سے کہیں زیادہ طویل ثابت ہو رہا ہے، کیونکہ فوج کے بقول زیرِ زمین فائل نہایت پیچیدہ ہے اور قریبی مدت میں اس کا عسکری حل ممکن دکھائی نہیں دیتا۔قابض فوجی حکام کے مطابق غزہ کی پٹی پر نسل کشی کی جنگ شروع ہونے کے بعد گذشتہ تقریباً ڈھائی برسوں کے دوران قابض اسرائیل نے مزاحمت کی سرنگوں کے جال میں مٹی اور پانی کے آمیزے پر مشتمل 2 لاکھ 50 ہزار مکعب میٹر سے زائد مواد انڈیل دیا ہے۔ یہ سرنگیں 150 کلو میٹر سے زیادہ رقبے میں پھیلی ہوئی ہیں اور ان کا مقصد زیرِ زمین انفراسٹرکچر کو تباہ کرنا بتایا گیا ہے۔عبرانی چینل 12 کی ویب سائٹ نے ایک فوجی عہدیدار کے حوالے سے بتایا کہ قابض فوج اب تک سرنگوں کے نیٹ ورک کے صرف نصف حصے سے ہی نمٹ سکی ہے، جبکہ 10 اکتوبر 2025ء کو اعلان کردہ جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے پر عمل درآمد سے قبل یہ صورتحال برقرار ہے۔فوجی عہدیدار نے کہا کہ ہم اسلامی تحریک مزاحمت حماس کی زیرِ زمین ساخت کے خلاف پوری شدت اور اصرار کے ساتھ جنگ لڑ رہے ہیں اور ہمارا اندازہ ہے کہ تمام سرنگوں سے نمٹنے میں مزید دو برس لگ سکتے ہیں۔متعدد مقاصد کے لیے پیچیدہ نیٹ ورکرپورٹ کے مطابق سرنگوں کا معاملہ جنگ کے آغاز سے ہی قابض فوج کے لیے سب سے زیادہ پیچیدہ چیلنجز میں شامل رہا ہے۔ قابض اسرائیل کا ماننا ہے کہ حماس نے اس نیٹ ورک کو مختلف مقاصد کے لیے استعمال کیا، جن میں اپنے قائدین کو چھپانا بھی شامل ہے، جس کے باعث وہ طویل عرصے تک فضائی حملوں کے ذریعے قتل کی کوششوں سے محفوظ رہے۔ اس کے علاوہ زمینی افواج سے بچاؤ اور اسرائیلی قیدیوں کو سرنگوں میں رکھنے کے لیے بھی یہی نیٹ ورک استعمال ہوا۔اسی رپورٹ کے مطابق قابض فوج کو ایک غیر معمولی چیلنج کا سامنا کرنا پڑا، جس کے نتیجے میں اسے غزہ کے اندر سینکڑوں کلو میٹر تک پھیلی سرنگوں کی نشاندہی اور تباہی کے لیے خصوصی صلاحیتیں اور جدید انٹیلی جنس نظام اور نگرانی کی ٹیکنالوجیز تیار کرنا پڑیں۔فوجی عہدیدار نے وضاحت کی کہ گذشتہ ایک برس کے دوران فوج اس جنگ کے تحت جسے وہ زیرِ زمین انفراسٹرکچر کے خلاف جنگ قرار دیتی ہے، شدید نگرانی کی سرگرمیاں انجام دے رہی ہے اور اس میدان میں بڑے نتائج حاصل کرنے کا دعویٰ کرتی ہے۔اس نے کہاکہ ہم سرنگوں کو مٹی اور پانی کے آمیزے سے بھرتے ہیں اور اسے بے پناہ مقدار میں اندر دھکیلتے ہیں۔ ہم نے 150 کلو میٹر سے زیادہ سرنگوں میں 2 لاکھ 50 ہزار مکعب میٹر سے زائد مواد ڈالا ہے، جو مکمل تباہی نہ بھی لائے تو بھی شدید نقصان پہنچاتا ہے۔جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے کے آغاز کے ساتھ قابض فوج یہ دعویٰ کرتی ہے کہ حماس سرنگوں کی بحالی کے کسی بھی عمل میں انتہائی احتیاط برت رہی ہے اور فی الحال دوبارہ کھدائی نہیں کر رہی، کیونکہ وہ موجودہ نازک صورتحال اور معاہدے کی شقوں پر عمل درآمد میں تاخیر کے خدشے سے آگاہ ہے۔