
مرکزاطلاعات فلسطین
القدس گورنری نے کہا ہے کہ قابض حکومت کے وزیر برائے قومی سکیورٹی ایتمار بن گویر کا مقبوضہ القدس کی استعماری بستیوں میں آباد کاروں کو اسلحہ کے لائسنس جاری کرنے کے دائرہ کار میں توسیع کا اعلان اور ان کے بقول انہیں اسلحہ اٹھانے کا اہل قرار دینا ایک نسلی اشتعال انگیزی ہے۔ یہ ایک انتہائی خطرناک قدم ہے جس کا مقصد فلسطینی شہریوں کے خلاف مزید جرائم کے ارتکاب کی راہ ہموار کرنا ہے، وہ بھی ایک ایسے ماحول میں جو پہلے ہی آباد کاروں کی بڑھتی ہوئی جارحیت کی لپیٹ میں ہے۔
گورنری نے پیر کے روز جاری ایک بیان میں اس بات پر زور دیا کہ یہ پالیسی کھلے عام اور سرکاری سطح پر قتل و غارت گری اور قانون سے ماورا جرائم کی ترغیب دینے کے مترادف ہے۔ یہ انتہا پسندوں کو قانون ہاتھ میں لینے کا پروانہ فراہم کرتی ہے جو ان کے اس نظریے کے عین مطابق ہے جس کی بنیاد فلسطینیوں کے خلاف نفرت اور نسل پرستی پر رکھی گئی ہے۔
عبرانی اخبار ہارٹز نے رپورٹ دی ہے کہ القدس کے 41 مختلف محلوں میں رہنے والے تقریباً 3 لاکھ افراد اس نئی پالیسی کے تحت اسلحہ لائسنس حاصل کرنے کے اہل ہو جائیں گے، جبکہ ایتمار بن گویر نے اعلان کیا ہے کہ القدس کے تمام یہودی محلوں کے رہائشی اب اسلحہ رکھنے کا حق رکھیں گے۔
القدس گورنری نے اشارہ کیا کہ گذشتہ پانچ سالوں کے دوران القدس نے اپنے 140 سے زائد بیٹوں کی قربانی دی ہے جو جام شہادت نوش کر چکے ہیں، جن میں سے تقریباً آدھی تعداد بچوں کی ہے۔ یہ جانی نقصان قابض افواج اور آباد کاروں کی جانب سے برتی جانے والی منظم سفاکیت اور سرکاری اشتعال انگیزی کا نتیجہ ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ قابض حکومت کے وزراء اور بالخصوص ایتمار بن گویر کے اشتعال انگیز خطاب نے فلسطینیوں کے خلاف تشدد کی آگ کو براہ راست ہوا دی ہے، خاص طور پر 7 اکتوبر سنہ 2023ء کے بعد سے آباد کاروں کو مسلح کرنے اور انہیں مقبوضہ شہر میں فلسطینی شہریوں کو نشانہ بنانے پر اکسانے کی پالیسیوں میں تیزی آئی ہے۔
گورنری نے اس حقیقت کو اجاگر کیا کہ حالیہ برسوں میں آباد کاروں کے بڑھتے ہوئے جرائم ثابت کرتے ہیں کہ یہ حملے محض انفرادی کارروائیاں یا اکا دکا واقعات نہیں ہیں، بلکہ یہ منظم ریاستی دہشت گردی کی ایک شکل ہے جس کی مکمل ذمہ داری قابض حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ قابض حکومت آباد کاروں کو مسلح کر کے انہیں سیاسی، سکیورٹی اور قانونی تحفظ فراہم کر رہی ہے تاکہ انہیں فلسطینی شہریوں کی جبری بے دخلی اور طاقت کے زور پر زمینی حقائق تبدیل کرنے کے آلے کے طور پر استعمال کیا جا سکے۔
القدس گورنری نے عالمی برادری بشمول سلامتی کونسل، یورپی یونین، اقوام متحدہ اور اس کے ذیلی اداروں کے ساتھ ساتھ جنیوا کنونشن کے فریق ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان خطرناک پالیسیوں کے حوالے سے اپنی قانونی اور اخلاقی ذمہ داریاں پوری کریں۔ بیان میں مطالبہ کیا گیا کہ سلامتی کونسل کی قرارداد 904 کی روشنی میں آباد کاروں کو فوری طور پر نہتا کیا جائے اور ان مسلح گروہوں کو حاصل قابض حکومت کی حمایت اور تحفظ کا خاتمہ کیا جائے تاکہ فلسطینی شہریوں کے تحفظ اور ان کے خلاف بڑھتے ہوئے جرائم کی روک تھام کو یقینی بنایا جا سکے۔

