بنجمن نیتن یاھو اور بزلئیل سموٹریچ کا حریدی یہودیوں کی جبری بھرتی سے استثنیٰ کا قانون مؤخر کرنے کا اعلان

0
10

مرکزاطلاعات فلسطین

قابض اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو اور وزیر خزانہ بزلئیل سموٹریچ نے گذشتہ روز منگل کی شام اعلان کیا ہے کہ جنگی ضروریات اور اس سے وابستہ بڑھتے ہوئے مالی دباؤ کے پیش نظر فی الوقت حریدی یہودیوں کو فوجی خدمات سے استثنیٰ دینے کے مجوزہ قانون کو مؤخر کر دیا گیا ہے۔ بنجمن نیتن یاھو اور بزلئیل سموٹریچ نے ایک مشترکہ ویڈیو بیان میں کہا کہ انہوں نے اس مرحلے پر اس قانون کو ایک طرف رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، کیونکہ حکومت سکیورٹی بجٹ میں بڑے اضافے کی منظوری کی تیاری کر رہی ہے، جس میں دسیوں ارب شیکل عسکری ادارے کو منتقل کیے جائیں گے۔

بنجمن نیتن یاھو نے وضاحت کی کہ جنگی تقاضے اس بات پر مجبور کرتے ہیں کہ مالی وسائل کا بڑا حصہ سکیورٹی بجٹ کی طرف موڑ دیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس جنگ میں کودنے کے حوالے سے کوئی شک و شبہ نہیں تھا، لیکن جنگ پر بہت زیادہ پیسہ خرچ ہوتا ہے، اس لیے ہمیں اس مدت کے دوران خصوصی بجٹ مختص کرنے کی ضرورت ہے۔ توقع ہے کہ حکومت رات گئے ایک اجلاس منعقد کرے گی جس میں سکیورٹی بجٹ میں اربوں شیکل کے اضافے کی منظوری دی جائے گی، جبکہ اس اضافے کی مالیاتی ضروریات پوری کرنے کے لیے تمام دیگر سرکاری وزارتوں کے بجٹ میں 3 فیصد کی کٹوتی بھی منظور کی جائے گی۔