نگرانی کیمرے وہ دکھا رہے ہیں جو سنسرشپ چھپا رہی ہے… ایسے حملے جو اسرائیل کے اندرونی حصے کو کمزور کر رہے ہیں
جنگ اپنے 38ویں دن میں داخل ہوتے ہی ایک مختلف زمینی حقیقت سامنے آ رہی ہے… وہ جو اسرائیلی فوجی ادارہ دکھانا چاہتا ہے اس سے ہٹ کر۔ جہاں فوجی سنسرشپ میزائلوں کے گرنے کے مقامات پر سخت پردہ ڈالے ہوئے ہے، وہیں نگرانی کیمروں اور اوپن سورس ذرائع نے ایرانی اور حزب اللہ کے میزائلوں کے فضائی دفاع کو چیرتے ہوئے لمحات محفوظ کر لیے… یوں ایک ایسا نقشہ سامنے آیا ہے جس میں مرکزی شہروں کے قلب اور حساس تنصیبات تک کو نشانہ بنتے دیکھا جا سکتا ہے
ایسی عکاسی جو نگرانی کی زنجیروں کو توڑ دے
"اوپن سورس” یونٹ نے ڈیجیٹل فضا میں بکھرے درجنوں مناظر کا سراغ لگایا… جنگ کے آغاز، یعنی 28 فروری سے اب تک نگرانی کیمروں میں قید 25 ویڈیوز کو کھنگالا گیا۔ پھر جدید ڈیجیٹل جانچ کے مراحل سے گزار کر ایک واضح نقشہ ترتیب دیا گیا… ایسا نقشہ جو نہ صرف میزائلوں کے گرنے کی جگہیں ظاہر کرتا ہے بلکہ ان علاقوں کی بھی نشاندہی کرتا ہے جو سب سے زیادہ نشانہ بنے اور شدید متاثر ہوئے
اور نقشے نے 22 ایسے مقامات کو نمایاں کیا جو براہِ راست حملوں کی زد میں آئے… جیسا کہ بصری شواہد سے عیاں ہے۔ زیادہ تر ضربیں اسرائیل کے وسط میں مرکوز رہیں، جن میں عظیم تر تل ابیب کا علاقہ (پیتاح تکفا، ریشون لتسیون، رمات گان اور گوش دان) شامل ہے… اس کے ساتھ ساتھ مقبوضہ بیت المقدس کے مغرب میں واقع لُد اور بیت شیمش کے شہر بھی اس کی لپیٹ میں آئے۔
اور حملوں کا دائرہ شمال اور جنوب تک پھیل گیا… جہاں حیفا کی ریفائنری میں شیل کے ٹکڑوں کے گرنے کی دستاویز بندی کی گئی، اور بئر السبع شہر کے اندر پیٹروکیمیکل فیکٹریوں کو نشانہ بنایا گیا۔ اسی طرح لبنان کی سرحد کے قریب واقع قصبوں—کریات شمونہ، معالوت ترشیحا اور افیفیم—پر بھی شدید حملے ریکارڈ ہوئے۔ دستیاب معلومات کے مطابق یہ حملے زیادہ تر فوجی اہداف اور حساس صنعتی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے مرکوز تھے۔
اسرائیل میں میزائل گرنے کے مقامات… اوپن سورس ٹیم کی چشم کشا دستاویز
الجزیرہ نیٹ کی اوپن سورس ٹیم نے نگرانی کیمروں کی ریکارڈ شدہ فوٹیجز کی بنیاد پر میزائل گرنے کے مقامات کی نشاندہی کی ہے۔
افیفیم، لُد، بئر السبع، پیتاح تکفا، بنی براق، بیت شیمش، تل ابیب، حیفا، رمات گان، ریشون لتسیون، گوش دان، کریات شمونہ اور معالوت ترشیحا۔
سنسرشپ کی جنگ… جب سچائی پردوں سے باہر نکل آئے
