رفح کے راستے طبی انخلا کی بحالی، ہلال احمر نے غزہ کے 20 مریضوں کو منتقل کر دیا

0
10

مرکزاطلاعات فلسطین

فلسطینی ہلال احمر سوسائٹی نے رفح بری سرحدی گزرگاہ کے ذریعے متعدد مریضوں کے طبی انخلا کے عمل میں شرکت کی، جو عید الفطر کی تعطیلات کے دوران معطل رہنے کے بعد دوبارہ بحال کر دی گئی ہے۔

ہلال احمر نے ایک پریس بیان میں وضاحت کی کہ اس کے عملے نے خان یونس میں واقع اپنے بحالی مرکز کے ہسپتال سے 20 افراد کو، جن میں مریض اور ان کے تیماردار شامل تھے، رفح گزرگاہ منتقل کیا تاکہ وہ علاج کے لیے غزہ سے باہر جا سکیں۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ انخلا کا یہ عمل عالمی ادارہ صحت اور متعلقہ حکام کے تعاون سے جاری انسانی ہمدردی کی کوششوں کے فریم ورک کے تحت انجام دیا گیا ہے تاکہ ان مریضوں کو طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں جن کا علاج کے اندر ممکن نہیں رہا۔

سوسائٹی نے اس بات پر زور دیا کہ طبی انخلا کی کارروائیوں میں اس کی شرکت مریضوں اور زخمیوں کی مدد کرنے اور ان کے لیے علاج تک رسائی آسان بنانے کے انسانی فریضے کا حصہ ہے، بالخصوص ایسے حالات میں جب قطاع غزہ کی طبی تنصیبات شدید دباؤ کا شکار ہیں اور مریضوں کو بیرونی ہسپتالوں میں منتقل کرنے کی ضرورت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

عید کی چھٹیوں کے باعث عارضی تعطل کے بعد رفح گزرگاہ سے طبی انخلا کی بحالی پر عملہ اس بات کو یقینی بنا رہا ہے کہ مریضوں کی منتقلی محفوظ طریقے سے ہو اور قطاع سے روانگی تک انہیں ہر ممکن مدد فراہم کی جائے۔

رفح اور دیگر گزرگاہوں کی بندش کے نتیجے میں غزہ میں انسانی اور طبی امداد کی فراہمی رک گئی تھی، جس کی وجہ سے قطاع میں انسانی صورتحال انتہائی ابتر ہو چکی ہے اور بنیادی ضروریات کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے۔ اس بندش نے افراد کی نقل و حرکت اور طبی انخلا کے منتظر مریضوں اور زخمیوں کے باہر جانے کے عمل کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے۔

یاد رہے کہ قابض اسرائیل نے فروری سنہ 2026ء کے آغاز میں رفح گزرگاہ کو جزوی طور پر دوبارہ کھولا تھا، جس کے تحت اکتوبر سنہ 2025ء میں نافذ ہونے والے جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے کی روشنی میں مخصوص شرائط و ضوابط کے تحت فلسطینی مریضوں اور زخمیوں کو باہر جانے اور دیگر کی واپسی کی اجازت دی گئی تھی۔

رفح گزرگاہ غزہ کو قابض اسرائیل کے علاقوں سے گزرے بغیر بیرونی دنیا سے جوڑنے والا واحد زمینی راستہ ہے، تاہم مئی سنہ 2024ء سے یہ علاقہ قابض اسرائیل کی افواج کے زیر اثر ہے اور سنہ 2025ء کے دوران اسے صرف محدود وقفوں کے لیے ہی کھولا گیا ہے۔