محمود سلطان ،مصری کالم نگار و صحافی
امریکا میں ’’یہودی لابی‘‘ یا ’’اسرائیلی لابی‘‘ کی اصطلاح اشرافیہ کے حلقوں میں شدید بحث و مباحثے کا موضوع رہی ہے، خاص طور پر اس اصطلاح کے مفہوم اور حدود متعین کرنے کے حوالے سے کہ یہ دراصل کس چیز کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ امریکا کی مسلسل آنے والی حکومتوں اور اس لابی کے درمیان تعلق کی بنیادیں تلاش کرنے میں بھی خاصی الجھن اور ابہام پایا جاتا ہے۔
کچھ دھیمی آوازیں اس بات پر زور دیتی ہیں کہ ’’یہودی پریشر گروپس‘‘ اور ’’اسرائیل کے حامی پریشر گروپس‘‘ کے درمیان واضح فرق کیا جانا چاہیے، کیونکہ ان کے نزدیک یہودیت کو موجودہ اسرائیلی ریاست کے ساتھ گڈمڈ کرنا تمام یہودیوں سے دشمنی کے مترادف ہے(جبکہ سارے یہودی اسرائیل کے حامی نہیں ہیں)۔
ان کا خیال ہے کہ یہ خلطِ مبحث دراصل نسل کشی کے نظام کی جانب سے دانستہ طور پر کیا جاتا ہے، تاکہ اس کی مخالفت کرنے والوں کو خاموش کرایا جا سکے اور سب کو مستقل خوف میں مبتلا رکھا جائے۔
مغربی فورمز میں ہونے والی ضمنی بحثوں می اس بات پر تقریبا اتفاق پایا جاتا ہے کہ ریاستِ اسرائیل تمام یہودیوں کے مفادات کی نمائندہ نہیں ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے امریکا میں طاقتور اسلامی اور مسیحی انجیلی پریشر گروپ موجود ہیں، مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ہر مسلمان یا ہر مسیحی کی نمائندگی کرتے ہوں۔
بہت سے یہودی، خاص طور پر diaspora (یہودی برادری جو اسرائیل سے باہر رہتی ہے)، اسرائیلی ریاست کی مخالفت کرتے ہیں۔ بلکہ اسرائیل کو ملنے والی بڑی حمایت ایک ایسی مسیحی انجیلی تحریک سے آتی ہے جو خود یہود دشمن نظریات رکھتی ہے اور توراتی پیش گوئیوں کی بنیاد پر اسرائیل کی حمایت کرتی ہے۔
اس تحریک کا ماننا ہے کہ اسرائیل کا قیام حضرت عیسیٰؑ کی دوسری آمد کا پیش خیمہ بنے گا، اور آخرکار تمام یہودی یا تو عیسائیت قبول کریں گے یا پھر ہلاک کر دیے جائیں گے اور ابدی عذاب کا سامنا کریں گے۔ اس حوالے سے میں نے خود ریڈ اٹ() کے مشہور فورم پر—جو سلووینی فلسفی سلاوائے ژیژک کے افکار پر بحث کے لیے مخصوص ہے—شدید اور تلخ مباحث دیکھے ہیں۔
سابق امریکی صدر جو بائیڈن کے ’’طوفان الاقصیٰ‘‘ کے بعد دیے گئے بیانات امریکی ذہنیت اور مشرقِ وسطیٰ کے حوالے سے امریکی موقف کو سمجھنے کی کنجی فراہم کرتے ہیں، جب انہوں نے فخر سے کہا:
’’اگر اسرائیل موجود نہ ہوتا تو ہمیں اسے ایجاد کرنا پڑتا۔‘‘
یہ نقطۂ نظر اس مشاہدے پر قائم ہے کہ عمر رسیدہ اور مذہبی طور پر زیادہ پابند (آرتھوڈوکس) امریکی یہودی عام طور پر اسرائیل کے زیادہ حامی ہوتے ہیں، جبکہ نوجوان اور غیر آرتھوڈوکس یہودیوں میں اسرائیل کی حمایت کم ہوتی جا رہی ہے۔
اس کی مثال بدنام زمانہ تنظیم AIPAC اور اس کے مقابلے میں J-Street سے دی جاتی ہے، جو نسبتاً معتدل ڈیموکریٹس کی حمایت کرتی ہے اور دو ریاستی حل کی حامی ہے۔
