spot_img
spot_imgspot_imgspot_imgspot_img

متعلقہ خبریں

مزید خبریں

مقبوضہ مغربی کنارے میں وحشیانہ دھاوے، فلسطینیوں کے گھر فوجی بیرکوں میں تبدیل ، متعدد افراد زخمی

مرکزاطلاعات فلسطین قابض اسرائیلی فوج نے مقبوضہ مغربی کنارے کے...

ایران کا مذاکرات سے انکار، امریکہ کی زمینی فوج بھیجنے کی دھمکی، خلیج میں امریکی اڈوں پر حملے

مرکزاطلاعات فلسطین ایران امریکہ اور قابض اسرائیل کے درمیان تصادم...

لبنان پر صہیونی جارحیت کی شدید مذمت، کشیدگی کے نتائج کا ذمہ دار قابض اسرائیل ہے: حماس

مرکزاطلاعات فلسطین اسلامی تحریک مزاحمت ” حماس "نے لبنانی سرزمین...

القدس کو صہیونی کالونیوں میں تبدیل کرنے کی مہم، ایک ماہ میں 20 نئے آبادکاری منصوبے

  مرکزاطلاعات فلسطین میدان میں نئے حقائق مسلط کرنے کی دیوانہ...

ایران میں جاری امریکی اور صہیونی سفاکیت میں شہداء کی تعداد 555 تک پہنچ گئی: ہلال احمر

مرکزاطلاعات فلسطین ایرانی ہلال احمر نے اعلان کیا ہے کہ...

القدس سے تعلق رکھنے والی صحافیہ نسرین سالم العبد غاصب اسرائیل کی قید سے رہا

مرکزاطلاعات فلسطین

غاصب اسرائیلی افواج نےالقدس سے تعلق رکھنے والی فلسطینی صحافیہ نسرین سالم العبد کو رہا کر دیا ہے تاہم ان کی یہ رہائی انتہائی سخت اور جابرانہ شرائط کے ساتھ مشروط کی گئی ہے۔ ان شرائط میں نسرین سالم کو قبلہ اول مسجد اقصی سے بے دخل کرنا اور ان پر گھر میں نظر بندی (ہاؤس اریسٹ) جیسی پابندیاں شامل ہیں۔

وادی حلوہ انفارمیشن سینٹر القدس کے وکیل محمد محمود نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ صحافیہ نسرین سالم کی رہائی کے فیصلے میں دس دن تک گھر میں نظر بند رہنے اور 180 دنوں تک مسجد اقصی میں داخلے پر پابندی کی شرط عائد کی گئی ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ صہیونی عدالت کے اس ظالمانہ فیصلے میں یہ بھی شامل ہے کہ نسرین سالم اپنی نظر بندی کے دوران موبائل فون، سوشل میڈیا اور رابطے کے کسی بھی دوسرے ذریعے کا استعمال نہیں کر سکیں گی۔ اس کے علاوہ ان کی رہائی کے بدلے دو ہزار شیکل (تقریبا 640 ڈالر) کی نقد ضمانت بھی جمع کرائی گئی ہے۔

واضح رہے کہ غاصب اسرائیلی فورسز نے نسرین سالم العبد کو گذشتہ اتوار کے روز اس وقت گرفتار کیا تھا جب وہ القدس میں اپنی پیشہ ورانہ صحافتی ذمہ داریاں ادا کر رہی تھیں۔ گرفتاری کے بعد ان کی قید میں دو بار توسیع کی گئی۔ اگرچہ عدالت نے گذشتہ جمعرات کو ہی مذکورہ بالا شرائط پر ان کی رہائی کا حکم دیا تھا لیکن استغاثہ کی جانب سے اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کیے جانے کے باعث ان کی رہائی میں تاخیر ہوئی اور انہیں مسلسل اذیت کا نشانہ بنایا گیا۔

spot_imgspot_img