مرکزاطلاعات فلسطین
قابض اسرائیلی فوج نے کچھ دیر قبل جنوبی لبنان کی 80 بستیوں اور دیہات کو فوری طور پر خالی کرنے کا حکم دیا ہے تاکہ ان مقامات پر وحشیانہ فضائی غارت گری کی جا سکے، جبکہ دوسری جانب صہیونی فوج کی 91 ویں ڈویژن کی قیادت میں زمینی دراندازی کی کوششیں بھی جاری ہیں۔
قابض اسرائیل کے میڈیا ذرائع کے مطابق صہیونی فوج نے منگل کی صبح سے اب تک لبنان میں تقریباً 40 اہداف پر بمباری کی ہے اور درجنوں بستیوں کے مکینوں کو علاقہ چھوڑنے کے احکامات جاری کرتے ہوئے انہیں خبردار کیا ہے کہ وہ اپنے گھروں کو واپس نہ لوٹیں۔
قابض دشمن نے جنوبی لبنان کی بستیوں طیرفلسيه، بریقہ، بلاط اور دیگر درجنوں دیہات پر شدید فضائی حملے کیے ہیں جس سے بڑے پیمانے پر تباہی پھیلی ہے۔
عبرانی نشریاتی ادارے نے آج منگل کو اطلاع دی ہے کہ لبنان پر جارحیت کو وسعت دینے کے صہیونی فیصلے کے بعد قابض اسرائیل کی زمینی افواج نے جنوبی لبنان کے مختلف علاقوں میں پیش قدمی کی ہے۔
قابض اسرائیل کے وزیر جنگ یسرائیل کاٹز نے آج صبح جنوبی لبنان میں صہیونی فوج کی پیش قدمی اور تزویراتی مقامات پر قبضے کی باقاعدہ منظوری دی ہے۔
الجزیرہ نے ایک لبنانی سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ قابض اسرائیلی افواج جنوبی لبنان کی بستیوں کفر کلا اور القوزح میں کئی سو میٹر تک اندر داخل ہو گئی ہیں۔
خبر رساں ادارے روئٹرز نے عینی شاہدین کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ قابض دشمن کی نئی علاقوں کی جانب پیش قدمی کے پیش نظر لبنانی فوج مقبوضہ فلسطین اور لبنان کی سرحد پر واقع کم از کم 7 اگلے مورچوں سے پیچھے ہٹ گئی ہے۔
سوشل میڈیا پر کارکنوں کی جانب سے جاری کردہ ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جنوبی لبنان کی سرحدی پٹی کے دیہات میں شدید لڑائی کے خدشات کے پیش نظر لبنانی فوج کی بکتر بند گاڑیاں پیچھے ہٹ رہی ہیں۔
لبنان میں تعینات اقوام متحدہ کی امن فورس "یونیفل” نے مسلسل بڑھتی ہوئی کشیدگی اور لبنان پر قابض اسرائیل کی وحشیانہ سفاکیت کے پیش نظر اپنے تمام غیر ضروری غیر لبنانی سویلین عملے اور ان کے اہل خانہ کو فوری طور پر وہاں سے نکالنے کا فیصلہ کیا ہے۔
دریں اثنا اقوام متحدہ نے اعلان کیا ہے کہ ایک طرف قابض اسرائیل اور امریکہ جبکہ دوسری طرف ایران کے درمیان جاری جنگ کی وجہ سے لبنان میں اب تک 30 ہزار افراد بے گھر ہو کر پناہ گاہوں میں منتقل ہو چکے ہیں۔