اپنی مشترکہ کتاب "The Israel Lobby and U.S. Foreign Policy” میں شکاگو یونیورسٹی کے سیاسیات کے پروفیسر جان میئرشائمر اور ہارورڈ (کینیڈی اسکول) کے پروفیسر اسٹیفن والٹ دلیل دیتے ہیں کہ امریکا کی مشرقِ وسطیٰ پالیسی کا محور اسرائیل کے ساتھ اس کا قریبی تعلق ہے۔
ان کے مطابق اگرچہ اس تعلق کو اکثر مشترکہ اسٹریٹجک مفادات یا اخلاقی ضرورتوں کے پردے میں پیش کیا جاتا ہے، لیکن حقیقت میں امریکا کی اسرائیل سے وابستگی کی اصل وجہ اسرائیل نواز پریشر گروپس کی سرگرمیاں ہیں، جو اکثر خود امریکا کے مفادات کے خلاف جاتی ہیں۔
دونوں مصنفین اس ’’خصوصی تعلق‘‘ کی افادیت پر سوال اٹھاتے ہیں اور اسے امریکا کے عالمی و اسٹریٹجک مفادات کے لیے نقصان دہ قرار دیتے ہیں۔
تاہم اسٹیفن والٹ واضح کرتے ہیں:
’’ہم نے کبھی ’یہودی لابی‘ کی اصطلاح استعمال نہیں کی، کیونکہ لابی کی شناخت مذہب یا نسل سے نہیں بلکہ اس کے سیاسی ایجنڈے سے ہوتی ہے۔‘‘
انہوں نے نیویارک ٹائمز کے ایڈیٹر کو لکھے گئے خط میں کہا کہ صحافی لیزلی جیلپ نے ان کے کتابی تجزیے میں بارہا ’’یہودی لابی‘‘ کی اصطلاح استعمال کی، حالانکہ مصنفین نے خود اس سے صراحتاً اجتناب کیا تھا۔ ان کے مطابق یہ اصطلاح گمراہ کن ہے، کیونکہ اس لابی میں یہودیوں کے ساتھ ساتھ مسیحی صہیونی بھی شامل ہیں، اور بہت سے امریکی یہودی ان سخت گیر پالیسیوں کے حامی نہیں جنہیں لابی کی طاقتور قیادت ترجیح دیتی ہے۔
یہ کتاب 2007 میں نیویارک ٹائمز کی بیسٹ سیلر فہرست میں شامل رہی۔ اسرائیل کے ناقدین اسے ایک مسلمہ حقیقت سمجھتے ہیں، جبکہ ناقدین کے نزدیک یہ ایک پروپیگنڈا کتاب ہے جو ’’یہودی لابی‘‘ کے تصور کو ایک ناقابلِ اختلاف حقیقت کے طور پر پیش کرتی ہے۔
اس کے باوجود عرب دنیا میں یہ کتاب اتنی مقبول نہ ہو سکی جتنی سابق امریکی رکنِ کانگریس پال فنڈلےکی کتاب They Dare to Speak Out، جسے عرب دانشور حلقوں میں حد سے زیادہ پذیرائی ملی۔ 2019 میں فنڈلے کی وفات پر عرب میڈیا کے بڑے حصے نے انہیں غیر معمولی انداز میں خراجِ تحسین پیش کیا۔
فنڈلے کی تحریر زیادہ جارحانہ تھی اور انہوں نے امریکی حکومتوں اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کو منطق، مفاد اور اخلاقیات سے عاری قرار دیا۔ انہوں نے یہاں تک کہا کہ امریکی کانگریس دراصل اسرائیلی لیکوڈ پارٹی کا تسلسل بن چکی ہے، اور امریکا کی دو حکومتیں ہیں: ایک داخلی، جس کا سربراہ امریکی صدر ہے، اور دوسری خارجی، جسے AIPAC چلاتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اس موضوع پر ہونے والی بیشتر تحقیقات اصطلاح کی قانونی تطہیر اور محض مشاہدے تک محدود رہیں، اور اس سے آگے بڑھ کر اس مظہر کے جوہر اور عملی حقیقت کو میدانی سطح پر جانچنے کی کوشش کم ہی کی گئی۔
کیونکہ ایسی کتابوں کا بغیر کسی سزا یا پابندی کے شائع ہونا بذاتِ خود اس بیانیے کی نفی کرتا ہے کہ اسرائیلی یا یہودی لابی ناقابلِ تسخیر قوت ہے۔
