*اہل غزہ کے عزم وحوصلہ کی ایک جھلک* 

0
12

✍️عبدالناصرترمذی
جامعہ حقانیہ ساہیوال سرگودھا 
  جب سے ٧/اکتوبر٢٠٢٣ء کا”معرکۃ طوفان الاقصیٰ” شروع ہوا،دل ہرلمحہ فلسطینی مسلمانوں اور قبلہ اول کے لیے مضطرب رہتاہے، اسرائیل کاظلم وتشدداوربربریت جسے دیکھ اورسن کرسخت سے سخت دل والابھی نرم پڑجائے امت مسلمہ کے اجتماعی ضمیر کوبیدار کرنے میں ناکام رہاہے، اوردوسال سے زیادہ کاعرصہ گزرنے کے باجوودعالم اسلام کے کسی گوشے سے بادصباکاکوئی ایساجھونکانہیں چلاجوغزہ کے تپتے ہوئے آتشکدہ میں سلگتے مسلمانوں کے لیے ٹھنڈک کاکچھ سامان کرسکے،اگریہ کہاجائے توغلط نہ ہوگاکہ تمام مسلم حکمرانوں نے قبلہ اول کواپنے عارضی مفادات پرقربان کردیاہے،فالی اللّٰہ المشتکیٰ۔
 الحمدللہ ٧/اکتوبر٢٠٢٣ء کے فوراًبعدسے ہی غزہ میں اپنے کچھ دوستوں سے رابطہ رہا،بالخصوص اپنے انتہائی مکرم ومحترم بھائی ڈاکٹرمحمدالجریسی حفظہ اللہ کے اہل خانہ سے۔

ڈاکٹرمحمدالجریسی سے ٢٠٢٣ء کے سفرِحج میں جنگ شروع ہونے سے تقریباًتین ماہ قبل مسجد الحرام میں تفصیلی ملاقاتیں ہوئی تھیں اورپاکستان واپسی کے بعدبھی ان سے مسلسل رابطہ رہا۔

 اکتوبر٢٠٢٥ء میں ہونے والی حالیہ جنگ بندی کے بعدمیں نے غزہ میں ڈاکٹر محمدالجریسی کے صاحبزادے عمرالجریسی سے رابطہ کی کوشش کی لیکن رابطہ نہ ہوسکا،نومبر ٢٠٢٥ء میں بندہ عمرہ کے سفرپرتھاتوان کادرج ذیل پیغام موصول ہواجس میں انہوں نے اپنی اوراپنے والدصاحب کی خیریت سے آگاہ کیا۔

   أخی الحبیب الغالی الشیخ عبد الناصر أعتذر عن التآخر فی الرد بسبب ضعف شبکۃ الإنترنت علی کل حال الحمد للہ بالرغم من وقف إطلاق النار إعلامیا إلا أنہ فی الحقیقۃ لایوجد وقف لاطلاق النار وکل یوم نشہد تفجیرات وقصف وإطلاق نار علی أہلنا العائدین إلی بیوتہم المقصوفۃ والمدمرۃ، وکذلک مازالت الأوضاع منہکۃ ومؤلمۃ لوقع الحصار الصہیونی إذا لازال حتی اللحظۃ الناس تعانی من قلۃ توافر السلع الأساسیۃ،ہذا فضلاً عن الأسعار الفلکیۃ والخیالیۃ للأسعار، من قبل التجار المجرمین، وہناک احتمالیۃ عالیۃ لتجدد العدوان الصہیونی خلال المراحل المقبلۃ، ونسأل اللہ لنا ولکم ولجمیع المسلمین الآمن والآمان والسلام یا رب العالمین. 

وأشکرک من أعماق قلبی علی إہتمامک وسؤالک عنا وعن أحوالنا وجزاک اللہ خیراً ، وبارک فیک وفی کل أفراد عائلتک الکریمۃ المبارکۃ.

