بعض فلسطینی مسلمانوں نے اپنی زمینیں یہودیوں کو فروخت کیں اور بعض علما نے اس کے جواز کا قول اختیار کیا تو عرب علما نے اس فعل کی حرمت کا فتویٰ دیا۔ فلسطینی حضرات نے اس مسئلے میں حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی کو استفتا ارسال کیا، جس کے جواب میں حضرت کی طرف سے بھی اس فتوے کی تائید میں ایک فتویٰ جاری کیا گیا جس میں یہود کو فلسطین کی زمین بیچنے کی حرمت دلائل کے ساتھ واضح کی گئی۔
سوال : شریعت مطہرہ میں ان مسلمانوں کے بارے میں کیا حکم ہے جو فلسطین کی پاک سرزمین لالچی یہودیوں کو بیچ رہے ہیں یا بیچنے میں ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں جبکہ یہودیوں کا مقصد مسلمانوں کو اس مقدس سر زمین سے نکال کر مبارک مسجد اقصیٰ پر قبضہ کرنا اور اس کی جگہ اپنی عبادت گاہ (ہیکل) بنانا ہے۔ اور بعض اسلام دشمن ممالک کی مدد سے کہ جو ہر طرح سے فلسطین کے خلاف برسر پیکار ہیں یہودی حکومت قائم کرنا ہے۔ آپ رہنمائی فرمائیں کہ انھیں اس فعلِ قبیح سے کیسے روکا جائے ؟ بعض علماے کرام نے ان مسلمانوں کے بارے میں کفر کا فتوی دیا ہے جو اپنی زمین یہود کو بیچتے ہیں یا دوسروں کی زمین بکوانے میں واسطہ بنتے ہیں۔ اس طرح وہ مسلمانوں کے خلاف اہل کفر کی مدد و اعانت بلکہ ان یہود کی دوستی کے مرتکب ہوتے ہیں جو دن رات مسلمانوں کو بلاد ِفلسطین اور خصوصا ًمسجد اقصیٰ سے نکالنے کے لیے کوشاں ہیں کہ جہاں سے اللہ تعالی اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج پر لے گیا تھا۔ نیز ان علما نے ان ( موالاتِ کفار کے مرتکب مسلمانوں) کے اسلام سے خروج کے سبب ، ان کی نماز جنازہ پڑھنے، اور انھیں مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنے کی ممانعت بھی بیان کی ہے ، تاکہ نفسانی وسوسے کے تحت اس گناہ کی طرف رغبت محسوس کرنے والوں کے لیے عبرت کا سامان ہو سکے ۔ علمائے کرام کے اس فتوے کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں اور اگر اس فتوے کے خلاف کوئی تنبیہ ہو تو ہمارے استفادے کے لیے اس کا بھی ذکر فرمائیں۔ اللہ تعالی آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے۔
جواب: ہم پہلے تمہیدی طور پر کچھ دلائل پیش کریں گے اور اس کے بعد سائل کے سوالوں کا جواب دیں گے۔ الدُر المختار میں جزیہ ادا کرنے والے ذمیوں کے احکام بیان ہوئے ہیں ، اس میں ایک یہ حکم بھی بیان کیا گیا ہے کہ ذمیوں کو اسلحہ استعمال کرنے بلکہ ساتھ رکھنے کی اجازت بھی نہیں، کیونکہ اسلحہ تو عزت و وقار کی علامت ہے۔ اس اصول کی بنیاد پر بہت سے احکام معلوم ہوتے ہیں اور یہ ایک جامع اصول ہے اور اس کی جزیات ہم الدُر المختار سے ذکر کرتے ہیں :
(1) اگر کوئی ذمی مکان خریدے یعنی وہ شہر میں مکان خریدنے کا ارادہ کرے تو اس کو مکان فروخت نہیں کیا جائے گا، اگر ذمی نے خرید لیا تو اس کو وہ مکان کسی مسلمان کو بیچنے پر مجبور کیا جائے گا۔ اور ایک رائے یہ بھی ہے کہ اگر ان کی زیادہ تعداد نہ ہو تو ان کو مجبور نہیں کیا جائے گا۔