مثال کے طور پر پال فنڈلی 22 برس تک کانگریس کے رکن رہے اور لابی انہیں انتخابی سیاست سے باہر نہ کر سکی، جیسا کہ نیویارک ٹائمز نے ان کے تعزیتی مضمون میں بھی تسلیم کیا۔
اسی طرح جان میئرشائمر اور اسٹیفن والٹ آج بھی اعلیٰ تعلیمی اداروں میں باوقار اساتذہ ہیں، حالانکہ Anti-Defamation League (ADL) جیسی طاقتور اسرائیل نواز تنظیمیں موجود ہیں، جو میڈیا، حکومتوں، جامعات اور قانون نافذ کرنے والے اداروں تک اثر رکھتی ہیں۔
مورخ زیکری فوسٹر کے مطابق ADL طویل عرصے سے اسرائیل پر تنقید اور یہود دشمنی کے درمیان دانستہ خلط کرتی آ رہی ہے۔
ڈیلی ٹیلیگراف میں امریکی تجزیہ کار ڈیوڈ فرَم سوال اٹھاتے ہیں:
اگر امریکی مشرقِ وسطیٰ پالیسی کی وجہ ’’یہودی اثر و رسوخ‘‘ ہے تو پھر نِکسن، کلنٹن اور جارج بش کے طرزِ عمل کی وضاحت کیسے کی جائے؟
مثال کے طور پر جارج ڈبلیو بش کو 2000 کے انتخابات میں صرف 19 فیصد یہودی ووٹ ملے، اس کے باوجود وہ اسرائیل کے سب سے بڑے حامی ثابت ہوئے۔
بل کلنٹن امریکی تاریخ میں یہودی برادری کے سب سے قریب سمجھے جاتے ہیں، انہوں نے بڑی تعداد میں یہودی پس منظر رکھنے والے افراد کو اہم عہدوں پر تعینات کیا، اور یہودی برادری نے بھی مالی طور پر ان کی بھرپور مدد کی۔
اس کے باوجود اسرائیل کے بارے میں سب سے سخت امریکی پالیسی کلنٹن ہی کی تھی۔ انہوں نے اسرائیل پر فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے شدید دباؤ ڈالا، یاسر عرفات سے بارہا ملاقات کی، اور انتفاضہ الاقصیٰ کے دوران اسرائیل سے یکطرفہ رعایتوں کا مطالبہ کیا۔
اس کے برعکس رچرڈ نِکسن کھلے عام یہود مخالف تھے، مگر 1973 میں اسرائیل کو تباہ کن شکست سے بچانے والے بھی وہی تھے۔
دسمبر 2023 میں جب امریکی ایوانِ نمائندگان نے صہیونیت اور یہود دشمنی کو برابر قرار دینے کی قرارداد منظور کی تو امریکی یہودی صحافی یاشا لیون نے سوال اٹھایا کہ آخر کیوں امریکا کی تقریباً تمام سرکاری و نجی ادارے اسرائیل اور اس کے قومی نظریے کی بھرپور حمایت کرتے ہیں؟
لیون اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ یہ حمایت کسی ’’یہودی لابی‘‘ کی وجہ سے نہیں بلکہ امریکا کی سامراجی حکمتِ عملی کا حصہ ہے، جس میں اسرائیل کو ایک مفید آلہ سمجھا جاتا ہے۔
ان کے مطابق اسرائیل ایسے لوگوں کے ہاتھ میں ہے جو ’’ہم جیسے‘‘ ہیں (یعنی سفید فام، یہودی، مسیحی)، جبکہ وہ ایک ایسے خطے میں واقع ہے جہاں ’’وہ لوگ‘‘ ہیں جو امریکا جیسے نہیں، اور جو امریکی غلبے کو قبول نہیں کرتے۔
یوں اسرائیل امریکا کے لیے ایک اسٹریٹجک، عسکری، ثقافتی اور حتیٰ کہ مذہبی مفاد بن چکا ہے۔
آخر میں مصنف یاد دلاتے ہیں کہ جو بائیڈن کا وہ جملہ—
’’اگر اسرائیل نہ ہوتا تو ہمیں اسے ایجاد کرنا پڑتا‘‘
اصل حقیقت کو بےنقاب کر دیتا ہے۔
یہ معاملہ کسی مذہبی عقیدے یا ’’یہودی لابی کے اساطیری تصور‘‘ سے زیادہ، امریکی مفادات اور طاقت کے استعمال سے جڑا ہوا ہے۔