    لاتنسانا من الدعاء یا أخی فقد نسینا المسلمون والعرب وترکونا لقمۃ سائغۃ فی أیدی الظلمۃ والکفرۃ۔

 جب انہیں معلوم ہواکہ میں عمرہ کے مبارک سفرپرہوں توانہوں نے ٧/اکتوبر کے معرکہ میں شریک اورشہادت سے سرفرازہونے والے اپنے بھائی فتحی الجریسی کے لیے عمرہ کی خواہش کااظہارکیاجن کی میت اسرائیل نے دوسال کے بعدابھی حالیہ معاہدہ میں دوروزقبل ہی واپس کی تھی،اسی طرح اپنے والدکے دوست کے بیٹے ابوالعوف احمدایادجمیل کے لیے بھی عمرہ کی خواہش ظاہرکی، جنہوں نے اکتوبر٢٠٢٣ء کے معرکہ میں ہمت وبہادری کی مثالیں قائم کرتے ہوئے جام شہادت نوش کیا تھااوران کی میت تاحال اسرائیل کے قبضہ میں ہی ہے۔

 أخی الحبیب فضیلۃ الشیخ عبد الناصر أود أن أطلب منک طلب، وہو إذا کان لدیک إمکانیۃ ووقت لأداء مناسک العمرۃ عن روح أخی الشہید فتحی محمد الجریسی والذی صادف قبل یومین الذکری الثانیۃ لاستشہادہ فی 2023/11/2وعمرۃ عن روح ابن صدیق أبی المجاہد الشہید أحمد إیاد جمیل أبو العوف أحد أبطال یوم العبور یوم السابع من أکتوبر ، والذی فقد جثمانہ لدی العدو ولم یتم تسلیم جثتہ حتی الآن۔
   بندہ نے اس سعادت کواپنے لیے غنیمت سمجھتے ہوئے ان دونوں حضرات کی طرف سے الگ الگ عمرہ اداکیا،فللّٰہ الحمدولہ الشکر۔

  سوادوسال کے اس طویل عرصہ میں برادرم ڈاکٹر محمد الجریسی سے بہت کم رابطہ ہوا، زیادہ ترمصرمیں علاج کے لیے موجودان کے والدین اورغزہ میں ان کے صاحبزادے عمرالجریسی سے رابطہ رہا۔لیکن چندروزقبل ڈاکٹرمحمدالجریسی حفظہ اللہ کی طرف سے محبت والفت سے لبریزتفصیلی پیغام موصول ہوا، جس کاہرہرحرف ان کی عظمت وبڑائی،حوصلہ وجرأت مندی،اور تشکروامتنان کاشاہدعدل ہے۔

  محض لفظی خبرگیری،حوصلہ افزائی کے چندکلمات کے جواب میں جن بلندوبالا الفاظ میں انہوں نے اپنے جذبات کا اظہارکیاوہ یقینا غزہ کے پختہ ایمان ویقین اور اخوت ایمانی سے بھرپورقبلہ اول کے ان محافظین ہی کا خاصہ ہے۔

اپنی بساط کی حدتک اہل قدس کا ہرممکن تعاون ہماری قومی ،ملی اورایمانی ذمہ داری ہے،دعاہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے اس فریضہ سے صحیح معنیٰ میں سبکدوش ہونے کی توفیق عطافرمائیں،آمین۔

  ان شاء اللہ وہ دن دورنہیں جب مسجداقصیٰ کی عظمت وحرمت کے لیے بہائے جانے والے اہل قدس کے پاکیزہ لہوسے وہ صبح شفق رنگ طلوع ہوگی جو ظلمت بھری اس تاریک رات کے چہرے سے نقاب کھینچ کراجالوں بھرے دن کی نویدسنائے گی ؎

لوٹے گی تیری عظمت رفتہ پھرایک دن

اقصیٰ فہیم ؔکواسی دن کی تلاش ہے

    ذیل میں برادرم ڈاکٹرمحمد الجریسی حفظہ اللہ کااصل پیغام مع عربی ترجمہ ملاحظہ فرمائیں :

بسم اللہ الرحمن الرحیم

    الحمد للہ رب العالمین،الذی جعل من أرض فلسطین مُبارکۃً إلی العالمین، وخصَّ بیت المقدس بشرف القُدسیۃ والقُربۃ، ورفع فوق أرضہا سماء ً تُناجی خالقہا، وجعلہا أرض الرباط والجہاد إلی یوم الدین.

