ہفتہ, فروری 14, 2026

Thsi is a sample text

مرکزاطلاعات فلسطین

اسلامی تحریک مزاحمت (حماس) کے بیرون ملک امور کے سربراہ خالد مشعل نے کہا ہے کہ فلسطینی قوم آج غزہ کی پٹی پر دو سال سے جاری نسل کشی کی جنگ کے بعد انتہائی دشوار گزار حالات کا سامنا کر رہی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جنگ کا رک جانا مصائب کے خاتمے کی علامت نہیں ہے، کیونکہ غزہ اور مغربی کنارے میں قابض اسرائیلی جارحیت اور خلاف ورزیاں بدستور جاری ہیں، اور اس خطے میں "صہیونی بدمعاشی” اور تسلط و محکومی کی کوششیں تھمی نہیں ہیں۔

قطر کے دارالحکومت دوحہ میں "قضیہ فلسطین اور علاقائی توازن” کے عنوان سے منعقدہ 17 ویں الجزیرہ فورم میں شرکت کے دوران خالد مشعل نے وضاحت کی کہ غزہ کے دکھ اب بھی برقرار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ مرحلہ صرف رفح گزرگاہ کھولنے سے کہیں آگے کے اقدامات کا متقاضی ہے، جس میں متاثرین کی بھرپور امداد، بے گھر افراد کی آبادکاری، اسرائیلی خلاف ورزیوں کا خاتمہ اور کسی بھی معاہدے کے پہلے مرحلے کی تمام شرائط پر مکمل عمل درآمد شامل ہے۔

انہوں نے اشارہ کیا کہ فلسطینی قوم اب دوسرے مرحلے کی جانب بڑھ رہی ہے جس میں اسلحہ سے دستبرداری، بین الاقوامی افواج، نام نہاد ” امن کونسل ” اور قابض اسرائیل کے زرد لائن سے پیچھے ہٹ کر غزہ کی پٹی سے مکمل انخلاء جیسے بڑے سوالات شامل ہیں۔ خالد مشعل کے مطابق یہ تمام معاملات تقدیر ساز چیلنجز ہیں جن سے نظریں نہیں چرائی جا سکتیں۔

حماس کے بیرون ملک ونگ کے سربراہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حماس دیگر تمام فلسطینی شراکت داروں کے ساتھ مل کر ایک ایسے سیاسی تحرک اور نقطہ نظر کی خواہاں ہے جو ایک جامع قومی ویژن سے نکلا ہو۔ اس کا مقصد بڑے مسائل کا عملی حل پیش کرنا ہے تاکہ غزہ کو اس کی اصل حالت میں بحال کیا جا سکے اور مغربی کنارے میں بھی اسی طرح کا لائحہ عمل تیار کیا جا سکے۔

خالد مشعل نے "طوفانِ اقصیٰ” اور غزہ پر مسلط نسل کشی کی جنگ کے نتائج پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ان واقعات نے "دنیا کی نیندیں اڑا دیں” اور قضیہ فلسطین کے حل کے بنیادی سوال کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ فلسطینی ریاست کے حوالے سے بین الاقوامی کانفرنسیں تو منعقد ہوئیں، لیکن اصل سوال اب بھی یہی ہے کہ: آگے کیا ہوگا؟

انہوں نے مزید کہا کہ قابض اسرائیل، امریکہ اور بعض بین الاقوامی فریق غزہ اور مغربی کنارے کو ایک بکھرے ہوئے جغرافیے اور ایک ایسی قوم کے طور پر ڈیل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جن کا آپس میں کوئی تعلق ہو نہ ہی ان کی کوئی قومی شناخت، مرجع یا سیاسی افق ہو۔

خالد مشعل نے جنگ کے سیاسی نتائج سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اصل مسئلہ "قبضے کا وجود” ہے اور قضیہ فلسطین کا ایک عادلانہ و جامع حل ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ 159 ممالک کی جانب سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا ایک مثبت قدم ہے لیکن یہ تب تک کافی نہیں جب تک یہ ریاست زمین پر ایک ٹھوس حقیقت نہ بن جائے اور یہی وہ "بڑا سوال” ہے جو فلسطینیوں، عربوں، مسلمانوں اور دنیا بھر کے حامیانِ فلسطین کے سامنے کھڑا ہے۔

