
مرکزاطلاعات فلسطین
غزہ کی پٹی کے محصور عوام کو بجلی کی فراہمی کے بحران میں مزید شدت کا سامنا ہے جہاں تجارتی جنریٹر کے نرخوں میں غیر معمولی اضافے نے شہریوں کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔ جنگ کے دوران بجلی کے بنیادی ڈھانچے کی تباہی کے بعد یہ جنریٹر توانائی کا واحد ذریعہ بن چکے ہیں، تاہم فی کلو واٹ قیمت میں اضافے کے فیصلے نے عوامی سطح پر غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے۔ دوسری جانب متعلقہ حکام نے عوامی شکایات کے جواب میں ان جنریٹروں کے کام کو منظم کرنے کے لیے نئے اقدامات کا اعلان کیا ہے۔
مارکیٹ ذرائع کے مطابق بجلی کی قیمت 18 شیکل سے بڑھ کر تقریباً 25 شیکل فی کلو واٹ ہو گئی ہے (ایک ڈالر 3.12 شیکل کے برابر ہے) جبکہ بعض علاقوں میں یہ قیمت 27 شیکل تک جا پہنچی ہے۔ اس اضافے نے ان خاندانوں پر مالی بوجھ مزید بڑھا دیا ہے جو اپنی کم از کم ضروریات پوری کرنے کے لیے ان جنریٹروں پر انحصار کرتے ہیں۔
اہلِ غزہ کا کہنا ہے کہ معاشی ابتری، بے روزگاری اور آمدنی میں کمی کے باعث اس اضافے کے بعد وہ بجلی کا استعمال کم کرنے یا اسے مکمل طور پر ترک کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔
جنریٹروں کے کام کو منظم کرنے کے اقدامات
مارکیٹ میں پھیلی اس افراتفری کو روکنے کے لیے غزہ میں اتھارٹی برائے توانائی و قدرتی وسائل کے ایک ذمہ دار ذریعے نے تصدیق کی ہے کہ عوامی شکایات کے پیش نظر نجی جنریٹروں کے کام کو منظم کرنے کے لیے جلد قانونی اقدامات شروع کیے جائیں گے۔
مذکورہ ذریعے نے وضاحت کی کہ ان اقدامات میں سابقہ جمع شدہ سکیورٹی رقم کی واپسی، غیر مستحکم علاقوں میں سکیورٹی کی زیادہ سے زیادہ حد 150 شیکل مقرر کرنا اور نئے کنکشن کی فیس صرف ایک بار 50 شیکل سے زیادہ نہ ہونا شامل ہے۔
مزید برآں اتھارٹی ہفتہ وار بنیادوں پر بجلی کے استعمال کی کم از کم حد مقرر کرے گی جو حقیقی کھپت کی عکاسی کرے گی۔ ساتھ ہی فی کلو واٹ کی ایک ایسی قیمت مقرر کی جائے گی جو پیداواری لاگت اور صارفین و فراہم کنندگان کے درمیان انصاف کو ملحوظ خاطر رکھے۔ ذریعے نے متنبہ کیا کہ بجلی کے سرکاری نیٹ ورک یا کیبلز کی چوری میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی اور ان کے لائسنس منسوخ کر دیے جائیں گے۔
متبادل اور ہنگامی حل
غزہ میں بجلی کی تقسیم کار کمپنی کے ترجمان محمد ثابت کا کہنا ہے کہ جنریٹروں کا پھیلاؤ ایک ہنگامی حل کے طور پر سامنے آیا کیونکہ جنگ کے دوران بجلی کے نیٹ ورکس اور بنیادی ڈھانچے کا 80 فیصد حصہ تباہ ہو چکا ہے۔
محمد ثابت نے بتایا کہ کمپنی ضروری سامان کی دستیابی اور مرمت کے حالات سازگار ہوتے ہی اپنا کام دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جنریٹر مالکان کے ساتھ تعاون کا مقصد شہریوں کی مشکلات کم کرنا اور بنیادی خدمات کی فراہمی کو یقینی بنانا تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ جنریٹر مالکان کے ساتھ تعاون کا مقصد ان علاقوں تک بجلی پہنچانا تھا جہاں تجارتی منصوبے نہیں پہنچ سکے، بالخصوص پانی کے کنویں اور ہسپتال جیسے حیاتیاتی مراکز، اور اس کا مقصد منافع کمانا ہرگز نہیں ہے۔
خاندانوں پر اضافی بوجھ
دوسری جانب ایسوسی ایشن آف جنریٹر اینڈ آلٹرنیٹو انرجی اونرز کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں اضافے کی وجہ آپریٹنگ اخراجات میں بھاری اضافہ ہے، جس میں اسپیئر پارٹس کی قلت، ان کی مارکیٹ میں آمد میں رکاوٹ اور انجنوں کی مرمت میں استعمال ہونے والے صنعتی تیل کی قیمتوں میں اضافہ شامل ہے۔
ایسوسی ایشن نے مزید بتایا کہ ایندھن کی قیمتوں میں غیر معمولی طور پر 3000 فیصد سے زائد کا اضافہ ہوا ہے جس کا براہ راست اثر بجلی کی پیداواری لاگت پر پڑا ہے۔
معاشی تخمینوں کے مطابق غزہ میں ایک خاندان بجلی کے لیے ماہانہ اوسطاً 300 شیکل ادا کر رہا ہے، جو ان خاندانوں کے لیے ایک خطیر رقم ہے جو پہلے ہی آمدنی کے ذرائع ختم ہونے اور روزگار کے مواقع نہ ہونے کے باعث شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
ان حالات میں بجلی کا بحران غزہ کے باسیوں کے لیے روزمرہ کا ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے اور عوامی سطح پر ایسے پائیدار حل کے مطالبات زور پکڑ رہے ہیں جو ان شہریوں کا بوجھ کم کر سکیں جو قابض دشمن کی سفاکیت اور ناکہ بندی کے باعث مہنگی ترین توانائی خریدنے پر مجبور ہیں۔

