
مرکزاطلاعات فلسطین
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے پناہ گزین نے اطلاع دی ہے کہ 28 فرور ی سنہ 2026ء کو شروع ہونے والی وحشیانہ جارحیت کے بعد سے اب تک ایران کے اندر 32 لاکھ افراد بے گھر ہو چکے ہیں جبکہ دوسری جانب ایران نے اپنی بندرگاہوں پر کسی بھی ممکنہ حملے کی صورت میں خلیج کی تمام بندرگاہوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے۔
کمیشن نے بے گھر ہونے والے خاندانوں کی تعداد پر مبنی ابتدائی تخمینوں کا حوالہ دیتے ہوئے ایک بیان میں کہا ہے کہ دشمنی کے تسلسل کے ساتھ اس تعداد میں مزید اضافے کا قوی امکان ہے جو انسانی ضروریات میں تشویشناک اور لرزہ خیز اضافے کی نشاندہی کرتا ہے۔
اسی تناظر میں ایرانی پاسداران انقلاب نے خرم شہر میزائل داغنے کا اعلان کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ یہ چند ہی منٹوں میں امریکہ اور قابض اسرائیل کے دشمنوں کو نشانہ بنائے گا۔
ایرانی مسلح افواج نے تہران کے ایک بینک پر حملے کے جواب میں علاقائی بینکوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی کے چند گھنٹوں بعد یہ وارننگ بھی دی ہے کہ اگر ایرانی بندرگاہوں پر کسی قسم کی سفاکیت دکھائی گئی تو خطے کی تمام بندرگاہوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔
دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنی ایک تحریر میں اس بات پر زور دیا ہے کہ ان کا ملک امن اور استحکام کا خواہاں ہے تاہم انہوں نے جنگ کے خاتمے کے لیے اپنی شرائط بھی واضح کر دی ہیں۔
انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ قابض اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے بھڑکائی گئی اس جنگ کے خاتمے کا واحد راستہ ایران کے حقوق کو تسلیم کرنے اور مناسب ہرجانہ ادا کرنے میں پوشیدہ ہے تاکہ مستقبل میں ایسی کسی بھی جارحیت کو روکنے کے لیے ایک ٹھوس بین الاقوامی عزم سامنے آ سکے۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایکسیوس ویب سائٹ سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ یہ جنگ جلد ختم ہو جائے گی اور ان کا کہنا تھا کہ ایران کے اندر زیادہ تر فوجی اہداف تباہ کیے جا چکے ہیں اور اب محض یہاں وہاں کچھ معمولی چیزیں ہی باقی رہ گئی ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے بھی اس حوالے سے وضاحت کی ہے کہ وہ ایرانی بیلسٹک صلاحیتوں اور ڈرونز کو روزانہ کی بنیاد پر نشانہ بنا رہے ہیں اور ان کا دعویٰ ہے کہ آپریشن کے آغاز سے اب تک سلیمانی کلاس کی آخری بحری کشتی کی تباہی سمیت ایران کے اندر 5500 سے زائد اہداف کو ملیا میٹ کیا جا چکا ہے۔
بین الاقوامی سطح پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایک قرارداد منظور کی ہے جس میں خلیجی ممالک اور اردن پر ایرانی حملوں کو فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے اور آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی جہاز رانی میں رکاوٹ ڈالنے والے ایران کے کسی بھی اقدام یا دھمکی کی شدید مذمت کی گئی ہے۔
اس قرارداد کے حق میں 135 ممالک نے ووٹ دیا جسے بحرین اور خلیج تعاون کونسل کے دیگر ارکان اور اردن نے پیش کیا تھا جو ایرانی اقدامات کی عالمی سطح پر وسیع مذمت کی عکاسی کرتا ہے۔

