
مرکزاطلاعات فلسطین
اسلامی جمہوریہ ایران پر امریکی و اسرائیلی جارحیت کے آغاز کے بعد سے غزہ کی پٹی میں امدادی اور غذائی اشیاء کی فراہمی میں شدید کمی واقع ہوئی ہے کیونکہ قابض اسرائیل نے گزرگاہوں پر پابندیوں کی پالیسی کو مزید سخت کر دیا ہے۔
حکومتی میڈیا آفس کے ڈائریکٹر جنرل اسماعیل الثوابتہ کا کہنا ہے کہ گذشتہ عرصے کے دوران گزرگاہیں انتہائی محدود پیمانے پر کھولی گئیں، جس کے نتیجے میں طے شدہ معاہدوں کے تحت متوقع 6000 ٹرکوں کے بجائے صرف 640 ٹرک ہی غزہ کی پٹی میں داخل ہو سکے، جو کہ اناطولیہ نیوز ایجنسی کے مطابق اصل ضرورت کا محض 10 فیصد بنتا ہے۔
امدادی رسد اور ضروریات میں بڑا فرق
الثوابتہ کے مطابق یہ اعداد و شمار غزہ کی پٹی کی بڑھتی ہوئی انسانی ضروریات اور قابض دشمن کی جانب سے اجازت دی گئی سپلائی کے حجم کے درمیان ایک بہت بڑی خلیج کو ظاہر کرتے ہیں، جس نے آبادی کو بنیادی خدمات فراہم کرنے والے اہم شعبوں کے لیے سنگین چیلنجز پیدا کر دیے ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ یہ پیش رفت غزہ کی پٹی میں امداد کی ترسیل میں سہولت فراہم کرنے سے متعلق معاہدوں سے روگردانی کے ایک وسیع سلسلے کا حصہ ہے۔ ایران پر جنگ چھڑنے کے بعد سے قابض اسرائیل نے غزہ کی پٹی پر عائد محاصرے اور سختیوں کی پالیسی میں شدت پیدا کر دی ہے اور وہ علاقائی صورتحال کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے گزرگاہوں کی نقل و حرکت اور حیاتیاتی سپلائی کے بہاؤ کو کنٹرول کرنے کے لیے مزید پابندیاں عائد کر رہا ہے۔
حکومتی میڈیا آفس کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر اسماعیل الثوابتہ کا کہنا ہے کہ ان اقدامات نے غزہ کے 24 لاکھ سے زائد فلسطینیوں کی زندگیوں میں انسانی اور سروسز کے بحران کو پہلے سے کہیں زیادہ سنگین کر دیا ہے۔ ان کے بقول ٹرکوں کی مجموعی نقل و حرکت کے اعداد و شمار اصل ضرورت اور موجودہ رسد کے درمیان فرق کو واضح کرتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا: "غزہ کی پٹی میں اب تک متوقع 88,800 ٹرکوں کے بجائے صرف 36,720 ٹرک داخل ہو سکے ہیں، جس کا مطلب ہے کہ معاہدوں پر عمل درآمد کی شرح 41 فیصد سے زیادہ نہیں ہے”۔ یہ گراوٹ غذائی اشیاء اور بنیادی سامان سمیت تجارتی و انسانی سپلائی کے بہاؤ میں مسلسل رکاوٹ کی نشاندہی کرتی ہے۔
الثوابتہ نے خبردار کیا کہ یہ بحران صرف غذائی اشیاء تک محدود نہیں ہے بلکہ توانائی کی سپلائی تک پھیلا ہوا ہے جو غزہ کے اہم مراکز کو چلانے کے لیے شہ رگ کی حیثیت رکھتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ غزہ میں ضرورت کے 7,400 ٹرکوں کے مقابلے میں ایندھن کے صرف 1,081 ٹرک داخل ہوئے، یعنی اصل ضرورت کا صرف 14 فیصد حصہ فراہم کیا گیا۔ اس کے برعکس کھانا پکانے والی گیس کی فراہمی پر پابندی مسلسل برقرار ہے، جس سے گھریلو اور سروسز کے شعبوں میں شدید بحران پیدا ہو گیا ہے۔
منڈیوں پر اثرات
سپلائی میں اس کمی کے براہ راست اثرات غزہ کی مقامی مارکیٹوں پر مرتب ہوئے ہیں، جہاں سبزیوں، اشیائے خوردونوش اور منجمد اشیاء کی قلت پیدا ہو گئی ہے۔ رسد میں کمی کے باعث قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے، جبکہ پہلے سے ہی غربت کی چکی میں پستی ہوئی عوام کی قوت خرید جواب دے چکی ہے۔
اسی طرح ایندھن کی کمی کی وجہ سے پانی کی فراہمی اور سیوریج کے نکاس کا نظام درہم برہم ہو گیا ہے کیونکہ پمپنگ اسٹیشنز اور ٹریٹمنٹ پلانٹس کام کرنا چھوڑ گئے ہیں۔ بلدیاتی اداروں کو کچرا اٹھانے اور کنوؤں سے پانی نکالنے کے آپریشنز میں بھی کٹوتی کرنی پڑی ہے۔ ایندھن کے اس بحران نے صحت کے شعبے کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے کیونکہ غزہ کے ہسپتال اور طبی مراکز بجلی کے لیے مکمل طور پر جنریٹرز پر انحصار کرتے ہیں۔
غذائی تحفظ کو خطرہ
حکومتی میڈیا آفس کے ڈائریکٹر جنرل نے خبردار کیا ہے کہ امداد اور بنیادی سپلائی پر ان پابندیوں کا برقرار رہنا اس تباہ حال ساحلی پٹی کے 15 لاکھ سے زائد افراد کے غذائی تحفظ کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔
فلسطینی ذرائع کے مطابق قابض اسرائیلی فوج سنہ 10 اکتوبر سنہ 2025 سے نافذ العمل سیز فائر معاہدے کی مسلسل خلاف ورزی کر رہی ہے، جس کے نتیجے میں پیر تک 651 فلسطینی شہید اور 1728 زخمی ہو چکے ہیں۔
امریکہ کی بھرپور حمایت کے ساتھ قابض اسرائیل نے سنہ 8 اکتوبر سنہ 2023 سے غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی شروع کی جو دو سال تک جاری رہی، جس میں 72 ہزار سے زائد فلسطینیوں کو قتل اور تقریباً 1 لاکھ 72 ہزار کو زخمی کیا گیا، جبکہ 90 فیصد شہری بنیادی ڈھانچے کو ملیا میٹ کر دیا گیا۔
گذشتہ سنہ 28 فروری سے قابض اسرائیل اور امریکہ نے ایران پر بھی حملے شروع کر رکھے ہیں جن میں مرشد اعلیٰ علی خامنہ ای اور سکیورٹی حکام سمیت سینکڑوں افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جبکہ تہران کی جانب سے جوابی کارروائی میں اسرائیل پر میزائل اور ڈرون داغے جا رہے ہیں۔ ایران نے ان حملوں میں عرب ممالک میں موجود امریکی مفادات کو بھی نشانہ بنایا ہے جس سے جانی و مالی نقصان ہوا ہے اور متعلقہ ممالک نے ان کارروائیوں کی مذمت کی ہے۔