فلسفہِ مزاحمت

اسی تناظر میں خالد مشعل نے فلسفہِ مزاحمت کا دفاع کرتے ہوئے واضح کیا کہ یہ ایک واشگاف اصول پر مبنی ہے: "جب تک غاصبانہ قبضہ موجود ہے، مزاحمت جاری رہے گی”۔ انہوں نے مزاحمت کو بین الاقوامی قوانین اور آسمانی شریعتوں کے تحت ایک جائز حق قرار دیا جو ان تمام اقوام کی یادداشت کا حصہ ہے جو اپنی جدوجہد کی تاریخ پر فخر کرتی ہیں۔

خالد مشعل نے اس "عجیب تضاد” پر کڑی تنقید کی جس میں ایک طرف تو اپنی بقا کی جنگ لڑنے والی فلسطینی قوم کا اسلحہ چھیننے کی باتیں کی جاتی ہیں اور دوسری طرف "ایجنٹ ملیشیاؤں” کے اسلحے کو جائز قرار دیا جاتا ہے۔ انہوں نے اسے خلا کو پُر کرنے کے لیے افراتفری پھیلانے کی سازش قرار دیتے ہوئے کہا کہ فلسطینی عوام اور مزاحمتی قوتیں اس منصوبے کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گی۔

انہوں نے کہاکہ "اسلحہ چھیننے کی بات دراصل ہماری قوم کو ایک آسان شکار بنانے کی کوشش ہے تاکہ ہر طرح کے بین الاقوامی اسلحے سے لیس قابض اسرائیل کے ہاتھوں ہمارا خاتمہ اور نسل کشی آسان ہو جائے”۔

انہوں نے مزید کہاکہ "ثالثین (قطر، ترکیہ اور مصر) اسلحے کے حوالے سے حماس کے موقف کو سمجھتے ہیں۔ ہم صہیونی دباؤ اور بلیک میلنگ سے ہٹ کر ‘ضمانتوں کے لائحہ عمل’ تک پہنچ سکتے ہیں، کیونکہ اصل خطرہ قابض اسرائیل سے ہے نہ کہ غزہ سے، غزہ کو تو خود بحالی کے لیے ایک طویل وقت درکار ہے”۔

حماس کے رہنما نے غزہ کی پٹی اور مقبوضہ زمین کے درمیان سکیورٹی باڑ پر امن برقرار رکھنے کے لیے بین الاقوامی افواج کی موجودگی کو ایک اور ضمانت قرار دیا۔ انہوں نے بتایا کہ حماس نے 5 سے 10 سال کی طویل جنگ بندی کی پیشکش کی ہے جس کے دوران اسلحہ استعمال نہیں ہوگا اور نہ ہی اس کی نمائش کی جائے گی۔ اس معاملے میں ثالث ممالک ضمانت بن سکتے ہیں۔

خالد مشعل نے توجہ دلائی کہ مسئلہ یہ نہیں کہ حماس اور غزہ کی مزاحمتی قوتیں ضمانت دیں "اصل مسئلہ قابض اسرائیل ہے جو فلسطینیوں کا اسلحہ چھین کر اسے اپنی حمایت یافتہ ملیشیاؤں کے ہاتھ میں دینا چاہتا ہے تاکہ افراتفری پیدا کی جا سکے، جیسا کہ ہم آج مجرم صہیونی دشمن کی حمایت یافتہ بعض مسلح گروہوں کی صورت میں دیکھ رہے ہیں”۔

انہوں نے فلسطینی مزاحمت کی تاریخ کو اس کے مجموعی تناظر میں دیکھنے کی دعوت دیتے ہوئے خبردار کیا کہ جدوجہد کے کسی بھی مرحلے کو اس کے پس منظر سے جدا نہ کیا جائے۔ انہوں نے سنہ 1920 کی دہائی کے آخر میں عز الدین القسام کے انقلاب، سنہ 1948 میں عبد القادر الحسینی کے معرکوں اور سنہ 1968 کے معرکہِ کرامت کی مثالیں دیں، جنہیں ابتدا میں مہم جوئی قرار دے کر مسترد کیا گیا تھا لیکن بعد میں یہی سنگِ میل ثابت ہوئے جنہوں نے امت کے حوصلے بلند کیے۔

