
مرکزاطلاعات فلسطین
اسلامی تحریک مزاحمت (حماس) نے غزہ کی پٹی میں فلسطینی عوام کے خلاف نسل کشی کے لرزہ خیز جرائم کے ارتکاب پر مجرم صہیونی ریاست کے خلاف عالمی عدالت انصاف میں دائر مقدمے میں مملکت ہالینڈ اور جمہوریہ آئس لینڈ کی باقاعدہ شمولیت کا پرجوش خیرمقدم کیا ہے۔
حماس نے اپنے ایک جاری بیان میں اس فیصلے کو عالمی انصاف کے اصولوں کی تقویت اور انسانی اقدار اور بین الاقوامی قانون کی کھلی طرفداری قرار دیا ہے۔
تحریک نے ایک بار پھر اس امر پر زور دیا کہ تمام ممالک کو چاہیے کہ وہ اس باغی صہیونی ریاست اور اس کے جنگی مجرم رہنماؤں کے خلاف عالمی عدالت انصاف اور عالمی فوجداری عدالت میں دائر مقدمات کی حمایت میں اپنی تمام تر توانائیاں مجتمع کریں تاکہ ہمارے مظلوم فلسطینی عوام کے خلاف کیے جانے والے سفاکانہ جرائم اور ہولناک خلاف ورزیوں پر ان مجرموں کی گرفت کو یقینی بنایا جا سکے اور وہ قانون کے شکنجے سے کسی صورت نہ بچ سکیں۔
اس قانونی جدوجہد کی جڑیں سات اکتوبر سنہ 2023ء سے غزہ کی پٹی پر جاری اسرائیلی جارحیت میں پیوست ہیں جس کے نتیجے میں اب تک دسیوں ہزار فلسطینی جام شہادت نوش کر چکے ہیں جبکہ بے شمار زخمی ہوئے اور پورے علاقے میں وسیع پیمانے پر تباہی پھیلائی گئی۔ جنوبی افریقہ نے سنہ 2023ء میں 29 دسمبر کو عالمی عدالت انصاف میں قابض اسرائیل کے خلاف نسل کشی کی روک تھام اور اس کی سزا سے متعلق عالمی کنونشن کی کھلی خلاف ورزی پر مقدمہ دائر کیا تھا۔
جنوبی افریقہ نے اپنے موقف میں یہ حقیقت واضح کی تھی کہ قابض اسرائیل کی وحشیانہ عسکری کارروائیاں، بڑے پیمانے پر قتل عام، بنیادی ڈھانچے کی منظم تباہی اور غزہ کے باسیوں پر مسلط کردہ انتہائی کٹھن انسانی حالات ایسے افعال ہیں جو سنہ 1948ء کے عالمی کنونشن کے تحت نسل کشی کے زمرے میں آتے ہیں۔
جنوری سنہ 2024ء میں عالمی عدالت انصاف نے ہنگامی اقدامات کا حکم دیتے ہوئے یہ تسلیم کیا تھا کہ جنوبی افریقہ کی جانب سے جن حقوق کے تحفظ کا مطالبہ کیا گیا ہے وہ اصولی طور پر معقول ہیں۔ عدالت نے قابض اسرائیل کو حکم دیا تھا کہ وہ نسل کشی کے مترادف ہر فعل کو روکنے کے لیے فوری اقدامات کرے اور غزہ تک انسانی امداد کی بلا تعطل رسائی کو یقینی بنائے، تاہم قابض اسرائیل نے ان تمام احکامات کو پس پشت ڈال دیا۔
بعد ازاں جنوبی افریقہ کی درخواست پر عالمی عدالت نے سنہ 2024ء میں مارچ اور مئی کے مہینوں میں غزہ کی پٹی کی بگڑتی ہوئی انسانی صورتحال کے پیش نظر ان احتیاطی تدابیر کو مزید سخت کرنے کے احکامات جاری کیے۔
یہ اہم مقدمہ تاحال عالمی عدالت میں زیر سماعت ہے اور اب تک متعدد ممالک اس کارروائی میں فریق بن چکے ہیں تاکہ کسی ایک فریق کی حمایت یا نسل کشی کنونشن کی قانونی تشریح میں اپنا حصہ ڈال سکیں۔ توقع کی جا رہی ہے کہ اس طویل قانونی عمل کے بعد حتمی فیصلہ آنے میں برسوں لگ سکتے ہیں۔

