اسرائیل اور امریکہ کے ایران کے خلاف جاری حالیہ حملوں نے پاکستان کوایک گھمبیر صورتحال سے دوچار کر دیاہے۔ اس جنگ کے تین بڑے محاربین امریکہ، ایران اور سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے تعلقات نے جہاں اسے بیچ منجدھار لا کھڑا کیا، وہیں یہ ایک موقع بھی تھا اپنے عالمی قد کو بڑھانے کا جسے پاکستان نے دونوں ہاتھوں سے سمیٹا اور اس کا آغاز اس پندرہ نکاتی امریکی امن منصوبے سےہوا جسے الجزیرہ کے مطابق کو ایران تک پس پردہ پہنچانے کا بیڑا پاکستان نے اٹھایا۔
لیکن پاکستان کو یہ کردار اتفاقیہ نہیں ملا بلکہ ی اس اقتصادی سفارت کاری کا کرشمہ ہے کہ جس کے ذریعے ٹرمپ خاندان کی کمپنیوں سے معاہدے کیے گئے اور اسی طرح نیویارک کے روزویلٹ ہوٹل کی بحالی کے منصوبے میں ان کی شراکت نے ایک طرح سے پل کا کردار ادا کیا۔
اسی طرح ایران کے ساتھ 900 کلومیٹر طویل سرحد اور پاکستان میں دنیا کی دوسری بڑی شعیہ آبادی کے ساتھ پاکستان کی معاشرتی ساخت کچھ ایسی ہے کہ پاکستان ایران پے کیے گئے حملے سے لاتعلق نہیں رہ سکتا۔ ایران نے بھی ان تعلقات کی حساسیت کو سمجھتے ہوئے پاکستان کی پیش رفت کا مثبت جواب دیتے ہوئے پانچ نکاتی جوابی منصوبہ پیش کیا حالانکہ اس جنگ میں فی الحال ایرانی پالسی براہ راست مذاکرات سے گریز کی رہی ہے۔
سعودی عرب جسے اس جنگ کے تیسرے فریق یعنی خلیجی ممالک کا نمائندہ بھی سمجھا جا سکتا ہے، کے پاکستان کے ساتھ دیرینہ خصوصی تعلقات اور حالیہ دفاعی معاہدے نے بھی پاکستان کو معاملے پر اثر انداز ہونے کا موقع فراہم کیا اور سعودی عرب سمیت ترکی، مصر نے مشترکہ سفارتی کوششیں شروع کیں۔ یہاں ایک مرتبہ پھر ترکی کے پاکستان کے ساتھ خصوصی تعلقات کا ذکر کرنا غیر متعلقہ نہ ہوگا۔
اس مشاورت کے بعد پاکستانی وزیر خارجہ اسحاق ڈار چین گئے جہاں سے پاکستان اور چین نے مشرق وسطی میں امن کی بحالی کے لیے پانچ نکاتی فارمولا پیش کیا۔ جس میں تمام فریقین سے فوری جنگ بندی اور مذاکرات کے آغاز کا مطالبہ کیا گیا۔ شہریوں اور سول تنصیبات پر حملے بند کرنے پر زور دیا گیا اور آبی راستوں کو محفوظ کرنے کی طرف توجہ دلائی گئی۔ اس فارمولے کا ایک اہم نکتہ اقوام متحدہ کے کردار کو مضبوط کرنااور بین الاقوامی قوانین کے مطابق ایک جامع امن فریم ورک تشکیل دینا ہے۔
چین کے ساتھ مل پانچ نکاتی فارمولا پیش کرنا جس چار فریقی اجلاس کی ان پٹ شامل ہے، پاکستان کے چین کے ساتھ دیرینہ تعلقات اور 1971 کے بعد ایک بار پھر عالمی سفارت کاری میں پاکستان کو اہم کھلاڑی بناتا ہے۔ لیکن پاکستانی کردار کی اہمیت ایک اور طرح سے بھی نمایاں ہوتی ہے کہ بھارت جو کہ امریکہ، خلیجی ممالک اور ایران سے دیرینہ تعلقات رکھتا ہے اور موجودہ صورتحال میں ثالثی کا کردار ادا ر سکتا تھا، اسرائیل کی ساتھ حالیہ بڑھتی پینگوں کے باعث بارہ پتھر باہر کھڑا ہے اور بالکل لا تعاق محسوس ہو رہا ہے۔
اس کے باوجود کہ اس تمام صورتحال پر امریکی ردعمل آنا ابھی باقی ہے اور ان کوششوں کے بارآور ہونے پر خاصے شکوک و شبہات ہیں، بہرحال مئی 2025 میں بھارت کے خلاف عسکری قوت کے مظاہرے کے بعد یہ صورتحال داخلی مسائل کے باوجودپاکستان کی سفارتی قوت اور سافٹ امیج کے لیے بہت معاون ثابت ہوئی ہے۔


