
مرکزاطلاعات فلسطین
قابض اسرائیلی فوج کی جانب سے سرحدوں پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کے سائے میں مسلسل پانچویں روز بھی جنوب لبنان کے علاقوں پر شدید فضائی اور توپ خانے سے بمباری کا سلسلہ جاری رہا۔ یہ حملے امریکہ اور ایران کے درمیان ایک عارضی جنگ بندی کے اعلان کے باوجود کیے جا رہے ہیں، جس کے بارے میں واشنگٹن اور تل ابیب کا دعویٰ ہے کہ یہ لبنانی محاذ پر لاگو نہیں ہوتی۔
لبنانی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق اتوار کے روز ہونے والی ان اسرائیلی غارت گریوں کے نتیجے میں کم از کم پانچ افراد شہید اور درجنوں زخمی ہوئے ہیں۔ یہ حملے ضلع صور، مرجعیون اور بنت جبیل کے قصبوں اور دیہاتوں کو نشانہ بنا کر کیے گئے۔
میدانی صورتحال یہ ہے کہ قابض اسرائیل کے اپاچی ہیلی کاپٹروں نے الخیام قصبے پر بھاری مشین گنوں سے اندھا دھند فائرنگ کی، جبکہ اس کے ساتھ ہی علاقے پر توپ خانے سے بھی شدید گولہ باری کی گئی۔ الخیام کی بلدیہ نے بڑھتی ہوئی سنگین صورتحال کے پیش نظر شہریوں سے گھروں میں رہنے اور کھلے مقامات سے بچنے کی اپیل کی ہے۔
اسرائیلی فضائی حملوں کا دائرہ تفاحتا، تبنا، البابليہ، جويا، الکفور، زوطر، دبين اور شمع جیسے متعدد قصبوں تک پھیل گیا، جہاں جنگی طیاروں اور ہیلی کاپٹروں کی نچلی پروازوں کے ساتھ ساتھ مخصوص اہداف پر مرکوز بمباری کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
دوسری جانب حزب اللہ نے اپنی عسکری کارروائیاں جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے اور اتوار کے روز مقبوضہ فلسطین کے شمالی علاقوں میں صیہونی بستیوں اور فوجی ٹھکانوں پر راکٹوں اور دھماکہ خیز ڈرون طیاروں سے حملے کیے۔ گذشتہ روز ہفتہ کو بھی حزب اللہ نے محاذ پر قابض اسرائیلی فوج کی نقل و حرکت اور ٹھکانوں کے خلاف اپنی کارروائیوں کے حوالے سے 37 عسکری بیانات جاری کیے تھے۔
ادھر قابض اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے جنوب لبنان میں ایک ایسے راکٹ لانچر کو تباہ کر دیا ہے جو فائرنگ کے لیے تیار تھا، اور گذشتہ رات اپنی افواج کو نشانہ بنانے والے ایک حملے کو ناکام بنانے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔
لبنانی وزارت صحت کے مطابق 2 مارچ سے 11 اپریل سنہ 2026ء تک لبنان پر جاری اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں شہداء کی تعداد 2020 تک پہنچ گئی ہے جبکہ زخمیوں کی تعداد 6436 ہو چکی ہے، جو کہ اس تصادم کے بڑھتے ہوئے دائرے اور بھاری انسانی قیمت کی عکاسی کرتا ہے۔
سیاسی محاذ پر قابض حکومت کے وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے اپنے لہجے میں سختی لاتے ہوئے مزید فوجی کارروائیوں کی دھمکی دی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تل ابیب حزب اللہ کے غیر مسلح ہونے اور ایک ایسے امن معاہدے تک پہنچنے سے پہلے کسی مذاکرات میں شامل نہیں ہوگا جو ان کے بقول نسلوں تک قائم رہے۔
دوسری طرف حزب اللہ نے براہ راست مذاکرات کو مسترد کرنے کے اپنے موقف کو دہرایا ہے، جبکہ لبنانی ایوان صدر آنے والے دنوں میں واشنگٹن میں مشاورت کے آغاز کی تیاری کر رہا ہے۔
یہ تمام تر تبدیلیاں مارچ کے آغاز سے جاری اس جنگ کے تسلسل میں ہو رہی ہیں، جس میں پاکستان کی ثالثی سے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کا اعلان تو کیا گیا اور تہران و اسلام آباد کے مطابق یہ لبنان کے لیے بھی تھی، لیکن قابض اسرائیل نے اپنی فوجی کارروائیاں جاری رکھیں جنہیں حالیہ عرصے کی شدید ترین بمباری قرار دیا جا رہا ہے۔

