
مرکزاطلاعات فلسطین
اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف قابض اسرائیل اور امریکہ کی جارحیت کے انتیسویں دن کئی محاذوں پر تیزی سے بڑھتا ہوا تناؤ دیکھا گیا ہے، جس میں میزائل حملوں کے دائرہ کار میں وسعت اور نئے علاقائی فریقوں کی شمولیت کے بڑھتے ہوئے اشارے مل رہے ہیں۔ یہ تمام تر صورتحال امریکی فوجی نقل و حرکت اور میدانی منظرنامے کی بڑھتی ہوئی پیچیدگی کے درمیان سامنے آئی ہے۔
پہلی بار یمن سے میزائلوں کی بوچھاڑ
قابض اسرائیل کے نشریاتی ادارے نے رپورٹ دی ہے کہ جنگ کے آغاز کے بعد پہلی بار یمن سے داغے گئے میزائلوں کی نشاندہی کے بعد دیمونہ، بئر السبع اور ایلات میں خطرے کے سائرن بج اٹھے۔ دوسری جانب اسرائیلی چینل 12 نے دعویٰ کیا ہے کہ فضائی دفاعی نظام نے قابض اسرائیل کے جنوبی علاقوں کی طرف آنے والے ایک میزائل کو فضا میں ہی تباہ کر دیا۔
باہمی گولہ باری اور امریکی بیانات
قابض اسرائیلی فوج نے دارالحکومت تہران کے مختلف علاقوں کو نشانہ بناتے ہوئے فضائی حملے کرنے کا اعلان کیا ہے، جبکہ اسی دوران "سی بی ایس نیوز” نے ذرائع کے حوالے سے خبر دی ہے کہ واشنطن آپریشنل ایریا میں طیارہ بردار بحری جہاز "یو ایس ایس جارج بش” بھیجنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فوجی تناؤ کے متوازی ایک سیاسی رخ اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران میں حکومت کی تبدیلی "درحقیقت ہو چکی ہے”۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ بعد کے کسی مرحلے پر خطے سے نکل سکتا ہے۔
دریں اثنا امریکی چینل ’سی این این‘ نے رپورٹ دی ہے کہ سعودی عرب میں قائم پرنس سلطان بیس پر ایران کی جانب سے کیے گئے میزائل حملے کے نتیجے میں 12 امریکی فوجی زخمی ہوئے ہیں جن میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے۔ واشنگٹن پوسٹ نے اپنی ویب سائٹ پر بتایا کہ اس حملے میں دس فوجی زخمی ہوئے ہیں اور میزائلوں نے بیس پر موجود ان دو امریکی طیاروں کو تباہ کر دیا ہے جو فضا میں طیاروں کو ایندھن فراہم کرنے کے لیے مخصوص تھے۔
قابض اسرائیل کے اندر جانی نقصانات
دوسری جانب اسرائیلی میڈیا کے مطابق وسطی اسرائیل کو نشانہ بنا کر کیے گئے ایرانی میزائل حملے کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک اور تین زخمی ہو گئے، جبکہ مختلف علاقوں میں میزائلوں کو روکنے کی کارروائیاں جاری رہیں۔
لبنانی محاذ پر جنگ کے شعلے
شمالی محاذ پر حزب اللہ نے قصبہ الطیبہ سے دریائے لیطانی کی طرف پیش قدمی کرنے والی ایک اسرائیلی فورس کو گھات لگا کر نشانہ بنانے کا اعلان کیا ہے، جس میں متعدد فوجیوں کے ہلاک اور زخمی ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی قابض اسرائیل کی جانب سے جنوبی اور مشرقی لبنان کے کئی قصبوں پر فضائی حملے کیے گئے۔
اسی طرح مغربی جلیل اور گولان کے علاقوں میں لبنان سے داغے گئے میزائلوں اور ڈرونز کی آمد پر بار بار سائرن بجائے گئے، جو سرحد پار جاری مسلسل میدانی تصادم کی نشاندہی کرتے ہیں۔
علاقائی تناؤ کے دائرے میں وسعت
کشیدگی کے اثرات خطے کے دیگر ممالک تک بھی پھیل گئے ہیں۔ متحدہ عرب امارات نے خلیفہ اکنامک زونز کے گرد و نواح میں میزائل کے ٹکڑے گرنے سے پانچ افراد کے زخمی ہونے کا اعلان کیا، جبکہ سعودی عرب نے تین ڈرونز کو روکنے کی اطلاع دی اور کویت نے گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران چھ ڈرونز مار گرانے کی تصدیق کی ہے۔
ایک اہم پیش رفت میں تھائی لینڈ نے ایران کے ساتھ ایک معاہدے کا اعلان کیا ہے جس کے تحت اس کے بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت ہوگی، جو سمندری گزرگاہوں کی سکیورٹی کے حوالے سے بڑھتی ہوئی عالمی تشویش کا مظہر ہے۔
ایران کے اندر حملے اور ایٹمی تنصیبات پر منڈلاتے خطرات
ایران کے اندر میڈیا نے قم شہر پر ہونے والی بمباری میں ایک ہی خاندان کے دس افراد کے جام شہادت نوش کرنے کی اطلاع دی ہے۔ ادھر عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی نے بتایا کہ بوشہر ایٹمی بجلی گھر کے گرد و نواح کو ایک نئے حملے کا نشانہ بنایا گیا ہے، جو گذشتہ دس دنوں میں تیسرا حملہ ہے۔ اگرچہ اس سے براہ راست کوئی نقصان نہیں ہوا، تاہم ایٹمی تنصیبات کو نشانہ بنائے جانے کے خطرات کے حوالے سے سخت انتباہات جاری کیے گئے ہیں۔


