
مرکزاطلاعات فلسطین
امریکی حکام کے حوالے سے وال اسٹریٹ جنرل نے رپورٹ دی ہے کہ ایران نے بحر ہند میں واقع جزیرہ ڈیگو گارشیا میں قائم مشترکہ امریکی و برطانوی فوجی اڈے کی جانب دو بیلسٹک میزائل فائر کیے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ان میں سے کوئی بھی میزائل اپنے ہدف کو نشانہ نہ بنا سکا، جو ایرانی سرزمین سے تقریباً 4 ہزار کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
تاہم میزائل فائر کرنے کے اس عمل سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ تہران کے پاس پہلے سے لگائے گئے اندازوں سے کہیں زیادہ طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل موجود ہیں۔
اخبار نے مزید بتایا کہ ایک میزائل پرواز کے دوران ہی تکنیکی خرابی کا شکار ہو گیا، جبکہ دوسرے میزائل کو ایک امریکی جنگی جہاز سے فائر کیے گئے دفاعی میزائل کے ذریعے نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی۔ تاہم ابھی یہ واضح نہیں ہو سکا کہ آیا وہ میزائل اپنے ہدف کو لگنے میں کامیاب ہوا یا نہیں۔
جزائر چاگوس میں واقع ڈیگو گارشیا کا اڈہ ان دو اڈوں میں سے ایک ہے جہاں برطانیہ نے امریکہ کو ایران کے خلاف دفاعی کارروائیوں کے لیے استعمال کی اجازت دے رکھی ہے۔
پینٹاگون نے ابھی تک اس رپورٹ پر کوئی باضابطہ تبصرہ نہیں کیا ہے۔
امریکی افواج نے اس اڈے پر بمبار طیارے اور دیگر عسکری ساز و سامان تعینات کر رکھا ہے، جو ایشیا میں امریکی آپریشنز بشمول افغانستان اور عراق میں بمباری کی مہمات کے لیے ایک اہم مرکز رہا ہے۔
واضح رہے کہ برطانیہ نے سنہ 1960ء کی دہائی سے اپنے قبضے میں موجود جزائر چاگوس کو ماریشس کے حوالے کرنے پر اتفاق کیا تھا، تاہم ڈیگو گارشیا میں فوجی اڈے کو لیز پر رکھنے کا حق برقرار رکھا ہے۔ بنجمن نیتن یاھو کے قریبی حلیف صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جزیرے کی دستبرداری سے متعلق لندن کے اس فیصلے پر کڑی تنقید کی تھی۔