(۲) یہ جملہ : اگر کوئی ذمی (ذمی فقہ اسلامی کی ایک اصطلاح ہے، جس سے مراد وہ غیر مسلم (اہل کتاب یا مشرک) ہیں جو اسلامی ریاست کی حدود میں امن و امان کے ساتھ رہنے کے لیے حکومت سے معاہدہ کرتے ہیں اور جزیہ ادا کرتے ہیں۔ "ذمہ” کا مطلب عہد اور حفاظت ہے، لہذا اسلامی حکومت ان کی جان، مال اور عزت کی حفاظت کی ذمہ دار ہوتی ہے۔ ) مکان خریدے ، اس کے بارے میں امام سرخسی رحمۃ اللہ علیہ نے شرح السِیر میں فرمایا: کہ اگر حاکم وقت نے مسلمانوں کے لیے ان کی سرزمین میں شہر آباد کیا جیسے حضرت عمرؓ نے شہر بصرہ اور کوفہ آباد کیا۔ چنانچہ ذمی لوگوں نے وہاں مکانات خریدے اور مسلمانوں کے ساتھ رہنے لگے۔ انھیں ایسا کرنے سے منع نہیں کیا گیا، کیونکہ مسلمانوں نے ان سے ذمی کے طور پر رہنے کا معاہدہ کیا تھا، اس حکمت کے پیش نظر کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ گھل مل کر رہتے ہوئے دین کی خوبیوں کو پہچان سکیں اور ایمان لے آئیں۔ شیخ الحلوانی فرماتے ہیں: کہ ذمیوں کو مسلمانوں کے ساتھ رہنے کی یہ رخصت اس وقت ہے جب زمیوں کی تعداد اتنی کم ہو کہ مسلمانوں کو ان کے رہنے سے تنگی نہ ہو اور نہ ہی مسلمانوں کی تعداد میں مقابلتاً کمی آئے۔ البتہ اگر ان کی تعداد اس قدر بڑھ جائے کہ مسلم برادری میں خلجان اور قلت کا باعث بنے ، تو ان کویہاں رہنے سے منع کیا جائے گا اور حکم دیا جائے گا کہ وہ ایسی جگہ رہیں جہاں مسلم برادری آباد نہ ہو۔
(۳) اگر ذمی شہر میں مسلمانوں کے ساتھ رہنے کے لیے مکان کرائے پر لیں تو یہ جائز ہے، کیونکہ اس سے ہمیں ہی فائدہ ہوگا، وہ یہ کہ ذمی ہمارے معاملات دیکھ کر مسلمان ہو جائیں گے ۔ امام الحلوانی فرماتے ہیں: ( مسلمانوں کے ساتھ گھل مل کر رہنے کی) یہ اجازت اس شرط کے ساتھ ہے کہ وہاں کے رہنے والوں کی اپنی آبادی کم نہ پڑ جائے۔ اگر وہاں کے مکینوں کی آبادی میں کمی ہوئی تو ان ذمیوں کو حکم دیا جائے گا کہ وہ مسلمانوں سے علیحدہ ہو جائیں اور ایسے علاقے میں رہیں جہاں مسلمان نہ ہوں ۔ یہی رائے امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے مروی ہے ( جو صاحب بحر الرائق نے الذخیرة البرہانیہ کے حوالے سے نقل کی ہے )۔
(۴) امام الحلوانی اور تُمُر تاشی کے کلام سے اجمالاً یہ معلوم ہوتا ہے کہ اگر مسلمانوں کے ساتھ انھی کے شہر میں رہنے سے مسلمانوں کو قلت کا اندیشہ ہو تو ذمیوں کو حکم دیا جائے گا کہ وہ شہر سے باہر کسی ایسے علاقے میں رہیں جہاں کوئی مسلم کمیٹی نہ ہو اور اگر یہ ضرر نہ ہو تودہ شہر میں مسلمانوں کے ساتھ گھل مل کر ان کے مطیع بن کر رہ سکتے ہیں۔ البتہ وہ الگ سے کسی خاص محلہ میں نہیں رہ سکتے کیونکہ اس طرح ان کو مسلمانوں کے شہرمیں وہ عزت و شرف حاصل ہو گا، جو مسلمانوں کو حاصل ہے۔
(۵) الدر المختار میں اسی مقام پر چند سطروں کے بعد” تنبیہ” کے عنوان کے تحت لکھا ہے کہ صاحب الدر المنتقیٰ کہتے ہیں کہ بعض علماے کرام کی رائے یہ ہے کہ ذمیوں کو مسلمانوں کی عمارتوں کے مقابلے میں اپنی عمارات کے بلند کرنے بلکہ برابری سے بھی منع کیا جائے گا۔ البتہ ان کی پرانی عمارات کو باقی رکھا جائے گا۔ پھر انھوں نے ایک طویل بحث کے بعد فرمایا : حدیث مبارکہ الَهُمْ مَا لَنَا وَ عَلَيْهِمْ مَا عَلَيْنَا» اس پر بات دلالت نہیں کرتی کہ ان کو وہی عزت و وقار دیا جائے جو مسلمانوں کو حاصل ہے۔ بلکہ اس اصولی حدیث کے ذریعے لین دین جیسے معاملات میں ان کو وہ تحفظات دیے جاسکتے ہیں جو عام مسلمانوں کو حاصل ہیں، اس کی دلیل یہ ہے کہ وہ (قرآنِ حکیم کی رو سے چھوٹے ہو کر رہنے کے پابند بنائے گئے ہیں اور انھیں اس کا پابند بنایا گیا کہ وہ مسلمانوں کے خلاف تمر دو سرکشی نہ کریں۔ اس مسئلے میں فقہائے شوافع نے تصریح کی ہے کہ ذمیوں کو مسلمانوں کے مقابلے میں عمارات بلند کرنے سے روکنا واجب ہے ( پس عمارتیں بلند کرنا ممنوع ہوا) اور اگر کسی ذمی کا پڑوسی مسلمان اگر اسے بلندی عمارت کی اجازت دے بھی دے تو تب بھی یہ جائز نہیں ہوتا، کیونکہ (یہ کسی فرد کا نہیں بلکہ ) خدا تعالیٰ اور اس کے دین کی تعظیم کا حق ہے جو کسی مسلمان کے اجازت دینے سے بھی ساقط نہیں ہو سکتا۔ پس ہمارے قواعد و ضوابط (تعظیمِ) کفر کی اجازت نہیں دیتے اور یہ بیان ہو چکا کہ کافروں کی تعظیم کرنا حرام ہے اور یہ پوشیدہ نہیں کہ عمارتوں میں بلندی وغیرہ سے ان کی تعظیم ہوتی ہے جو جائز نہیں ہے۔ اس مسئلے کے بارے میں مجھے یہی شرح ِصدر ہوا ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔ اور میں کہتا ہوں کہ اس باب میں اتنی کثرت سے روایات موجود ہیں کہ ان کا شمار نہیں کیا جا سکتا، بس جو ذکر کیا گیا ہے وہ ہی کافی و شافی ہے ، ان شاء اللہ ۔
حاصل یہ ہے کہ ما قبل میں مذکور پابندیاں تو صرف مکانات کے کرائے یا خرید و فروخت ، مکانات کی تعمیر و بنیاد اور دیوار و چھت کی بلندی وغیرہ کے معاملات پر لاگو کی گئی ہیں۔ تو سوچیں کہ (کفار کا مسلمانوں کی زمین خریدنااور مسلمانوں کا کفار کو اپنی زمینیں بیچنا کیسے جائز ہو سکتا ہے جبکہ زمین خریدنا، عزت و شوکت و طاقت کے اسباب میں سے ایک بڑا سبب ہے) لہذا یہ سخت ناجائز ہے )۔(دوسرے یہ کہ مذکورہ بالا ممانعت کا(حکم تو ذمیوں کے لیے ہے جو مسلمان حکومت کے تابع ہوتے ہیں ،جو کافر مسلمان حکومت کے تابع نہیں ہیں ان کے لیے ممانعت کا حکم کتنا سخت ہو گا ، اس کا اندازہ خود کر لیں ! خصوصا جبکہ انھیں اِستِسلام (فرمان برداری اور امن ) سے دور کا تعلق بھی نہیں۔ اور ان کا حال آیات ذیل کے موافق ہے (کہ وہ مسلمانوں کے لیے خطرہ ہی خطرہ ہیں ) : لا يَأْلُوْنَكُمْ خَبَالًا ﴾ (آل عمران : ۱۱۸) ” یہ تمھاری خرابی میں کوئی کسر نہیں رہنے دیتے۔ لَا يَرْقُبُونَ فِي مُؤْمِنٍ إِلَّا وَلَا ذِمَّةً وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُعْتَدُونَ﴾ (التوبہ: (۱) نہیں لحاظ کرتے کسی مسلمان کے حق میں قرابت کا اور نہ عہد کا اور وہ زیادتی کرنے والے ہیں۔ إِنْ يَثْقَفُوكُمْ يَكُونُوا لَكُمْ أَعْدَاءً وَ يَبْسُطُوا إِلَيْكُمْ أَيْدِيَهُمْ وَأَلْسِنَتَهُمْ بِالسُّوْءِ، وَوَدُّوا لَوْ تَكْفُرُوْنَ ﴾ (سورة المتحه : ۲) اگروہ تم پر دست رس پائیں تو اظہار عداوت کرنے لگیں اور تم پر برائی کے ساتھ دست درازی اور زبان درازی کرنے لگیں اور وہ تو یہ چاہتے ہی ہیں کہ تم کا فر ہی ہو جاؤ“۔ کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے: ”دوستو ! زمانے کے حوادث بہت سے ہیں۔ ان میں سب سے بڑا حادثہ بے وقوف جاہلوں کی سرداری ہے۔ اور زمانہ اپنی مدہوشی سے کب ہوش میں آئے گا کہ میں تو یہود کے عروج اور ان کی سرپرستی کو فقہائے اسلام (اور ان کے احکام) کی ذلت دیکھتا ہوں“۔ جہاں تک سوال کے دوسرے حصے (یعنی یہود کو زمینیں بیچنے یا سہولت کاری کرنے والوں کی نماز جنازہ نہ پڑھنے اور انھیں مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہ کرنے کے فتوے) کا تعلق ہے تو اگر یہ فتوی دینے والے حضرات ، صاحب بصیرت و حکمت مفتیان ہیں توان کا یہ فتوی موقع ومحل کے مطابق جائز اور قابلِ عمل ہے ) ۔ البتہ یہ جان لینا چاہیے کہ یہ ایک انتظامی نوعیت کا مسئلہ ہے اور ان معاملات میں علما و فقہا کو حق قیادت حاصل ہے۔ (پس اس فتوے پر عمل کرنا چاہیے) یہاں پر اس مسئلے کا جواب مکمل ہوا۔ واللہ اعلم بالصواب
ماخذ: بوادر النوادر ، نادرہ نمبر ۷۴