خالد مشعل نے اعادہ کیا کہ غزہ پر قابض دشمن کی بار بار کی جارحیت کا بنیادی مقصد کسی بھی ایسے مقام کا خاتمہ ہے جہاں مزاحمت کا ڈھانچہ یا آزاد ارادہ موجود ہو۔ انہوں نے زور دیا کہ جب تک قبضہ برقرار ہے، مزاحمت کا تسلسل ایک اٹل حقیقت ہے، البتہ حالات کے مطابق اس کی شکلیں بدلتی رہتی ہیں—چاہے وہ انقلاب ہو، انتفاضہ ہو یا مسلح مزاحمت۔

قابض اسرائیل ایک وجودی خطرہ

دوسری جانب خالد مشعل نے کہا کہ عرب و مسلم امہ کا بطور خطہ قابض اسرائیل کے ساتھ مسئلہ صرف فلسطین پر قبضے تک محدود نہیں ہے، "بلکہ ہمارا یہ پختہ یقین ہے کہ یہ ریاست ہمارے لیے اور پورے خطے کے لیے ایک وجودی خطرہ ہے”۔

انہوں نے کہا: "کچھ لوگ کہہ سکتے ہیں کہ اسرائیل کا خطرہ صرف ان کے لیے ہے جو اس سے لڑتے ہیں، لیکن شام کی مثال دیکھیں؛ ابھی وہاں نیا نظام تشکیل ہی پا رہا تھا کہ اسرائیل نے اس سے دشمنی شروع کر دی، کیونکہ وہ وہاں کسی مستحکم ریاست کا وجود نہیں چاہتے اور شامی معاشرے کی ساخت کو بگاڑنا چاہتے ہیں”۔

خالد مشعل نے اشارہ کیا کہ مغربی کنارے میں جاری جبری بے دخلی اور بستیوں کی توسیع کے پیشِ نظر اردن کو سب سے بڑے خطرے کا سامنا ہے۔ "اسی طرح مصر ہے، ابھی چند روز قبل ہی بنجمن نیتن یاھو مصری فوج کی بڑھتی ہوئی طاقت پر اپنے خوف کا اظہار کر رہا تھا، اور یہی حال دیگر عرب و اسلامی ممالک کا ہے”۔

انہوں نے مزید کہا: "ہماری بطور عرب و اسلامی امت بقا کو صہیونی خطرہ لاحق ہے، اس لیے اس غیر متوازن جنگ میں اپنی حفاظت کے لیے ہمیں مشترکہ حکمتِ عملی اپنانی ہوگی اور عالمی سطح پر اپنا مقام تلاش کرنا ہوگا”۔

عالمی نظام میں تبدیلیاں

خالد مشعل نے عالمی رائے عامہ میں فلسطینی کاز کے حق میں آنے والی نمایاں تبدیلیوں کا بھی ذکر کیا، بالخصوص امریکہ اور یورپ کے نوجوانوں، یونیورسٹیوں اور سوشل میڈیا پر آنے والی تبدیلی اور سیاسی و ثقافتی اشرافیہ کے رویوں میں بتدریج بدلاؤ کی طرف اشارہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ اب دنیا قابض اسرائیل کو ایک اخلاقی، سیاسی اور معاشی بوجھ کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ ان کے بقول عالمی سطح پر عوامی غصے کی لہر ان عوامل میں سے ایک تھی جنہوں نے مغربی ممالک کے اندرونی استحکام کے خوف سے غزہ کی جنگ روکنے کے لیے دباؤ ڈالا۔

خالد مشعل نے دفاعی پوزیشن سے نکل کر سیاسی اور قانونی جارحیت اپنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کا بین الاقوامی سطح پر پیچھا کیا جائے اور اسے جنوبی افریقہ کے نسل پرست نظام کی طرح ایک "منبوذ ریاست” اور عالمی امن کے لیے خطرہ ثابت کیا جائے تاکہ فلسطینی بیانیہ عالمی سطح پر مزید جڑیں پکڑ سکے۔

انہوں نے عالمی نظام میں ہونے والی تبدیلیوں اور کثیر القطبی نظام (Multi-polarity) کے ابھرنے سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ عرب اور مسلمان عالمی طاقت کے توازن میں اپنا اثر و رسوخ دوبارہ قائم کر سکیں۔

مقالات ذات صلة

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

- Advertisment -
Google search engine

الأكثر شهرة

احدث التعليقات