
مرکزاطلاعات فلسطین
قابض اسرائیل میں اس حوالے سے تجزیے اور تخمینے بڑھتے جا رہے ہیں کہ ایران کے خلاف جنگ میں فوری فیصلے اور حتمی کامیابی کی امیدیں دم توڑ رہی ہیں۔ ماہرین نے متنبہ کیا ہے کہ اس محاذ آرائی کا تسلسل فوجی اور معاشی وسائل کو بری طرح نچوڑ سکتا ہے جبکہ مبصرین کا خیال ہے کہ تہران اور حزب اللہ طویل مدتی تھکا دینے والی طویل جنگ کی حکمت عملی اپنا رہے ہیں۔
اس تناظر میں "ڈیموکریٹس” پارٹی کے سربراہ اور قابض اسرائیلی فوج کے سابق نائب چیف آف اسٹاف یائر گولان نے آج اتوار کو ریڈیو 103FM کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ ایران پر اسرائیلی اور امریکی جارحیت اپنے مقاصد کے حصول کے قریب پہنچ کر اب رکنے لگی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اب ایک سیاسی راستے کی طرف بڑھنا چاہیے جو ان کے بقول اب تک کی فوجی کامیابیوں کی تکمیل کر سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ واضح اہداف کے بغیر لڑائی کا تسلسل "رقم اور گولہ بارود کا ضیاع” ثابت ہو سکتا ہے۔ ان کا ماننا تھا کہ قابض اسرائیل کامیابیوں کو گہرا کرنے کے مرحلے کے اختتام پر ہے اور اگر اب سیاسی اقدام نہ کیا گیا تو یہ مرحلہ مایوسی میں بدل سکتا ہے۔
گولان نے ایک علاقائی اتحاد کی تشکیل کی تجویز دی جو طویل مدت کے لیے ایران پر عسکری، سیاسی، سفارتی اور معاشی دباؤ برقرار رکھے۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ جنگوں کے فیصلے صرف فوجی طاقت سے نہیں ہوتے۔ انہوں نے ایران کو ایک "ضدی حریف” قرار دیتے ہوئے یاد دلایا کہ ایران عراق کے ساتھ آٹھ سالہ طویل جنگ بغیر ہتھیار ڈالے لڑ چکا ہے۔
گولان نے بنجمن نیتن یاھو کی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ خطے کے کئی رہنما اس حکومت کو ایک ایسے "انتہا پسند محور” کا حصہ سمجھتے ہیں جس پر بھروسہ کرنا مشکل ہے۔
لبنانی محاذ کے حوالے سے گولان نے دریائے لیطانی تک قابض فوج کی محدود مداخلت کی حمایت کی لیکن لبنان کے اندر طویل جنگ میں پھنسنے کے خلاف خبردار کرتے ہوئے کہا کہ "دوبارہ لبنانی دلدل میں دھنسنا ایک بڑی غلطی ہو گی”۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں فرانس اور امریکہ کے تعاون سے ایک سیاسی راستہ نکالا جا سکتا ہے جس کا مقصد لبنانی حکومت کو مضبوط کرنا اور حزب اللہ کے اثر و رسوخ کو کم کرنا ہو۔
دوسری جانب ہارٹز اخبار کے عسکری تجزیہ کار عاموس ہریل کا کہنا ہے کہ ایران نے حالیہ دنوں میں ضربیں کھانے کے باوجود ایک خاص قسم کی "بحالی” دکھائی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ تہران سے آنے والی معلومات کے ابہام کے باعث ان حملوں کے ایرانی حوصلوں پر اثرات کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔
ہریل نے بتایا کہ ایران اب بھی روزانہ کی بنیاد پر میزائل اور ڈرون فائر کر رہا ہے، اگرچہ ان کی تعداد محدود ہے لیکن یہ قابض اسرائیل میں زندگی مفلوج کرنے، معیشت کو نقصان پہنچانے اور عوامی مزاج پر اثر انداز ہونے کے لیے کافی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران اور حزب اللہ کا مقصد اپنے دشمنوں کو شکست دینا نہیں بلکہ جنگ کے خاتمے تک ڈٹے رہنا اور "صمود” دکھانا ہے، اور اگر یہ مقابلہ طویل جنگ کی صورت اختیار کرتا ہے تو وہ اس مقصد کو حاصل کر سکتے ہیں۔
انہوں نے اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا کہ قابض اسرائیل کے بعض علاقوں میں ہنگامی ہدایات میں بتدریج نرمی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ وہ طویل عرصے تک کشیدہ سکیورٹی صورتحال کے لیے ذہنی طور پر تیار ہو رہے ہیں۔
ہریل نے یہ بھی نوٹ کیا کہ تصادم میں داخل ہونے کے بعد حزب اللہ کی عسکری صلاحیتیں اسرائیلی انٹیلی جنس کی توقعات سے کہیں زیادہ نظر آ رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت سے لبنان پر فوجی دباؤ برقرار رکھنے اور جنگ میں وسعت کی دھمکیوں کو بطور ہتھیار استعمال کرنا چاہتے ہیں۔
ہریل نے اپنی بات کا اختتام اس انتباہ پر کیا کہ ایران میں واضح کامیابیوں کی کمی اسرائیلی حکومت کو لبنانی محاذ پر کسی "متبادل کامیابی” کی تلاش پر مجبور کر سکتی ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ قابض اسرائیل خود کو ایران اور لبنان کے دوہرے محاذوں پر ایک ایسی طویل جنگ میں گھرا ہوا پا سکتا ہے جس کا کوئی آسان حل نظر نہیں آتا۔


