تیونس میں یومِ ارضِ فلسطین کی مناسبت سے یکجہتی کی مختلف تقریبات کا انعقاد

0
8

مرکزاطلاعات فلسطین

تیونس کے دارالحکومت اور متعدد شہروں میں 28 اور 29 مارچ سنہ 2026ء کو یومِ ارضِ فلسطین کی یاد میں یکجہتی کی مختلف تقریبات منعقد کی گئیں۔ ان پروگراموں میں احتجاجی مظاہرے، عوامی ریلیاں اور علامتی سرگرمیاں شامل تھیں جن کا مقصد فلسطینی عوام اور ان کی مزاحمت کی حمایت کا اعادہ اور قابض اسرائیل کی جارحیت اور تطبیقِ تعلقات کی پالیسیوں کو مسترد کرنا تھا۔

سنیچر 28 مارچ کی شام "جمعية أنصار فلسطين” (انصارِ فلسطین ایسوسی ایشن) نے دارالحکومت کے میونسپل تھیٹر کی سیڑھیوں پر ایک احتجاجی مظاہرہ منظم کیا۔ یہ مظاہرہ ان مسلسل ہفتہ وار مظاہروں کا حصہ تھا جن کی تعداد بغیر کسی تعطل کے 122 تک پہنچ چکی ہے اور اس بار اسے خاص طور پر یومِ ارض کی مناسبت سے منسوب کیا گیا تھا۔ شرکاء نے ایسے بینرز اور کتبے اٹھا رکھے تھے جن پر غزہ میں قابض اسرائیل کے جرائم، نسل کشی کی جنگ پر عرب دنیا کی خاموشی اور مغربی کنارے میں بستیوں کی غیر قانونی توسیع کی شدید مذمت درج تھی۔

ایسوسی ایشن کے کارکنوں نے بین الاقوامی دباؤ کے باوجود مزاحمت کے راستے پر قائم رہنے اور ہار ماننے سے انکار کے عزم کا اظہار کیا اور عالمی مسائل کے حل میں دوہرے معیار کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ مظاہرین نے قابض اسرائیل کی حمایت کرنے والی کمپنیوں کے بائیکاٹ کو جاری رکھنے کی اپیل کی اور تیونس میں "گلوبل صمود فلوٹیلا” کے گرفتار منتظمین کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے ان کی سرگرمیوں کو غزہ کی پٹی کا محاصرہ توڑنے کی ایک جائز کوشش قرار دیا۔

اس احتجاج کا اختتام علامتی طور پر قابض اسرائیل کا جھنڈا نذرِ آتش کر کے کیا گیا تاکہ تطبیقِ تعلقات کو مسترد کرنے کا اظہار کیا جا سکے، جس کے بعد شرکاء نے فلسطینی عوام کی نصرت کے لیے اجتماعی دعا کی۔

اسی تناظر میں سینکڑوں تیونسی شہریوں نے "نیٹ ورک برائے انسدادِ تطبیقِ تعلقات” کی کال پر ایک احتجاجی مارچ نکالا جس نے دارالحکومت کی شاہراہوں کا چکر لگایا اور میونسپل تھیٹر کے سامنے پڑاؤ ڈالا۔ شرکاء نے تطبیقِ تعلقات کے خلاف اور نام نہاد "عرب غداریوں” کی مذمت میں پرجوش نعرے لگائے۔ انہوں نے فلسطینی کاز کے ساتھ یکجہتی کو جرم قرار دینے کے عمل کو مسترد کیا اور "گلوبل صمود فلوٹیلا” کے کارکنوں کی گرفتاریوں پر شدید تنقید کی۔

اگلے روز اتوار 29 مارچ کو "جمعية أنصار فلسطين” نے اپنی سرگرمیاں جاری رکھتے ہوئے شطرنج کا ایک کھلا مقابلہ منعقد کیا جس کا عنوان "قابض اسرائیل: شہ مات” رکھا گیا تھا۔ یہ ایک علامتی اقدام تھا جس کا مقصد یہ پیغام دینا تھا کہ قابض اسرائیل کا زوال یقینی ہے۔

ایسوسی ایشن کے سربراہ مراد اليعقوبی نے تقریب کا آغاز کرتے ہوئے یومِ ارض کے پس منظر پر روشنی ڈالی جو ہر سال 30 مارچ کو منایا جاتا ہے۔ انہوں نے سنہ 1976ء میں اپنی زمینوں پر قبضے کے خلاف فلسطینیوں کے اس انتفادہ کو یاد کیا جس میں بڑی تعداد میں لوگ شہید، زخمی اور گرفتار ہوئے تھے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ یہ یادگار دنیا بھر کے تمام حریت پسندوں کے لیے جدوجہد کا ایک مشترکہ مرکز ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ "قابض اسرائیل: شہ مات” کے عنوان کا انتخاب اس یقین کا عکاس ہے کہ قابض دشمن کا انجام قریب ہے، چاہے کتنا ہی وقت کیوں نہ گزر جائے۔ دوسری جانب تیونسی شطرنج فیڈریشن کے نمائندے نے اس اقدام کی حمایت کرتے ہوئے فلسطینی عوام کی جدوجہد کو خراجِ تحسین پیش کیا، جس کے بعد شہدا کی ارواح کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی۔

اس مقابلے کے اختتام پر جیتنے والوں میں انعامات اور شرکاء میں تحائف تقسیم کیے گئے۔ اسی طرح کی ایک تقریب بنزرت شہر میں بھی منعقد ہوئی جس میں بچوں اور نوجوانوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اس موقع پر ہر طرف فلسطینی پرچم، شہدا کی تصاویر اور مسجد اقصیٰ کی تصاویر آویزاں تھیں جس سے ماحول انتہائی جذباتی اور پرجوش رہا۔

منظمین کے مطابق یہ تقریبات اس بات کا ثبوت ہیں کہ تیونس کے عوام فلسطینی کاز کی حمایت میں آج بھی پیش پیش ہیں اور وہ ہر فورم پر مظلوم فلسطینیوں کی نصرت کے اپنے عہد کی تجدید کرتے رہیں گے۔