اسیران کو سزائے موت کا صہیونی قانون ہر اس شخص کو نشانہ بنانے کے لیے ہے جو قبضے کے خلاف مزاحمت کرے: قدورہ فارس

0
10

مرکزاطلاعات فلسطین

فلسطینی اتھارٹی کے محکمہ امور اسیران کے سابق سربراہ قدورہ فارس نے دنیا بھر کے ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ قابض اسرائیل کو فلسطینی اسیران کو سزائے موت دینے کے اس قانون پر عمل درآمد سے روکنے کے لیے فوری طور پر حرکت میں آئیں جسے کنيست نے منظور کیا ہے۔

قدورہ فارس نے اس قانون کے حوالے سے خاموشی، جانبداری اور منافقت برتنے کے خلاف خبردار کیا جسے انہوں نے ایک مجرمانہ اور نسل پرستانہ قانون قرار دیا جو قابض اسرائیل کی اصل صورت کو بے نقاب کرتا ہے۔

الجزیرہ چینل کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اب عملی نوعیت کے اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے کیونکہ اس قانون کی منظوری خود ایک عملی اقدام ہے جس کی زد میں آ کر فلسطین کے دسیوں اور شاید سینکڑوں بیٹوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔

قدورہ فارس کا ماننا ہے کہ یہ نیا اسرائیلی قانون خاص طور پر فلسطین کے ان تمام بیٹوں کے لیے تیار کیا گیا ہے جو قابض اسرائیل کے خلاف برسرپیکار ہیں اور جدوجہد کر رہے ہیں۔ انہوں نے اشارہ کیا کہ اس اسرائیلی قانون کا مطلب یہ ہے کہ جس کسی نے بھی غاصبانہ قبضے کے خلاف مزاحمت کے پس منظر میں کسی اسرائیلی کو ہلاک کیا اس کے خلاف سزائے موت کی سزا نافذ کی جائے گی۔

انہوں نے توجہ دلائی کہ حالیہ برسوں کے دوران قابض اسرائیل ہر گزرتے دن کے ساتھ اپنے چہرے سے نقاب اتار رہا ہے تاکہ ایک نسل پرست فاشسٹ ریاست کے طور پر اپنی حقیقت دکھا سکے، انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ اس کے حالیہ قانون سے نسل پرستی کی وہ بدبو آ رہی ہے جسے دنیا مسترد کر چکی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ماضی میں تل ابیب نے اس بات کی حرص کی کہ وہ اپنی قانون سازی میں کسی حد تک مغربی دنیا کے ساتھ ہم آہنگ نظر آئے لیکن اب اسرائیل میں اقتدار کی باگ ڈور پر فاشسٹ نسل پرست دھاروں کے قبضے کے بعد وہ ایسی پالیسیاں اپنانے اور قوانین منظور کرنے پر اتر آیا ہے جو اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ وہ علاقائی اور بین الاقوامی امن کے نظام کے لیے ایک خطرہ بن چکا ہے۔

واضح رہے کہ گذشتہ پیر کی شام قابض اسرائیل کی کنيست نے دوسری اور تیسری خواندگی کے بعد مجموعی طور پر 62 موافق اور 48 مخالف ووٹوں سے فلسطینی اسیران کو سزائے موت دینے کے قانون کے مسودے کی حتمی منظوری دے دی ہے، جبکہ ایک رکن نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔ اس قانون کو قابض اسرائیل کے وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو کی مکمل حمایت حاصل ہے۔

قابض صہیونی عقوبت خانوں میں اس وقت 9500 سے زائد فلسطینی قید ہیں جن میں 350 بچے اور 66 خواتین شامل ہیں۔ فلسطینی اور اسرائیلی انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق یہ اسیران تشدد، بھوک اور طبی غفلت کا شکار ہیں جس کے نتیجے میں اب تک درجنوں اسیران اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

اکتوبر سنہ 2023ء سے قابض اسرائیل نے غزہ کی پٹی پر امریکہ کی حمایت سے مسلط کردہ اپنی جنگ کے ساتھ ساتھ فلسطینی اسیران کے خلاف اقدامات میں بھی انتہائی شدت پیدا کر دی ہے۔ اس جنگ کے نتیجے میں اب تک 72 ہزار سے زائد فلسطینی شہید اور تقریباً 172 ہزار زخمی ہو چکے ہیں جن میں اکثریت بچوں اور خواتین کی ہے جو فلسطینیوں کی نسل کشی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