
تہران ۔ مرکزاطلاعات فلسطین
ایران پر امریکی اور قابض اسرائیلی جارحیت کے اٹھائیسویں روز بھی کئی محاذوں پر باہمی حملوں کا سلسلہ جاری رہا، جبکہ فوجی تصادم کے دائرہ کار میں وسعت کے اشارے اور کشیدگی کو روکنے کے لیے سفارتی کوششیں بھی سامنے آ رہی ہیں۔
اس تناظر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی توانائی کی تنصیبات پر حملے کو چھ اپریل سنہ 2026 تک دس دن کے لیے مؤخر کرنے کا اعلان کیا ہے، انہوں نے اس فیصلے کا جواز ایرانی درخواست کو قرار دیا ہے، جبکہ دوسری جانب واشنگٹن مشرق وسطیٰ میں زمینی افواج کی تعیناتی سمیت مزید سخت فوجی اقدامات کے آپشنز پر غور کر رہا ہے۔
ایران
ایرانی خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق تہران کے وسطی اور مشرقی حصوں کے علاوہ تبریز، ارومیہ اور کاشان کے شہر دھماکوں سے گونج اٹھے، جبکہ قم میں رہائشی علاقوں کو نشانہ بنانے والی غارت گری کی اطلاعات بھی درج کی گئی ہیں۔
ایرانی ہلال احمر نے تہران میں ایک رہائشی علاقے کو نشانہ بنانے اور اس کے نتیجے میں جانی نقصان ہونے کی اطلاع دی ہے۔
دوسری جانب پاسداران انقلاب ایران نے دور اور درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے میزائل سسٹمز اور ڈرونز کے ذریعے حملوں کی تراسیں ویں لہر شروع کرنے کا اعلان کیا ہے، جس میں قابض اسرائیل کے فوجی ٹھکانوں، امریکی اڈوں اور تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی تصدیق کی گئی ہے۔
امریکہ
امریکی انتظامیہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ پہلے سے تعینات افواج کی کمک کے لیے خطے میں مزید دس ہزار تک فوجی بھیجنے پر غور کر رہی ہے، یہ بات وال اسٹریٹ جنرل نے پینٹاگون کے حکام کے حوالے سے نقل کی ہے۔
سی این این نے رپورٹ کیا ہے کہ اگر سفارتی راستہ ناکام ہوا تو وائٹ ہاؤس ایران کے خلاف وسیع پیمانے پر فوجی حملوں کے منظر نامے پر غور کر رہا ہے۔
رپورٹس میں توقع ظاہر کی گئی ہے کہ اس تعیناتی کے حوالے سے باقاعدہ فیصلہ آئندہ ہفتے جاری کر دیا جائے گا، یہ صورتحال ایک ایسے وقت میں ہے جب ڈونلڈ ٹرمپ کی داخلی مقبولیت میں واضح کمی دیکھی جا رہی ہے۔
قابض اسرائیل
قابض اسرائیلی فوج نے تہران میں انفراسٹرکچر پر غارت گری کی ایک وسیع لہر مکمل کرنے کا اعلان کیا ہے، جس کے ساتھ ہی ایرانی میزائل حملوں کے نتیجے میں گریٹر اسرائیل (تل ابیب) اور القدس سمیت وسیع علاقوں میں خطرے کے سائرن بج اٹھے۔
قابض اسرائیلی میڈیا نے ملک کے وسطی حصوں (مقبوضہ فلسطین) کی جانب ایک کلسٹر میزائل داغے جانے اور مختلف مقامات پر اس کے ٹکڑے گرنے کی اطلاع دی ہے۔
لبنان
لبنان میں کشیدگی میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا جہاں قابض اسرائیل نے بیروت کے جنوبی ضاحیہ اور کفر رمان، زبقین اور المنصوری سمیت کئی بستیوں پر وحشیانہ غارت گری کی، جس کے نتیجے میں لبنانی وزارت صحت کے مطابق کئی افراد شہید اور زخمی ہوئے ہیں۔
مزید برآں، قابض فوج نے جنوبی لبنان کے علاقوں کے مکینوں کو فوری طور پر علاقہ خالی کرنے کے ہنگامی نوٹس جاری کیے ہیں۔
دوسری طرف، حزب اللہ نے میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے درجنوں حملوں کا اعلان کیا ہے جن میں قابض اسرائیلی فوجی ٹھکانوں، مراکز اور جنوبی محاذوں پر ان کی گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا، حزب اللہ نے قابض اسرائیلی افواج کی صفوں میں براہ راست جانی نقصان پہنچانے اور باہمی گولہ باری جاری رکھنے کی تصدیق کی ہے۔
خلیج
متحدہ عرب امارات نے ایک بیلسٹک میزائل گرائے جانے کے نتیجے میں اس کے ٹکڑے گرنے سے دو افراد کی ہلاکت اور تین کے زخمی ہونے کا اعلان کیا ہے، جبکہ سعودی عرب، بحرین اور کویت نے بھی میزائلوں اور ڈرون حملوں کا سامنا کرنے کی تصدیق کی ہے جن میں سے اکثر کو فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا، کویتی فوج نے دو ڈرونز گرانے کا اعلان کیا ہے۔
عراق
ایک سکیورٹی ذریعے نے مغربی عراق کے علاقے القائم میں حشد الشعبی کے تیرہویں بریگیڈ کے ہیڈ کوارٹر پر فضائی بمباری کے نتیجے میں تین افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع دی ہے، جو فوجی کارروائیوں کے عراقی سرزمین تک پھیلنے کی عکاسی کرتا ہے۔
سفارتی تحرکات
مصری وزیر خارجہ بدر عبد العاطی نے ترکیہ اور پاکستان کے اپنے ہم منصبوں سے رابطے کیے ہیں جن میں کشیدگی کم کرنے کے لیے کوششوں کو مربوط بنانے پر توجہ دی گئی ہے۔
دوسری طرف، ہسپانوی حکومت کے سربراہ نے جنگ میں اپنے فضائی اڈے استعمال کرنے کی امریکی درخواست کو مسترد کرنے کا اعلان کیا ہے اور اس تنازعے کے وسیع تر معاشی اثرات سے خبردار کیا ہے۔


