بڑھتے ہوئے خطرات کے باوجود قابض اسرائیل کے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 229.5 ارب ڈالر تک پہنچ گئے

0
6

مرکزاطلاعات فلسطین

بینک آف قابض اسرائیل نے تازہ سنہ 2026ء کو جاری کردہ زرمبادلہ کے ذخائر کی سالانہ سرمایہ کاری رپورٹ میں بتایا ہے کہ سنہ 2025ء کے دوران غیر ملکی کرنسی کے ذخائر میں تقریباً 14.9 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا ہے جس کے بعد یہ مجموعی طور پر 229.5 ارب ڈالر کی سطح پر پہنچ گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اس اضافے کی بنیادی وجہ حصص اور بانڈز میں کی جانے والی سرمایہ کاری پر ملنے والا منافع اور سود سے ہونے والی آمدنی ہے جبکہ عالمی مارکیٹ میں بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں کمی نے بھی مثبت اثرات مرتب کیے ہیں۔

زرمبادلہ کے ذخائر میں یہ اضافہ ایک ایسے عالمی اقتصادی ماحول میں ہوا ہے جسے نسبتاً مثبت قرار دیا گیا ہے جہاں عالمی شرح نمو اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ہونے والی تیز رفتار پیش رفت کی بدولت سٹاک اور بانڈ مارکیٹس نے مضبوط کارکردگی کا مظاہرہ جاری رکھا۔

دوسری جانب امریکہ میں افراط زر کی شرح بلند سطح پر برقرار رہی جس نے فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں کمی کی صلاحیت کو محدود کر دیا جبکہ مالیاتی اور جیو پولیٹیکل خطرات کے نتیجے میں یورپ میں سرکاری بانڈز کے منافع میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ سال کے اختتام پر ذخائر کے اثاثوں کی تقسیم کچھ اس طرح رہی کہ 65 فیصد سرکاری بانڈز اور دیگر کم خطرے والے آلات میں رکھے گئے جبکہ 25 فیصد حصص اور 10 فیصد کارپوریٹ بانڈز میں لگائے گئے۔ یہ تقسیم ایک متوازن سرمایہ کاری کے طریقہ کار کی عکاسی کرتی ہے جس میں زیادہ خطرے والے اثاثوں کی گنجائش کو بھی بڑھایا گیا ہے۔

کرنسی انڈیکس کے مطابق سنہ 2025ء کے دوران ذخائر پر منافع کی شرح تقریباً 7.9 فیصد رہی جبکہ اسرائیلی کرنسی شیکل میں یہ شرح 2.5 فیصد ریکارڈ کی گئی کیونکہ کرنسی انڈیکس کے مقابلے میں اسرائیلی کرنسی کی قدر میں 9.6 فیصد اضافہ ہوا۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ گذشتہ تین اور پانچ سالوں کے دوران مثبت منافع حاصل ہوا ہے جو کہ طویل مدت تک زرمبادلہ کے ذخائر کو برقرار رکھنے کی لاگت پوری کرنے کے سرمایہ کاری پالیسی کے ہدف کے عین مطابق ہے۔

تاہم رپورٹ میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ میں کمی کی وجہ سے ذخائر میں عدم استحکام معمولی کم ہوا ہے لیکن پورٹ فولیو میں حصص کا وزن بڑھانے سے خطرے کی سطح میں اضافہ ہوا ہے بالخصوص خسارے کے خطرے کے انڈیکس کے مطابق خطرات بڑھے ہیں۔

اس تناظر میں مانیٹری کمیٹی نے سال کے اختتام پر نئی ترامیم کی منظوری دی ہے جن کا مقصد سکیورٹی اور لیکویڈیٹی کے معیار کو بہتر بنانا ہے جبکہ زیادہ خطرے والے اثاثوں میں سرمایہ کاری کے مارجن کو سوچ سمجھ کر وسعت دی گئی ہے۔