    وأصلی وأسلم علی خاتم الأنبیاء والمرسلین، سیدنا محمد، الذی أُسری بہ إلی ہذہ الأرض الطاہرۃ، معراجاً إلی السماوات العلی، وعلی آلہ وصحبہ ومن تبعہم بإحسان إلی یوم الدین.

    الحمد للہ علی شرف الدفاع عن حرمٍ قدسہ الأنبیاء ، وعلی عظیم الصبر فی زمن المحن. والصلاۃ والسلام علی سیدنا محمدٍ، النبیّ الأمی، الذی أَسری بہ ربُّہ من المسجد الحرام إلی المسجد الأقصی، لیربط الأرض بالسماء،والوعد بالتحقیق. وعلی آلہ وأصحابہ، الذین حملوا مشعل الہدی إلی العالمین.

  أما بعد:أخی الحبیب، عمیدَ الإنسانیۃ، الشیخ الجلیل عبد الناصر

    سلامٌ من اللہ یغشاک، ورضوانٌ یظلُّک، وبرکۃٌ تتنزّل علی قلِبک الذی وسِعنا جمیعاً.    

    السلام علیک یا سندی ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

    أکتب إلیک والقلب یرفرف بین مشاعر لا تستطیع الحروف حملہا.. کیف لی أن أشکرک؟ وکیف للکلمات أن توفیک حقک؟ لقد جعلت للأخوۃ فی اللہ معنی یلامس السماوات.

   لقد تحولت عنایتک إلی نعمۃ تلمس حیاتنا فی أقسی لحظاتہا:

    اتصالاتک ورسائلک لوالدی فی مصر أثناء رحلۃ علاجہما…یا لہ من وفاء نادر!فی وقت ینسی الناس بعضہم، تتذکرہم أنت، وتتواصل معہم بجانب من أحببتہم فی اللہ۔لقد کانت اتصالاتک بلسماً لجروح الغربۃ، وتذکیراً بأن المحبۃ الإیمانیۃ أقوی من کل المسافات.

    اتصالک ورسائلک ومقاطعک الصوتیۃ التی کنت ترسلہا لابنی عمر فی غزۃ….تلک الرسائل التی قرأتہا أو سمعتہا کنت أشعر بأنہا کانت تزرع فی قلبہ الطمأنینۃ، وتذکرنا جمیعاً بأن ہناک من لا ینسی. فی زمن القسوۃ، کنت أنت الید الحانیۃ، والقلب الکبیر الذی یمدّ جسور الأمل عبر الخطوط المحطمۃ.

    أداؤک لمناسک العمرۃ عن روح ولدی الشہید فتحی..

   ہذا الصنیع الذی ہزّ قلبی من الأعماق!أن تؤدی العمرۃ فی أقدس بقاع الأرض، وتجعل ثوابہا ہدیۃ لروح ابنی الحبیب…ہذا لیس مجرد وفائ، بل ہو ذروۃ الإحسان، وقمۃ الإیثار الروحی. لقد منحتنی شیأاً لا یقدر بثمن: شعوراً بأن فتحی لیس وحیداً، بل لہ من یدعو لہ فی بیت اللہ الحرام!

    لٰکنّ الفعل الذی ہزَّ أعماق روحی، وذکَّرنی بأنّ الرحمۃ لا تزال تنبض فی صدر ہذہ الأمۃ،ھو أداؤک لمناسک العمرۃ عن روح ولدی الشہید فتحی.

    لقد أعدْتَ إلیہ، بہذہ البِشارۃ الروحیۃ، حیاۃً من نوعٍ آخر. لقد جعلتَ روحہ تَحُجُّ إلی بیت اللہ، وتطوفُ فی فضاء ات الرحمۃ، وتشربُ من زمزمِ المغفرۃ. ہذا ہو أعظم عزاء ٍ لقلبٍ مُثْخَنٍ بالفقدان.

  یا شیخنا الفاضل، لقد تجاوزتَ بفعلک کلَّ حدود الواجب، ورقیتَ إلی مرتبۃ ”الإحسان”التی ہی أن تعبد اللّٰہ کأنک تراہ. لقد رأیت فیک تجسیداً حیاً لقولہ تعالی:”وَتَعَاوَنُوا عَلَی الْبِرِّ وَالتَّقْوَی”۔

    أنت لم تسعی بجسدک فحسب، بل سعیتَ وطوفتَ بأعزّ ما تملک: بدعواتک فی أقدس البقاع، وبخطواتک فی أشرف المساعی.

