برطانیہ میں فلسطین الائنس کے قائدین کی سزا کے خلاف شدید غم و غصہ اور فیصلے کو چیلنج کرنے کا اعلان

0
5

مرکزاطلاعات فلسطین

برطانیہ کی ایک عدالت نے ’فلسطین الائنس‘ کے دو ممتاز ترین رہنماؤں بن جمال اور کریس ناینہام کو پبلک آرڈر ایکٹ کی خلاف ورزی کے الزام میں مجرم قرار دے دیا ہے تاہم انہیں فوری طور پر جیل بھیجنے کا حکم نہیں دیا گیا۔ ویسٹ منسٹر مجسٹریٹ کورٹ کے جج ڈینیل سٹینبرگ نے انہیں 18 ماہ کے لیے غیر مشروط طور پر رہا کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاہم اس مدت کے دوران کسی بھی دوسری خلاف ورزی کی صورت میں انہیں قید کی سزا بھگتنی ہوگی۔

ذرائع کے مطابق بن جمال اور کریس ناینہام نے اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ فلسطین کی حمایت میں احتجاجی سلسلہ جاری رکھیں گے۔ جج نے اپنے فیصلے کی وجوہات بیان کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ملزمان کی اچھی شہرت اور ان حالات کو مدنظر رکھا ہے جن میں یہ مبینہ خلاف ورزیاں سرزد ہوئیں۔

جج سٹینبرگ نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ احتجاج کا حق بنیادی ہے لیکن یہ مطلق نہیں ہے اور ان کے بقول یہ قانونی طور پر عائد کردہ پابندیوں کی خلاف ورزی کا جواز فراہم نہیں کرتا۔ عدالت نے دونوں رہنماؤں پر 7526 برطانوی پاؤنڈ فی کس عدالتی اخراجات کا جرمانہ بھی عائد کیا ہے جبکہ دفاعی ٹیم نے اس رقم کی 12 ماہ کی اقساط میں ادائیگی کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ ان کے موکل یہ رقم عطیات کے ذریعے جمع کریں گے۔

قائدین کے قریبی ذرائع نے عدالتی فیصلے کو صدمہ انگیز اور مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دفاعی ٹیم اپیل کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے رہی ہے۔ فیصلے سے قبل جج نے عدالتی کارروائی میں کسی بھی قسم کے خلل کے خلاف سخت وارننگ دی اور سکیورٹی طلب کرنے کی دھمکی دی جس پر حاضرینِ عدالت میں حیرت کی لہر دوڑ گئی۔

عدالتی کارروائی کے دوران کئی اہم سیاسی اور نقابتی شخصیات بھی موجود تھیں جن میں لیبر پارٹی کے رکن پارلیمنٹ جون ماکڈونل، آزاد رکن پارلیمنٹ اور لیبر پارٹی کے سابق سربراہ جرمی کوربن، حزبک پارٹی کے شریک چیئرمین، نیوکلیئر تخفیف اسلحہ مہم کی جنرل سیکرٹری صوفی بولٹ اور اسٹاپ دی وار اتحاد کے جنرل سیکرٹری ایلکس کینی شامل تھے۔

اسی اثنا میں ائتلاف فلسطین کے حامیوں نے کارکنوں سے اظہار یکجہتی کے لیے عدالت کے باہر زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا۔ ایک شریکِ احتجاج اینڈرو مورس نے کہا کہ یہ مقدمہ فلسطین کے ساتھ ہمدردی رکھنے والوں کو ڈرانے کے لیے ایک علامتی کارروائی ہے، انہوں نے مزید کہا کہ اس سزا کا کوئی جواز نہیں ہے کیونکہ بن جمال اور ناینہام نے کبھی تشدد یا قانون شکنی کی دعوت نہیں دی اور ان کی تمام سرگرمیاں پرامن تھیں۔

یہ کیس 18 جنوری سنہ 2025ء کو منعقدہ اس قومی مارچ سے متعلق ہے جس میں فلسطین یکجہتی مہم کے ڈائریکٹر بن جمال اور اسٹاپ دی وار اتحاد کے نائب صدر کریس ناینہام نے شرکت کی تھی۔ یہ 7 اکتوبر سنہ 2023ء کے بعد فلسطین کی حمایت میں نکالا جانے والا 22 واں بڑا مارچ تھا۔ اگرچہ پولیس کے ساتھ مارچ کے راستے بشمول بی بی سی کے ہیڈ کوارٹر تک جانے کا پہلے سے معاہدہ طے پا چکا تھا لیکن پولیس نے آخری لمحات میں پابندیاں عائد کر کے وہاں جانے سے روک دیا اور شرکاء کو وائٹ ہال کے علاقے میں جہاں حکومتی دفاتر واقع ہیں، ایک جگہ کھڑے ہو کر احتجاج کرنے پر مجبور کر دیا تھا۔

قانونی ماہرین اور انسانی حقوق کی تنظیموں کا ماننا ہے کہ یہ مقدمہ پولیس کے اختیارات کی حدود کا ایک اہم امتحان ہے، خاص طور پر جب احتجاج کے حق کو دبانے کے لیے عبادت کے حق کے تحفظ یا معاشرے پر مجموعی اثرات جیسے بہانے تراشے جا رہے ہوں تاکہ بڑے پیمانے پر ہونے والے مظاہروں کو روکا جا سکے۔