دوسری جانب قابض حکام کا الزام ہے کہ حماس بعض محدود علاقوں میں زیرِ زمین انفراسٹرکچر کی مرمت کے چھوٹے موٹے کام انجام دے رہی ہے تاکہ باقی ماندہ تنصیبات اور آلات کو بچایا جا سکے۔ حالیہ ہفتوں میں قابض فوج نے ایسے مقامات پر نام نہاد تفتیشی کھدائی کی کارروائیاں شروع کی ہیں جہاں غیر دریافت شدہ سرنگوں کا شبہ ہے، تاکہ نگرانی اور تباہی کے دائرہ کار کو وسیع کیا جا سکے۔اسٹریٹجک ہتھیارصہیونی فوجی عہدیدار کے اندازے کے مطابق جسے وہ اسٹریٹجک خطرہ قرار دیتا ہے یعنی سرنگوں کا خاتمہ جس میں اس میں کم از کم مزید دو سال لگیں گے۔ اس نے کہا: ہمارے سامنے ایک طویل عرصہ ہے تاکہ اس پیچیدہ انفراسٹرکچر سے نمٹا جا سکے۔اس نے مزید کہا کہ بات سینکڑوں کلو میٹر سرنگوں کی ہے اور یہ سوچنا کہ اس فائل کو کم وقت میں بند کیا جا سکتا ہے، سرے سے ہی غلط فہمی ہے۔اسی دوران فوجی ذریعے نے اشارہ دیا کہ بعض صورتوں میں قابض فوج جان بوجھ کر کچھ سرنگوں کو نظرانداز بھی کرتی ہے، کیونکہ اس کے اندازے کے مطابق وہ غیر اہم ہیں اور کوئی حقیقی خطرہ نہیں بنتیں۔حالیہ عرصے میں اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے بتایا ہے کہ قابض فوج کے اندر یہ پیشہ ورانہ بحث شدت اختیار کر گئی ہے کہ آیا دریافت کی گئی سرنگیں واقعی مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہیں یا نہیں۔ انجینئرنگ کور سے وابستہ ماہرین کا دعویٰ ہے کہ فوج کی جانب سے استعمال کیے گئے تمام طریقے سرنگوں کو ہمیشہ کے لیے ناکارہ بنانے میں کامیاب نہیں ہوئے اور بعض کو دوبارہ کھودا جا سکتا ہے۔یدیعوت احرونوت نے 15 جنوری 2026ء کی رپورٹ میں لکھا کہ قابض فوج نے مختلف سرنگوں کے لیے مختلف دھماکا خیز مواد استعمال کیا، بعض مقامات پر صرف انہیں بند کر دیا گیا جبکہ دیگر جگہوں پر سرنگوں کے مرکزی چوراہوں اور شاخوں کو منہدم کیا گیا۔صحیفے کے مطابق حماس نے ان نقصانات سے نمٹنے، دوبارہ کھدائی کرنے اور زیرِ زمین آثار کو گہرائی میں چھپانے کے لیے بھرپور وسائل اور تجربات بروئے کار لائے۔ گذشتہ مہینوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ جہاں قابض فوج زمین پر مستقل موجود رہی، وہاں حماس کے لیے اپنے زیرِ زمین راستوں کو بحال کرنا مشکل ہوا۔سنہ 2006ء میں جب حماس نے اسرائیلی فوجی گلعاد شالیط کو گرفتار کیا، اس کے بعد سے قابض فوج غزہ کے نیچے سرنگوں کے نیٹ ورک کو تباہ کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہے۔ اس مقصد کے لیے اس نے اپنی تمام انٹیلی جنس صلاحیتیں استعمال کیں تاکہ اس اسٹریٹجک ہتھیار کو ختم کیا جا سکے جس کی بنیاد حماس نے سنہ 2001ء میں رکھی، جب رفح کے جنوب میں واقع اسرائیلی فوجی مقام ترمید کو ایک سرنگ کے ذریعے دھماکے سے اڑا دیا گیا، جس میں پانچ فوجی ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے۔ اس سرنگ کی لمبائی محض 150 میٹر تھی اور اسے بارودی سرنگیں نصب کرنے کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔مزاحمتی سرنگوں نے ہر معرکے میں اپنا مرکزی اور فیصلہ کن کردار برقرار رکھا بلکہ اپنی عسکری صلاحیتوں کو مزید نکھارا۔ معرکہ سیف القدس سنہ 2021ء کے بعد حماس کے سربراہ یحییٰ السنوار نے کہا تھا کہ غزہ میں حماس اور دیگر فلسطینی تنظیموں نے 500 کلو میٹر سے زائد سرنگیں تیار کیں، حالانکہ پورے علاقے کا رقبہ صرف 360 مربع کلو میٹر ہے۔اسی طرح سیاسی بیورو کے سربراہ اسماعیل ہنیہ نے کہا کہ غزہ نے مزاحمت کے لیے ویتنام کی سرنگوں سے دگنی سرنگیں بنائیں، جبکہ ویتنامی سرنگوں کی مجموعی لمبائی تقریباً 270 کلو میٹر تھی، جنہیں ویتنامی کمیونسٹوں نے 1955ء سے 1975ء کے درمیان امریکہ کے خلاف جنگ میں استعمال کیا۔امریکی جریدے فارن پالیسی نے نومبر کے آغاز میں شائع ہونے والی رپورٹ میں کہا کہ غزہ میں فلسطینی مزاحمتی تنظیموں کی قائم کردہ سرنگوں کا نیٹ ورک اسٹریٹجک اور حربی اعتبار سے ویتنام کی سرنگوں سے مشابہت رکھتا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی کہ قابض فوج کی سب سے بڑی تشویش وہ جنگی سرنگیں ہیں جو خفیہ ہیں اور جن میں عنصرِ حیرت فیصلہ کن کردار ادا کر کے غزہ میں فلسطینی مزاحمت کے حق میں جنگ کا پانسہ پلٹ سکتی ہے۔سنہ 2020ء میں معہد مصر للدراسات میں شائع ہونے والی محقق رامی ابو زبیدہ کی تحقیق کے مطابق یہ سرنگیں اسٹریٹجک، دفاعی، جنگی، حربی، رسد و مواصلات اور کمانڈ و کنٹرول کی مختلف اقسام میں تقسیم ہیں۔زیرِ زمین باڑ کی ناکامیغزہ کی پٹی میں پھیلی سرنگوں کے بے حد پیچیدہ نیٹ ورک کے پیش نظر قابض اسرائیل نے سنہ 2017ء میں غزہ کی سرحد کے ساتھ 65 کلو میٹر طویل ایک جدید آہنی باڑ تعمیر کی، جس کی اونچائی چھ میٹر ہے اور جسے ریڈارز، کیمروں، بحری نگرانی کے نظام اور دور سے کنٹرول ہونے والے جدید ہتھیاروں سے لیس کیا گیا۔ اس کے علاوہ اس میں کئی میٹر گہری زیرِ زمین رکاوٹ بھی شامل تھی، جس میں حساس سینسر نصب کیے گئے تھے تاکہ کسی بھی ممکنہ سرنگ کھدائی کا پتا چلایا جا سکے۔قابض فوج نے اس رکاوٹ کی تعمیر میں تقریباً ایک لاکھ 26 ہزار ٹن فولادی لوہا استعمال کیا۔ سنہ 2021ء میں اس کی تکمیل کے بعد قابض اسرائیل نے اسے دنیا میں اپنی نوعیت کا واحد منصوبہ قرار دیا اور دعویٰ کیا کہ یہ ایک اعلیٰ درجے کا تخلیقی ٹیکنالوجی منصوبہ ہے جو حماس کو اس صلاحیت سے محروم کر دے گا جسے وہ ترقی دینے کی کوشش کر رہی تھی۔تاہم اسرائیلی عسکری امور کے ماہرین اور تجزیہ کاروں کے مطابق ایک اعشاریہ ایک ارب امریکی ڈالر لاگت سے بننے والی یہ آہنی باڑ اسرائیلی آبادکاروں کے لیے دفاعی ڈھال فراہم کرنے میں بری طرح ناکام ثابت ہوئی۔ خود قابض فوج کے اعتراف کے مطابق حماس نے ہفتہ 7 اکتوبر 2023ء کی صبح اس دیوار کو 29 مختلف مقامات سے باآسانی عبور کر لیا۔

مقالات ذات صلة

 

abc

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

- Advertisment -
Google search engine

الأكثر شهرة

احدث التعليقات