
مرکزاطلاعات فلسطین
اسلامی تحریک مزاحمت (حماس) کے رہنما محمود مرداوی نے مقبوضہ مغربی کنارہ میں آباد کاروں کے حملوں کو قابض حکومت کی سرپرستی میں ہونے والی منظم دہشت گردی قرار دیتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ فلسطینیوں کو ان کی سرزمین سے بے دخل کرنے کے تمام منصوبے ناکام ثابت ہوں گے۔
محمود مرداوی نے اتوار کے روز جاری کردہ ایک بیان میں ان بڑھتے ہوئے حملوں پر عالمی برادری کی خاموشی کے خلاف خبردار کیا اور فلسطینی عوام پر زور دیا کہ وہ عوامی تحفظ کے نظام کو فعال کریں اور اس جارحانہ تصادم کے مقابلے میں اپنے صمود (ثابت قدمی) کو مزید مضبوط بنائیں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ آباد کاروں کی جانب سے قتل و غارت، آتش زنی اور خوف و ہراس پھیلانے کے جرائم اپنے ان اہداف کو حاصل نہیں کر سکیں گے جن کا مقصد زمین کو اس کے اصل وارثوں سے خالی کرانا یا فلسطینی عوام کے ارادوں کو توڑنا ہے۔
حماس کے رہنما نے متنبہ کیا کہ عالمی خاموشی قابض اسرائیل اور اس کے آباد کاروں کو مزید انسانی حقوق کی پامالیوں اور جارحیت کی ترغیب دے رہی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان مظالم کو روکنے کے لیے سنجیدہ اور عملی اقدامات اٹھائے جائیں۔
محمود مرداوی نے نشانہ بننے والے دیہات اور قصبوں کے فلسطینی عوام سے اپیل کی کہ وہ باہمی اتحاد اور یکجہتی کو فروغ دیں اور ان وحشیانہ حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے عوامی دفاع کے تمام ممکنہ طریقے بروئے کار لائیں۔
اسی تناظر میں ہفتے کی شام اور اتوار کی علی الصبح آباد کاروں نے مغربی کنارہ کے 13 قصبوں اور بستیوں پر حملوں کا ایک سلسلہ شروع کیا جس کے نتیجے میں 7 فلسطینی زخمی ہوئے جبکہ کئی گھروں اور گاڑیوں کو نذر آتش کر دیا گیا۔
یہ حملے آباد کاروں کے صفحات کی جانب سے ریلیاں نکالنے کی کال کے بعد کیے گئے، جس کا بہانہ نابلس کے شمال میں واقع قصبے بیت امرین سے ایک چوری شدہ گاڑی کے الٹنے کے نتیجے میں ایک آباد کار کی ہلاکت اور دوسرے کے زخمی ہونے کو بنایا گیا۔
یہ انسانیت سوز کارروائیاں اس مسلسل تصادم کا حصہ ہیں جس کے دوران گذشتہ ماہ فروری میں قابض اسرائیل کی افواج اور آباد کاروں کے ہاتھوں 1965 حملے ریکارڈ کیے گئے۔ ان حملوں میں جسمانی تشدد، درختوں کو جڑوں سے اکھاڑنا، زمینوں کو آگ لگانا، املاک پر غاصبانہ قبضہ اور گھروں و دیگر تنصیبات کی مسماری جیسے گھناؤنے اقدامات شامل ہیں۔