    جزاک اللہ عنّا خیرَ ما یجزی بہ عبداً جمع بین المروء ۃ والإیمان، والوفاء والإحسان.جعل اللہ عمرک مُبارکاً، وقلبک مُنیراً، وذِکرک طیباً فی الدنیا والآخرۃ.وأسأل اللہ أن یکتب أجرک، ویضاعف مثوبتک، ویجعل کل خطوۃٍ خطوتہا فی الحرم، وکل دعوۃٍ نطقت بہا شفیعاً لک یوم تلقاہ.

   أنت نعمۃ من نِعَم اللہ علینا، ولا نزال نذکر یوم جمعنا الحرم بإخوّۃٍ صادقۃ، فخرَجنا منہا بإخوۃٍ مثلک، ہم زادُ الدنیا وزینتُہا.

    أخی الحبیب، یا من جمعنی بک الحرم المکی، لقد کنت أکثر من أخ.. کنت السند الحقیقی، والقلب الرحیم، والید الباسطۃ فی وقت الضیق. لقد علمتنی دروساً فی معانی الإنسانیۃ والإیمان لا أنساہا ما حییت.

    أسأل اللہ العظیم، رب العرش الکریم، أن یجزیک عنی خیر الجزائ، ویبارک فی عمرک وأہلک، ویرزقک من حیث لا تحتسب، ویجعل لک روضۃ من ریاض الجنۃ، ویحشرک مع النبیین والصدیقین والشہداء والصالحین.

    کم أنا محظوظ لأن ربی جمعنی بک فی الدنیا، وأسألہ أن یجمعنا فی الفردوس الأعلی.

    دمت لی أخاً عزیزاً، وسنداً مبارکاً، وقلباً نقیاً یضیء الدرب لکل من حولہ.

   أخوک الممتن حتی آخر نبض فی قلبہ

   أخوکم (الدکتور/محمد الجریسی أبو عمر)

     قطاع غزۃ ( فلسطین المحتلۃ)

                ٢٦/١/٢٠٢٦م

اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان، رحم فرمانے والا ہے
  تمام تعریفیں اللہ ربّ العالمین کے لیے ہیں، جس نے سرزمینِ فلسطین کو تمام جہانوں کے لیے بابرکت بنایا، بیت المقدس کو خاص تقدس اور قربت عطا فرمائی، اس کی فضا کو اپنے خالق سے ہم کلام ہونے کا شرف بخشا، اور اسے قیامت تک رباط اور جہاد کی سرزمین قرار دیا۔

    درود و سلام ہوں خاتم النبیین، ہمارے آقا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپر، جنہیں اسی پاک سرزمین تک راتوں رات معراج کے سفر میں جاتے ہوئے لا یا گیا، اور ان کی آل، صحابہ اور قیامت تک نیکی کے ساتھ ان کی پیروی کرنے والوں پراللہ تعالیٰ کی بے شمار رحمتیں نازل ہوں ۔

    اللہ کا شکر ہے کہ اس نے ان مقدس مقامات کے دفاع کا شرف عطا فرمایا،جو کہ انبیاء کا مسکن وٹھکانہ رہے ہیں اور آزمائشوں کے زمانے میں صبر کی توفیق دی۔ درود و سلام ہوں ہمارے نبی اپر جنہیں اللہ تعالیٰ نے مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ تک لے جا کر زمین کو آسمان سے جوڑ دیا، اوراپنے وعدے کو سچ کردکھایا۔

اما بعد:میرے عزیز بھائی، انسانیت کے علمبردار، مکرم و محترم عالم دین شیخ عبد الناصر صاحب!