اوپن سورس ٹیم نے یہ مناظر اس وقت ریکارڈ کیے جب یہ اسرائیلی اکاؤنٹس کے ذریعے ٹیلیگرام، ایکس اور فیس بک جیسے پلیٹ فارمز پر گردش کر رہے تھے۔ یہاں ایک نمایاں تضاد سامنے آتا ہے… اسرائیلی سرکاری میڈیا نے ان مناظر میں سے تقریباً نصف کو اپنی نشریات میں شامل نہیں کیا، کیونکہ انہیں فوجی سنسرشپ کی منظوری حاصل نہیں تھی۔ یہی وجہ بنی کہ ٹیلیگرام اور غیر سنسر شدہ اکاؤنٹس ان تصاویر کو پھیلانے اور سرکاری پردے کو توڑنے کا سب سے بڑا ذریعہ بن گئے۔
اسی پس منظر میں اسرائیل میں معلومات کی آزادی کے لیے سرگرم تحریک کے ڈائریکٹر جنرل، ہیڈی نیگف نے موجودہ جنگ میں فوجی سنسرشپ کے غیر معمولی دباؤ کو بے نقاب کیا ہے۔ ان کے مطابق ٹیلی ویژن نیوز رومز میں سنسرشپ کا ایک نمائندہ چوبیس گھنٹے موجود رہتا ہے، جو ہر مواد کو نشر ہونے سے پہلے باریک بینی سے جانچتا ہے۔
ہیڈی نیگف کے اعداد و شمار کے مطابق،
سال 2024 کے دوران فوجی سنسرشپ نے 1635 خبروں کی مکمل اشاعت پر پابندی عائد کی… جبکہ مزید 6265 خبروں کے مختلف حصوں کو نشر ہونے سے روک دیا گیا۔ یہ اعداد و شمار اپنی نوعیت کے غیر معمولی ہیں، جو اس بات کی واضح عکاسی کرتے ہیں کہ سکیورٹی معاملات سے جڑے امور میں معلومات کی اشاعت کو روکنے اور پردہ ڈالنے کے عمل میں کس حد تک مداخلت کی جاتی ہے۔
بھاری نقصان…
دفاعی نظام پر بڑھتا دباؤ اور اندرونی تھکن
زمینی اعداد و شمار کے مطابق، جنگ کے ابتدائی 31 دنوں میں ایران نے اسرائیل کی سمت تقریباً 450 میزائل داغے۔ اسرائیلی اخبار ہآرتس کے مطابق کم از کم 12 بیلسٹک میزائل براہِ راست اپنے اہداف کو نشانہ بنانے میں کامیاب رہے، جن میں تل ابیب، بیت شیمش، بیت المقدس، بئر السبع، دیمونہ، عراد، صفد اور الخضیرہ جیسے شہر شامل ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ 42 کلسٹر میزائل ایسے بھی تھے جو فضائی دفاعی نظام کو چیرتے ہوئے اندر داخل ہو گئے… اور پھر درجنوں چھوٹے دھماکہ خیز بم بکھیر دیے، جنہوں نے 230 سے زائد مقامات کو اپنی لپیٹ میں لیا، جن میں زیادہ تر حملے اسرائیل کے وسطی علاقوں میں مرکوز رہے۔
ان حملوں کے نتیجے میں اسرائیل میں پہلے مہینے کے دوران 16 افراد کی ہلاکت بھی رپورٹ ہوئی۔ اسی دوران دفاعی ناکامی کے بڑھتے ہوئے تاثر کو مزید تقویت دیتے ہوئے اسرائیلی اخبار یدیعوت احرونوت نے پیر کے روز یہ انکشاف کیا کہ حیفا میں ایک عمارت پر براہِ راست ایرانی حملے کے بعد ملبے تلے لاپتہ ہونے والے 4 اسرائیلی شہریوں کی لاشیں برآمد ہوئیں۔ بتایا گیا کہ میزائل کو روکنے کی کوشش ناکام رہی اور وہ بغیر پھٹے ہی اپنے ہدف پر آ گرا۔


