ریگستانی طوفان نے غزہ کے بے گھر فلسطینیوں کی تکالیف میں اضافہ کر دیا

0
7

مرکزاطلاعات فلسطین

غزہ کی پٹی میں سول ڈیفنس کی جنرل ڈائریکٹوریٹ نے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ فلسطینی فضاؤں کو اپنی لپیٹ میں لینے والی گرد آلود ہواؤں کے اثرات سے بچنے کے لیے ضروری حفاظتی اقدامات اختیار کریں۔ مٹی اور ریت سے لدا یہ ریگستانی طوفان ان بے گھر فلسطینیوں کی تکالیف کو کئی گنا بڑھا رہا ہے جو ایسی خیمہ بستیوں میں مقیم ہیں جہاں تحفظ کی کم از کم سہولیات بھی میسر نہیں ہیں۔

ڈائریکٹوریٹ نے ہفتے کے روز جاری ایک بیان میں شہریوں بالخصوص سانس کی بیماریوں میں مبتلا مریضوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ہوا میں گرد و غبار کے بڑھتے ہوئے تناسب کے باعث انتہائی ضرورت کے بغیر گھروں، پناہ گاہوں یا خیموں سے باہر نہ نکلیں۔

ہدایات میں کہا گیا ہے کہ باہر نکلتے وقت کپڑے کے ماسک پہنیں یا ناک پر گیلا کپڑا رکھیں اور آنکھوں کو مٹی سے بچائیں، خاص طور پر وہ لوگ جو آنکھوں کی الرجی کا شکار ہیں۔ اسی طرح گرد آلود موسم کے اثرات کم کرنے کے لیے افطار کے بعد اور رات کے اوقات میں پانی اور مشروبات کا زیادہ استعمال کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔

محکمہ سول ڈیفنس نے خیموں اور ترپالوں کو مضبوطی سے باندھنے کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ وہ تیز ہواؤں کے باعث اڑ نہ جائیں، خاص طور پر ساحل سمندر اور ساحلی علاقوں میں مقیم بے گھر افراد کے لیے یہ ہدایات انتہائی اہم ہیں۔

ہفتے کے روز غزہ کی پٹی میں آنے والے اس طاقتور ریگستانی طوفان کے باعث ہر طرف مٹی اور گرد و غبار چھا گیا ہے، جبکہ تیز ہواؤں نے براہ راست بے گھر افراد کے خیموں کو متاثر کیا ہے جس سے انسانی و طبی خطرات بڑھ گئے ہیں، بالخصوص دائمی اور سانس کے امراض میں مبتلا مریضوں کے لیے صورتحال سنگین ہو گئی ہے۔

محکمہ موسمیات نے توقع ظاہر کی ہے کہ موسم گرد آلود اور جزوی طور پر ابر آلود رہے گا، جبکہ دن کے درجہ حرارت میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئے گی اور بعض علاقوں میں بارش کا بھی امکان ہے۔ ہوا شمال مشرقی سے جنوب مشرقی جانب چلے گی جو معتدل سے تیز ہو سکتی ہے۔

شام اور رات کے اوقات میں ملک کے ایک سرد لہر اور کم دباؤ کے زیر اثر آنے کی توقع ہے جس کے نتیجے میں درجہ حرارت گرے گا اور زیادہ تر علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش ہو سکتی ہے۔

یہ موسمی حالات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب غزہ کی پٹی میں لاکھوں بے گھر فلسطینی ان بوسیدہ خیموں میں زندگی گزار رہے ہیں جو سردی یا گرمی کے سخت موسم سے بچاؤ کے لیے ناکافی ہیں۔

گذشتہ سنہ دسمبر سے اب تک غزہ کی پٹی کئی بار شدید موسمی لہروں کا شکار ہو چکی ہے جس کے باعث ہزاروں خیمے اڑ گئے، ڈوب گئے یا انہیں شدید نقصان پہنچا، اس کے علاوہ قابض اسرائیل کی سابقہ بمباری سے متاثرہ عمارتیں گرنے سے درجنوں فلسطینی شہید اور زخمی بھی ہوئے ہیں۔

سیز فائر معاہدے کے باوجود غزہ کی پٹی میں انسانی بحران بدستور برقرار ہے کیونکہ پناہ گاہوں کے لیے ضروری سامان جیسے خیمے، پری فیبریکٹڈ مکانات اور بنیادی ڈھانچے، واٹر نیٹ ورک اور سیوریج سسٹم کی بحالی کے لیے تعمیراتی مواد کی وافر مقدار میں فراہمی نہیں کی جا رہی، جس سے ہر نئے موسمی بحران کے ساتھ انسانی حالات مزید ابتر ہو جاتے ہیں۔