مرکزاطلاعات فلسطین
غاصب اسرائیلی افواج نےالقدس سے تعلق رکھنے والی فلسطینی صحافیہ نسرین سالم العبد کو رہا کر دیا ہے تاہم ان کی یہ رہائی انتہائی سخت اور جابرانہ شرائط کے ساتھ مشروط کی گئی ہے۔ ان شرائط میں نسرین سالم کو قبلہ اول مسجد اقصی سے بے دخل کرنا اور ان پر گھر میں نظر بندی (ہاؤس اریسٹ) جیسی پابندیاں شامل ہیں۔
وادی حلوہ انفارمیشن سینٹر القدس کے وکیل محمد محمود نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ صحافیہ نسرین سالم کی رہائی کے فیصلے میں دس دن تک گھر میں نظر بند رہنے اور 180 دنوں تک مسجد اقصی میں داخلے پر پابندی کی شرط عائد کی گئی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ صہیونی عدالت کے اس ظالمانہ فیصلے میں یہ بھی شامل ہے کہ نسرین سالم اپنی نظر بندی کے دوران موبائل فون، سوشل میڈیا اور رابطے کے کسی بھی دوسرے ذریعے کا استعمال نہیں کر سکیں گی۔ اس کے علاوہ ان کی رہائی کے بدلے دو ہزار شیکل (تقریبا 640 ڈالر) کی نقد ضمانت بھی جمع کرائی گئی ہے۔
واضح رہے کہ غاصب اسرائیلی فورسز نے نسرین سالم العبد کو گذشتہ اتوار کے روز اس وقت گرفتار کیا تھا جب وہ القدس میں اپنی پیشہ ورانہ صحافتی ذمہ داریاں ادا کر رہی تھیں۔ گرفتاری کے بعد ان کی قید میں دو بار توسیع کی گئی۔ اگرچہ عدالت نے گذشتہ جمعرات کو ہی مذکورہ بالا شرائط پر ان کی رہائی کا حکم دیا تھا لیکن استغاثہ کی جانب سے اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کیے جانے کے باعث ان کی رہائی میں تاخیر ہوئی اور انہیں مسلسل اذیت کا نشانہ بنایا گیا۔



