
مرکزاطلاعات فلسطین
قابض اسرائیلی معاشرے کو عسکری رنگ میں ڈھالنے کے بڑھتے ہوئے رجحان کی عکاسی کرتے ہوئے قابض حکومت کے وزیر برائے قومی سکیورٹی ایتمار بن گویر نے القدس میں ذاتی اسلحہ کے لائسنس جاری کرنے کے دائرہ کار میں توسیع کا اعلان کیا ہے، جس کے بعد اب 3 لاکھ سے زائد اسرائیلی اسلحہ کے حصول کے لیے درخواستیں دینے کے اہل ہو جائیں گے۔
انتہا پسند دائیں بازو کی جماعت "عوتسما یہودیت” (Jewish Power) کے سربراہ ایتمار بن گویر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ "ایکس” پر اپنی ایک پوسٹ میں کہا کہ ان کے فیصلے کے مطابق القدس کے مزید 41 محلوں اور 1600 گلیوں کو ان علاقوں کی فہرست میں شامل کر لیا گیا ہے جہاں کے مکین ذاتی اسلحہ رکھنے کے لائسنس حاصل کرنے کے اہل ہوں گے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ اس توسیع کے نتیجے میں شہر کے مزید 3 لاکھ سے زائد شہری اسلحہ کے لائسنس کے لیے درخواست دینے کے اہل ہو جائیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ فیصلہ اسلحہ کے قوانین میں جاری ان اصلاحات کا حصہ ہے جس کی قیادت وہ سنہ 2022ء کے آخر میں اپنا عہدہ سنبھالنے کے بعد سے کر رہے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ عام شہریوں کا مسلح ہونا ذاتی سکیورٹی کو مضبوط بناتا ہے اور نام نہاد دہشت گردی و جرائم کے واقعات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت پیدا کرتا ہے۔
ایتمار بن گویر نے اشارہ کیا کہ لائسنسوں کے اجرا کی پالیسی میں نرمی کے بعد سے اب تک 2 لاکھ 40 ہزار سے زائد اسرائیلی ذاتی اسلحہ کے لائسنس حاصل کر چکے ہیں، جسے انہوں نے ایک غیر معمولی تعداد قرار دیتے ہوئے القدس کے مکینوں کو دعوت دی کہ وہ ان لائسنسوں کے حصول کے لیے آگے آئیں۔
انتہا پسند اسرائیلی وزیر نے ان مخصوص محلوں کے نام ظاہر نہیں کیے جنہیں اس فیصلے میں شامل کیا گیا ہے، تاہم ان کے دفتر نے ستمبر سنہ 2025ء میں دیگر اسرائیلی شہروں اور بستیوں کو بھی اسلحہ رکھنے کے اہل علاقوں کی فہرست میں شامل کرنے کا اعلان کیا تھا، جن میں جنوب میں کریات گات اور کریات ملاخی، وسط میں گان یافنی، جبکہ شمال میں مجیدو اور تل موند شامل ہیں۔
اسرائیلی اعداد و شمار کے مطابق مقبوضہ مشرقی القدس میں 2 لاکھ 40 ہزار سے زائد اسرائیلی آباد کار موجود ہیں، جبکہ مقبوضہ مغربی کنارے کے مختلف علاقوں میں آباد کاروں کی مجموعی تعداد 7 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔

