
مرکزاطلاعات فلسطین
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے قابض اسرائیل پر اپنی تنقید میں شدید اضافہ کرتے ہوئے اس کی پالیسیوں کو علاقائی حدود سے باہر پوری انسانیت کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔ یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور تہران کے درمیان اسلام آباد کی ثالثی میں سیز فائر کے باوجود لبنان پر اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ اسلام آباد ہفتے کے روز دونوں فریقین کے درمیان مذاکرات کی میزبانی بھی کر رہا ہے۔
خواجہ آصف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ایک پیغام میں کہا کہ قابض اسرائیل ایک شر اور انسانیت پر لعنت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک طرف اسلام آباد میں قیامِ امن کے لیے مذاکرات ہو رہے ہیں تو دوسری طرف لبنان میں نسل کشی کا بازار گرم ہے۔ اسرائیل کے ہاتھوں معصوم شہری قتل کیے جا رہے ہیں؛ پہلے غزہ، پھر ایران اور اب لبنان میں مسلسل اور بلا روک ٹوک خونریزی جاری ہے۔
وزیر دفاع نے اپنے سخت ردعمل میں مزید کہا کہ میں امید اور دعا کرتا ہوں کہ وہ لوگ جہنم کی آگ میں جلیں جنہوں نے یورپ کے یہودیوں سے چھٹکارا پانے کے لیے فلسطین کی پاک سرزمین پر اس کینسر زدہ ریاست کی بنیاد رکھی۔
انہوں نے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا کہ ان مسلسل خلاف ورزیوں کے خلاف مزید سخت موقف اختیار کیا جائے اور اس بات پر زور دیا کہ ان جرائم کے ذمہ داروں کا بین الاقوامی قانون کے مطابق احتساب ہونا چاہیے۔
پاکستان کے وزیر دفاع کے یہ بیانات متعدد اسلامی ممالک کے اس بڑھتے ہوئے سیاسی موقف کے تناظر میں سامنے آئے ہیں جنہوں نے اسرائیلی فوجی کارروائیوں، جانی نقصانات اور سنگین ہوتے ہوئے انسانی بحران کی شدید مذمت کی ہے۔


