spot_img
spot_imgspot_imgspot_imgspot_img

متعلقہ خبریں

مزید خبریں

مقبوضہ مغربی کنارے میں وحشیانہ دھاوے، فلسطینیوں کے گھر فوجی بیرکوں میں تبدیل ، متعدد افراد زخمی

مرکزاطلاعات فلسطین قابض اسرائیلی فوج نے مقبوضہ مغربی کنارے کے...

ایران کا مذاکرات سے انکار، امریکہ کی زمینی فوج بھیجنے کی دھمکی، خلیج میں امریکی اڈوں پر حملے

مرکزاطلاعات فلسطین ایران امریکہ اور قابض اسرائیل کے درمیان تصادم...

لبنان پر صہیونی جارحیت کی شدید مذمت، کشیدگی کے نتائج کا ذمہ دار قابض اسرائیل ہے: حماس

مرکزاطلاعات فلسطین اسلامی تحریک مزاحمت ” حماس "نے لبنانی سرزمین...

القدس کو صہیونی کالونیوں میں تبدیل کرنے کی مہم، ایک ماہ میں 20 نئے آبادکاری منصوبے

  مرکزاطلاعات فلسطین میدان میں نئے حقائق مسلط کرنے کی دیوانہ...

ایران میں جاری امریکی اور صہیونی سفاکیت میں شہداء کی تعداد 555 تک پہنچ گئی: ہلال احمر

مرکزاطلاعات فلسطین ایرانی ہلال احمر نے اعلان کیا ہے کہ...

ایران میں جاری امریکی اور صہیونی سفاکیت میں شہداء کی تعداد 555 تک پہنچ گئی: ہلال احمر

مرکزاطلاعات فلسطین

ایرانی ہلال احمر نے اعلان کیا ہے کہ گذشتہ دو روز سے جاری امریکہ اور قابض اسرائیل کی مشترکہ سفاکیت کے نتیجے میں شہداء کی مجموعی تعداد بڑھ کر 555 ہو گئی ہے۔

ہلال احمر نے ایک بیان میں مزید کہا کہ قابض اسرائیل اور امریکہ کے مشترکہ حملوں نے پورے ایران میں 131 رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا۔ فارس نیوز ایجنسی کے مطابق ان وحشیانہ حملوں میں 555 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں تاہم زخمیوں کے حوالے سے ابھی حتمی اعداد و شمار فراہم نہیں کیے گئے۔

ایرانی ہلال احمر کی جانب سے گذشتہ ہفتہ کو جاری کردہ سابقہ اعداد و شمار میں شہداء کی تعداد 201 اور زخمیوں کی تعداد 747 بتائی گئی تھی۔

گذشتہ ہفتہ کی صبح سے قابض اسرائیل اور امریکہ ایران کے خلاف ننگی فوجی سفاکیت برت رہے ہیں جس میں اب تک سینکڑوں افراد شہید ہو چکے ہیں جن میں سرفہرست مرشد اعلیٰ علی خامنہ ای اور کئی اعلیٰ سکیورٹی حکام شامل ہیں۔

تہران اس جارحیت کا جواب دیتے ہوئے قابض اسرائیل کی جانب میزائل اور ڈرون داغ رہا ہے جبکہ عرب ممالک میں واقع امریکی فوجی اڈوں اور ان کے مفادات پر بھی حملے کیے گئے ہیں جن میں ہلاکتوں کے ساتھ ساتھ شہری تنصیبات بشمول بندرگاہوں اور رہائشی عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

ایران کے خلاف یہ صہیونی اور امریکی سفاکیت ایک ایسے وقت میں جاری ہے جب عمان کے ثالث کی گواہی کے مطابق امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں خاطر خواہ پیش رفت ہو رہی تھی۔ یہ دوسرا موقع ہے جب قابض اسرائیل نے مذاکرات کی میز الٹ دی ہے، اس سے قبل جون سنہ 2025ء کی جنگ میں بھی ایسا ہی کیا گیا تھا تاکہ خطے میں اپنے گریٹر اسرائیل کے مذموم عزائم کو پورا کیا جا سکے۔

چند روز قبل جنیوا میں ہونے والے مذاکرات میں ایک ایرانی عہدیدار نے بتایا تھا کہ تہران نے قضیہ کے حل کے لیے ایسی تکنیکی اور عملی تجاویز پیش کی تھیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ ایٹمی ہتھیار نہیں بنانا چاہتا۔ انہوں نے واضح کیا کہ افزودگی ایران کا خود مختار حق ہے مگر ایرانی مذاکرات کاروں نے محدود مدت کے لیے یورینیم کی افزودگی عارضی طور پر روکنے کی پیشکش بھی کی تھی۔

واشنگٹن اور تل ابیب مسلسل تہران پر ایٹمی اور میزائل پروگرام رکھنے کا الزام لگاتے ہیں جو ان کے بقول قابض اسرائیل اور امریکہ کے اتحادی علاقائی ممالک کے لیے خطرہ ہے جبکہ ایران مسلسل اس بات پر زور دیتا ہے کہ اس کا ایٹمی پروگرام مکمل طور پر پرامن ہے اور وہ ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کی کوئی خواہش نہیں رکھتا بلکہ یہ الزامات فلسطینیوں کی نسل کشی سے توجہ ہٹانے کا ایک حربہ ہیں۔

spot_imgspot_img