ایران میں امریکی طیاروں کی تباہی، پاسداران انقلاب نے شکست کی پرانی یادیں تازہ کر دیں

0
5

مرکزاطلاعات فلسطین

ایرانی پاسداران انقلاب نے اپنی سرزمین کے اندر ان امریکی طیاروں کی تباہی پر تبصرہ کرتے ہوئے جو گرائے گئے ایف 15 لڑاکا طیارے کے پائلٹ کو بچانے کی کوشش میں مصروف تھے، سنہ 1980ء کے صحرائے طبس کے واقعے کی علامت کو مستحکم کیا ہے۔ پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ طبس کی ریت کا خدا اب بھی موجود ہے، جو تہران کے بقول ماضی کی امریکی شکست کے تسلسل کی طرف اشارہ ہے۔

اس جملے کا پس منظر اپریل سنہ 1980ء میں امریکہ کے اس آپریشن ایگل کلا کی ناکامی سے جڑا ہے جو تہران میں قید امریکیوں کو چھڑانے کے لیے کیا گیا تھا۔ اس وقت صحرائے طبس میں اچانک آنے والے ریت کے طوفانوں کی وجہ سے امریکی ہیلی کاپٹر آپس میں ٹکرا گئے تھے اور متعدد فوجی ہلاک ہوئے تھے، جس کے بعد امریکی افواج کو وہاں سے بھاگنا پڑا تھا۔

اس وقت کے ایرانی سپریم لیڈر روح اللہ خمینی نے اس واقعے کو ایک غیبی معجزہ قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ صحرا کی ریت ایران کی حفاظت کے لیے اللہ کی طرف سے مامور تھی۔

موجودہ تناظر میں پاسداران انقلاب نے امریکی طیاروں کی تباہی کے اعلان کے ساتھ ہی اس اصطلاح کا دوبارہ استعمال کیا ہے تاکہ یہ ثابت کیا جا سکے کہ جو کچھ اب ہوا ہے وہ واقعہ طبس سے مشابہت رکھتا ہے۔

اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دوسرے پائلٹ کو بچانے کا اعلان کرتے ہوئے اس مشن کو امریکہ کی تاریخ کے دلیرانہ ترین سرچ اینڈ ریسکیو آپریشنز میں سے ایک قرار دیا تھا۔

دوسری جانب ایران کے خاتم الانبیاء ہیڈ کوارٹر نے ایرانی میزائلوں سے گرائے گئے لڑاکا طیارے کے پائلٹ کو بچانے کی واشنگٹن کی کوشش کی ناکامی کا اعلان کیا ہے۔ بیان کے مطابق اصفہان کے جنوب میں حملہ آور طیارے، جن میں دو بلیک ہاک ہیلی کاپٹر اور ایک سی-130 فوجی مال بردار طیارہ شامل تھا، نشانہ بنے اور ان میں آگ لگ گئی۔

پاسداران انقلاب کے شعبہ تعلقات عامہ نے کہا ہے کہ جواری ٹرمپ، طبس کی ریت کا خدا اب بھی موجود ہے، مزید یہ کہ ایرانی افواج نے ایک مشترکہ آپریشن کیا جس میں ایرو اسپیس، زمینی یونٹس، پاسدارانِ رضاکار (پسیج) اور پولیس نے حصہ لیا، جس کے نتیجے میں ملک کے اندر امریکی طیارے تباہ ہوئے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ جو کچھ ہوا وہ امریکہ کے لیے ایک نئی رسوا کن شکست ہے، جو چار دہائیاں قبل صحرائے طبس میں ہونے والی عبرتناک شکست کے مماثل ہے۔

اس کے برعکس، نیویارک ٹائمز نے ایک باخبر ذریعے کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ دو امریکی فوجی مال بردار طیارے ایران میں ایک دور افتادہ اڈے پر مشن کے دوران خراب ہو گئے تھے، جس کے بعد امریکی افواج نے ان طیاروں کو ایرانی قبضے سے بچانے کے لیے خود ہی دھماکے سے اڑانے کے احکامات جاری کیے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ امریکی دعویٰ کہ دو طیارے بیک وقت خراب ہوئے اور امریکی افواج نے خود انہیں اس لیے تباہ کیا تاکہ وہ ایرانی فوج کے ہاتھ نہ لگیں اور پھر ان کی جگہ تین متبادل طیارے بھیجے، ایک ایسی بات ہے جس پر کوئی یقین نہیں کر سکتا۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ صحرا کے ایک متروک ایرانی ہوائی اڈے پر پائلٹ اور اسے اٹھانے والی فورس کو بچانے کے لیے اترنے والے دو طیارے بیک وقت خراب ہو جائیں، سوائے اس کے کہ وہ ایرانی فائرنگ کا نشانہ بنے ہوں؟