    اللہ کی طرف سے آپ پر سلامتی ہو، اس کی رضا آپ کو ڈھانپ لے، اور اس کی برکتیں آپ کے اس دل پر نازل ہوں جس میں ہم سب سمائے ہوئے ہیں۔

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

  میں آپ کو یہ خط ایسے دل کے ساتھ لکھ رہا ہوں جس کے جذبات کو الفاظ سمیٹ نہیں سکتے۔ میں آپ کا شکریہ کیسے ادا کروں؟ الفاظ آپ کے احسان کا حق کیسے ادا کریں؟ آپ نے اللہ کے لیے بھائی چارے کو ایک ایسا معنی دیا ہے جو آسمانوں کی بلندیوں تک پہنچتا ہے۔

    آپ کی توجہ اور محبت ہماری زندگی کے مشکل ترین لمحوں میں نعمت بن کر اتری: مصر میں میرے والدین کے

علاج کے دوران آپ کے فون اور پیغامات کتنی نایاب وفاداری ہے! ایسے وقت میں جب لوگ ایک دوسرے کو بھول جاتے ہیں، آپ نے ہمیںیاد رکھا، حال احوال پوچھا، اور دل جوئی کی۔ آپ کی باتیں پردیس کے زخموں پر مرہم بن گئیں، اور یہ یقین دلا گئیں کہ ایمانی محبت فاصلے نہیں دیکھتی، بلکہ لمبی سے لمبی مسافتیں بھی اس ایمانی محبت و اسلامی مودت میں سمٹ کر رہ جاتی ہیں ۔

  غزہ میں میرے بیٹے عمر کو بھیجے گئے آپ کے پیغامات اور صوتی ریکارڈنگز وہ الفاظ اس کے دل میں سکون اتارتے تھے، اور ہمیں یاد دلاتے تھے کہ اب بھی ایسے لوگ ہیں جو نہیں بھولتے۔ ظلم اور سختی کے دور میں ٹوٹے ہوئے راستوں اور شکستہ منزلوں کے باوجودآپ ایک شفقت بھراہاتھ اورامیدسے بھرادل بن کرہمارا سہارابنے۔

    اور پھر میرے شہید بیٹے ”فتحی” کی روح کے لیے آپ کا عمرہ ادا کرنا یہ عمل میرے دل کو ہلا گیا۔ اللہ کے سب سے مقدس گھر میں جا کر میرے بیٹے کی روح کو ثواب پہنچانا محض احسان نہیں، بلکہ روحانی ایثار کی انتہا ہے۔ آپ نے مجھے وہ تسلی دی جس کی کوئی قیمت نہیں: یہ احساس کہ میرا” فتحی” اکیلا نہیں، اس کے لیے بیت اللہ میں کوئی دعا کرنے والا ہے۔

    آپ کے اس مبارک اور انوکھے عمل اور دلربا ادا سے میرا رواں رواں آپ کے اس احسان عظیم کا شکر گزار ہے ، آپ نے میرے تن بدن میں گویا خوشی کی ایک عجیب لہر دوڑا دی اور مجھے ان سخت ترین لمحات میں یہ یاد دلایا کہ اس امت میں جانباز ،غزہ کے غیور مجاہد مسلمانوں کے لئے دھڑکتے دل ابھی ہیں جس کی ایک ادا اور جھلک آپ کے میرے لخت جگر ”فتحی” کے لئے عمرہ ادا کرنا ہے ۔جدائیوں اور دکھوں سے چور ایک زخمی دل کے لئے یہ سب سے بڑا اور زیادہ تسلی کا سامان ہے ۔

  اس عظیم الشان خوش خبری اور روحانی بشارت کے ذریعے گویا آپ نے اسے ایک نئی انوکھی زندگی دے دی ہے ، گویا کہ میرا ”فتحی” شہید کہ اس کی روح بیت اللہ کے گرد مناسک حج وعمرہ کی ادائیگی کے لئے دیوانہ وار لپکتی اور بڑھتی جارہی ہے ، اور رحمت الٰہی کی ان بیش بہا فضاؤں میں طواف کررہی ہے، اور اللہ تعالیٰ کی مغفرت ورحمت کے بھرے زم زم کے جام پی پی کر خوب خوب سیرابی حاصل کررہی ہے اور دنیائے ظلم و استبداد کو بتا رہی ہے کہ اے ظالم درندو تم ہمارا پانی جس قدر بھی بند کرلو ،ہم شہادت کے عظیم رتبہ پر۔ پہنچ کر کبھی پیاسے نہیں رہ سکتے ۔، سب سے زیادہ تسلی بخش تعزیت تو یہی ہے نا ۔۔۔

   اے محترم شیخ!آپ نے اپنے عمل سے فرض کی حد پار کر کے احسان کے مقام کو چھو لیا جس میں گویا آپ اسی حدیث نبوی اور لسان نبوت سے نکلے ہوئے موتی کا مصداق ہیں جس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ”تو اللہ کی عبادت اس طرح کر کہ تو گویا اسے دیکھ رہا ہے ”۔

     میں نے آپ میں اللہ کے اس فرمان کی جیتی جاگتی تصویر دیکھی کہ:نیکی اور تقویٰ میں ایک دوسرے کی مدد کرو۔

    آپ نے صرف جسم کے ساتھ نہیں،بلکہ اپنی دعاؤں، قدموں اور خلوص کے ساتھ سب سے زیادہ قابل فخروعزت مقام کی سعی کی اورسب سے اونچے مقام کا طواف کیا۔

    اللہ آپ کوایسا بہترین بدلہ عطا فرمائے جیسا کہ اللہ تعالیٰ اپنے اس بندے کو نوازتے ہیں جس نے ایمانی اور انسانی مروت کی پاسداری کی ، اور وفاؤں اور احسانات کا حق ادا کردیا ہو ۔ آپ کی عمر میں برکت دے، دل کو نور سے بھر دے، اور دنیا و آخرت میں آپ کا ذکر خیر قائم رکھے۔

    اللہ آپ کے ہر قدم، ہر دعا اور ہر نیکی کو قیامت کے دن آپ کے لیے نجات کا ذریعہ بنائے جو قدم آپ نے ہمارے لئے حرم میں اٹھائے جو جو ان مقدس فضاؤں میں ہمارے لئے دعائیں مانگیں ۔ اور آپ کے اجر وثواب کو خوب سے خوب بڑھائے ۔

    آپ واقعی ہمارے لیے اللہ کی نعمت ہیں۔ ہمیں آج بھی وہ دن یاد ہے جب حرم نے ہمیں بھائی بنایا، اور ہم وہاں سے آپ جیسے بھائی لے کر لوٹے جو دنیا کی اس فانی زندگی میں ہمارے لیے سرمایہ ہیں۔بے شک اس دنیا کی چمک دمک آپ جیسے مخلص دوستوں سے ہی ہے۔

   میرے پیارے بھائی!جیسے حرم مکی کی مقدس ،روح پرور فضاؤں نے ہمیں بھائی چارہ دیا آپ محض میرے لئے ایک بھائی ہی نہیں رہے، بلکہ سچا سہارا، مہربان دل اور مشکل وقت کا مضبوط ہاتھ ثابت ہوئے۔ آپ نے مجھے انسانیت اور ایمان کے وہ اسباق سکھائے جو میں زندگی بھر نہیں بھولوں گا۔

    میں اللہ رب العرش العظیم سے دعا کرتا ہوں کہ:وہ آپ کو میری طرف سے بہترین جزا دے، آپ کے اہل و عیال میں برکت دے، آپ کو وہاں سے رزق عطا کرے جہاں سے گمان بھی نہ ہو، اور جنت کے ہرے بھرے مہکتے ہوئے باغات کو آپ کا ٹھکانہ ومسکن بنائیں ۔اور آپ کو نبیوں، صدیقوں، شہداء اور صالحین کے ساتھ جنت میں جگہ عطا فرمائے۔

    میں خود کو خوش نصیب سمجھتا ہوں کہ اللہ نے مجھے دنیا میں آپ سے ملایا، اور دعا ہے کہ فردوسِ اعلیٰ میں بھی ہماری ملاقات ہو۔

   آپ ہمیشہ میرے لیے عزیز بھائی، بابرکت سہارا اور روشن صاف شفاف دل بنے رہیں جوآپ کے آس پاس والے امید واروں کے لئے ایک روشن راہ دکھائیں ۔

    مرتے دم تک جیتے جی آپ کا اور آپ کے بے پایاں احسنات کا شکر گزار بھائی

    ڈاکٹر محمد الجریسی (ابو عمر)

     قطاعِ غزہ فلسطین

       ٢٦/١/٢٠٢٦م

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں