ایران کو 20 گنا زیادہ سخت ضرب لگائیں گے: ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی

0
9

مرکزاطلاعات فلسطین

قابض اسرائیل کے ساتھ جاری جنگ کے پس منظر میں امریکہ اور ایران کے درمیان فوجی اور سیاسی کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ایک طرف امریکہ نے دھمکی دی ہے کہ اگر آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی میں خلل پڑا تو بڑے پیمانے پر کارروائی کی جائے گی، جبکہ دوسری طرف ایران نے دو ٹوک جواب دیا ہے کہ اس جنگ کے خاتمے کا تعین تہران خود کرے گا۔ ادھر قابض اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ گذشتہ دس دنوں کی کارروائیوں کے دوران تقریباً 1900 ایرانی شہید ہو چکے ہیں۔

میدانی صورتحال کے مطابق پیر کے روز ایران کی جانب سے داغے گئے میزائلوں کے نتیجے میں تل ابیب کے علاقے میں ایک تعمیراتی سائٹ سمیت دو مقامات پر میزائلوں کے ٹکڑے گرنے سے ایک شخص ہلاک اور ایک زخمی ہو گیا۔

اسرائیلی امدادی ادارے "نجمہ داؤد الحمراء” نے گذشتہ چوبیس گھنٹوں کی رپورٹ جاری کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے ملک بھر میں 76 افراد کو طبی امداد فراہم کی ہے۔ بیان میں واضح کیا گیا کہ ان میں سے 20 افراد میزائلوں کو فضا میں تباہ کرنے (انٹرسیپشن) کے عمل کے دوران زخمی ہوئے، جن میں ایک ہلاک، ایک کی حالت تشویشناک اور ایک شدید زخمی ہے، جبکہ دیگر معمولی زخمی ہوئے۔

دوسری جانب، قابض اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے دس دنوں کی لڑائی کے دوران ایرانی نظام کے تقریباً 1900 ارکان کو شہید کر دیا ہے۔ اسرائیلی فوج کے مطابق القدس فورس سے وابستہ ٹرانسپورٹ نیٹ ورک کو تباہ، اسلحہ اور رقوم کی منتقلی کے لیے استعمال ہونے والے 16 طیاروں کو مار گرایا گیا ہے اور آپریشن کے آغاز سے اب تک ایران کے اندر چھ فوجی ہوائی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

ایران سے موصولہ اطلاعات کے مطابق، ایرانی ایجنسی "مہر” نے آج صبح بتایا کہ تہران کے مغرب میں واقع شہر کرج میں امریکی اور اسرائیلی بمباری نے رہائشی مکانات کو نشانہ بنایا، جبکہ ملک کے مغرب میں واقع شہر اراک پر ڈرون حملے کے نتیجے میں پانچ افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔

سیاسی محاذ پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف اپنے لہجے میں سخت تیزی لاتے ہوئے کہا ہے کہ وہ نہیں جانتے کہ مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کا سپریم لیڈر مقرر کرنے کا فیصلہ برقرار رہے گا یا نہیں، تاہم ان کا خیال ہے کہ ایرانیوں نے "غلطی” کی ہے۔ انہوں نے ایرانی تیل پر قبضے کی بات کو قبل از وقت قرار دیتے ہوئے اس کے امکان کو مسترد نہیں کیا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی سپلائی معطل کرنے کی کوشش کی تو امریکہ ایران پر بڑے پیمانے پر فوجی حملہ کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ واشنطن ایران کو اب تک لگنے والی ضربوں سے "بیس گنا زیادہ سخت ضرب” لگائے گا۔ ٹرمپ نے مزید خبردار کیا کہ امریکہ ایسے اہداف کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے جنہیں تباہ کرنا آسان ہے، جس کے بعد ایران کے لیے بطور ریاست دوبارہ کھڑا ہونا ناممکن ہو جائے گا۔ انہوں نے انتباہ کیا کہ ان پر "موت، آگ اور غصہ” نازل ہوگا، تاہم ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ ایسا نہ ہو۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل کی ضمانت کو چین اور ان تمام ممالک کے لیے امریکہ کا ایک "تحفہ” قرار دیا جو اس بحری گزرگاہ پر انحصار کرتے ہیں۔

اس کے جواب میں ایرانی پاسداران انقلاب نے ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ "اس جنگ کے خاتمے کا فیصلہ تہران ہی کرے گا”۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر امریکہ اور قابض اسرائیل کے حملے جاری رہے تو ایران خطے سے تیل کا "ایک لیٹر” بھی برآمد نہیں ہونے دے گا۔

پاسداران انقلاب نے مزید کہا کہ "خطے میں امن یا تو سب کے لیے ہوگا یا پھر کسی کے لیے نہیں”۔ انہوں نے بتایا کہ ایران اب ایسے طاقتور میزائل داغ رہا ہے جن کے وار ہیڈز کا وزن ایک ٹن سے زیادہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیلیوں کا مسلسل پناہ گاہوں میں چھپنا اور ہوائی اڈوں پر ان کا ہجوم قابض اسرائیل کے اندرونی "میدانی حقائق” کی عکاسی کرتا ہے۔

پاسداران انقلاب نے یہ بھی کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے اندر سماجی ٹوٹ پھوٹ پیدا کرنے یا عوام کو نظام کے خلاف کھڑا کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ ان کے مطابق، ایرانی قائدین کی ٹارگٹ کلنگ کے ذریعے تہران کو فوری طور پر ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنے کی ٹرمپ کی کوشش کامیاب نہیں ہوئی، بلکہ نئے سپریم لیڈر کے انتخاب اور جنگی حکمت عملی نے ان کے اہداف کو ناکام بنا دیا ہے۔