
مرکزاطلاعات فلسطین
غزہ کی پٹی میں جاری نازک سیز فائر کے باوجود غاصب صہیونی دشمن کی جانب سے وعدہ خلافیوں اور خلاف ورزیوں کا سلسلہ تھم نہیں سکا، جہاں رفح کے علاقے مواصی اور جنوبی شہر خان یونس میں بے گھر فلسطینیوں کے خیموں پر قابض فوج کی براہ راست فائرنگ کے نتیجے میں متعدد پناہ گزین زخمی ہو گئے۔ اسی دوران غزہ شہر کے مشرقی حصوں میں قابض فوج کی بکتر بند گاڑیوں نے اندھا دھند فائرنگ کی جبکہ خان یونس کے مشرقی علاقوں اور حی التفاح کو شدید گولہ باری کا نشانہ بنایا گیا۔
قابض اسرائیل کی بحریہ کے جنگی جہازوں نے دیر البلح، خان یونس اور غزہ کی پٹی کے شمالی ساحلوں پر گولہ باری کی، جو کہ جاری جارحیت اور فلسطینیوں کی نسل کشی کی مہم میں مسلسل اضافے کی علامت ہے۔
میدانی صورتحال کے مطابق شمالی غزہ میں اسرائیلی فوج کی گولی لگنے سے ایک خاتون زخمی ہوئیں جبکہ غزہ شہر کے وسط میں ایک رہائشی اپارٹمنٹ پر ہونے والے فضائی حملے میں تین افراد شدید زخمی ہوئے۔
اس سے قبل غزہ کی پٹی کے وسط میں واقع نصیرات کیمپ میں پولیس کی ایک گاڑی کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں تین اہلکار جامِ شہادت نوش کر گئے۔ عینی شاہدین کے مطابق قابض اسرائیل کے ایک ڈرون طیارے نے کیمپ کے اندر ابو صرار چوک پر پولیس کی گاڑی پر میزائل داغا، جس سے تین فلسطینی شہید اور متعدد شہری زخمی ہوئے، جنہیں طبی امداد کے لیے العودہ ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔
دوسری جانب حماس کے ترجمان حازم قاسم نے اپنے بیان میں کہا کہ قابض اسرائیل بے گھر افراد اور پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنا کر غزہ کی پٹی میں اپنی جارحیت کو مسلسل ہوا دے رہا ہے، جسے انہوں نے سیز فائر معاہدے کی صریح خلاف ورزی اور مسلمانوں کے جذبات کی توہین قرار دیا۔
حازم قاسم نے مزید کہا کہ قابض اسرائیل ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی میں عالمی برادری کی مصروفیت کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے غزہ میں اپنی خونی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے ثالثوں اور ضامن ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری مداخلت کریں اور قابض اسرائیل کو اپنی خلاف ورزیاں روکنے اور معاہدے کی پاسداری کرنے پر مجبور کریں۔
یہ المناک پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اکتوبر سنہ 2023ء سے جاری اس وحشیانہ جنگ میں جانی نقصان کی تعداد ہوش ربا حد تک بڑھ چکی ہے۔ اب تک شہداء کی مجموعی تعداد 72253 تک پہنچ گئی ہے جبکہ زخمیوں کی تعداد 191912 ہو چکی ہے، جو غزہ کی پٹی میں انسانی المیے کی سنگینی کو واضح کرتی ہے۔
قابض فوج نے غزہ کا محاصرہ مزید سخت کر رکھا ہے جبکہ رفح کراسنگ کو انتہائی محدود پیمانے پر چلایا جا رہا ہے، جہاں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کی ترسیل اور مریضوں و زخمیوں کے خروج پر غاصب دشمن کا سخت پہرا ہے۔ نظامِ صحت کی مکمل تباہی کے باعث صورتحال مزید ابتر ہو چکی ہے۔
ایک اور افسوسناک واقعے میں قابض فوج نے رفح کراسنگ کے ذریعے غزہ واپس آنے والے ایک شہری کو گرفتار کر لیا جو تین سال بیرونِ ملک گزارنے کے بعد اپنے بیمار بھائی کے ہمراہ وطن لوٹ رہا تھا۔ عینی شاہدین کے مطابق انسانی حقوق کی تنظیموں کی مداخلت اور کئی گھنٹوں کے انتظار کے بعد اہل خانہ کو اس کی باقاعدہ گرفتاری کی اطلاع دی گئی۔
کراسنگ اور سرحدوں کی جنرل اتھارٹی نے پیر کے روز بتایا کہ اتوار کو کراسنگ کے ذریعے روانہ ہونے والے مسافروں کی کل تعداد محض 25 تھی، جن میں 8 مریض اور 17 تیماردار شامل تھے۔ اسی دوران 28 مسافروں کی آمد درج کی گئی جن کے داخلے کے طریقہ کار کو مکمل کیا گیا۔ اتھارٹی نے زور دیا کہ کراسنگ پر کام باقاعدگی سے جاری ہے تاکہ انسانی بنیادوں پر آمد و رفت کو کسی حد تک سہولت فراہم کی جا سکے۔

