
مرکزاطلاعات فلسطین
یورومیڈ مانیٹر برائے انسانی حقوق (Euro-Med Human Rights Monitor) نے کہا ہے کہ بدنام زمانہ صہیونی جیل "سدی تیمان” میں غزہ کی پٹی سے تعلق رکھنے والے ایک فلسطینی مغوی کی اجتماعی آبروریزی اور بہیمانہ تشدد میں ملوث پانچ اسرائیلی فوجیوں کے خلاف فردِ جرم کا خاتمہ قابض اسرائیل کے نظامِ عدل اور احتساب کے ڈھانچے کے دانستہ اور مکمل خاتمے کی ایک نئی دلیل ہے۔ یہ اقدام ثابت کرتا ہے کہ اسرائیلی عدلیہ مجرموں کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کے بجائے انہیں تحفظ فراہم کرنے اور احتساب سے بچانے میں براہِ راست ملوث ہے، جو کہ فلسطینیوں کے خلاف کیے جانے والے جرائم پر "سزا سے استثنیٰ” کی اسرائیلی پالیسی کا عملی اعلان ہے۔
یورومیڈ مانیٹر نے جمعہ کو جاری کردہ اپنے بیان میں اس بات پر زور دیا کہ فردِ جرم کا ختم ہونا کسی بھی صورت میں جرم کے نہ ہونے یا اس میں ملوث افراد کی بے گناہی کی علامت نہیں ہے، بلکہ یہ اسرائیلی عدالتی نظام کے عسکری، سکیورٹی اور سیاسی سطحوں کے ساتھ گٹھ جوڑ کی ازسرِ نو تصدیق کرتا ہے۔ اس سے یہ حقیقت بے نقاب ہوتی ہے کہ اسرائیلی قانونی اوزاروں کو حقائق کی تلاش یا متاثرین کو انصاف فراہم کرنے کے بجائے مجرموں کو ڈھال فراہم کرنے اور انہیں کسی بھی حقیقی محاسبے سے بچانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، چاہے وہ دستاویزی طور پر ثابت شدہ سنگین ترین جرائم ہی کیوں نہ ہوں۔
انسانی حقوق کے ادارے نے اسرائیلی فوجی پراسیکیوٹر کے اس فیصلے پر شدید حیرت اور ناپسندیدگی کا اظہار کیا جس میں "سدی تیمان” جیل میں ایک فلسطینی مغوی کے خلاف جنسی تشدد اور اذیت رسانی کے انتہائی سنگین کیس میں ملوث پانچ ریزرو فوجیوں کے خلاف فردِ جرم کو ختم کر دیا گیا۔ اسرائیلی حکام نے اس شرمناک قدم کا جواز "طریقہ کار کی پیچیدگیوں” اور "جنگ کے حالات” کو بنا کر پیش کیا ہے۔
اسرائیلی فوج کے ترجمان کے بیان کے مطابق، فردِ جرم کو اس دعوے کے ساتھ ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے کہ "غیر معمولی اور بے مثال حالات” نے مقدمے کو آگے بڑھانے میں رکاوٹ ڈالی۔ ان حالات میں ثبوتوں کی فراہمی میں پیچیدگیاں، متاثرہ فلسطینی کی غزہ واپسی اور ملزمان کے لیے "منصفانہ سماعت” کے حق کے متاثر ہونے جیسے مضحکہ خیز بہانے شامل کیے گئے ہیں۔
یورومیڈ مانیٹر نے وضاحت کی کہ یہ کیس 5 جولائی سنہ 2024ء کا ہے، جب صحرائے نقب میں واقع "سدی تیمان” عقوبت خانے میں پانچ اسرائیلی فوجیوں نے غزہ سے تعلق رکھنے والے ایک فلسطینی مغوی پر، جس کے ہاتھ پاؤں بندھے ہوئے تھے اور آنکھوں پر پٹی تھی، وحشیانہ حملہ کیا۔ اس حملے میں اس کے جسم کے نازک حصوں میں تیز دھار آلہ داخل کر کے اسے جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں اس کی پسلیاں ٹوٹ گئیں، پھیپھڑے میں سوراخ ہوا اور آنتیں اندرونی طور پر بری طرح پھٹ گئیں۔
ادارے نے اس بات پر زور دیا کہ یہ افعال بین الاقوامی انسانی قانون اور انسانی حقوق کے بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہیں، جن کی ویڈیو اسرائیلی ذرائع سے ہی لیک ہوئی تھی۔ سی سی ٹی وی فوٹیج میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ فوجی اہلکار مغوی کو ایک طرف لے جا کر اس کے گرد گھیرا ڈال لیتے ہیں، جبکہ ان میں سے ایک کے پاس کتا بھی ہے، اور وہ اپنے اس گھناؤنے فعل کو چھپانے کے لیے فسادات سے نمٹنے والی ڈھالوں (shields) کا استعمال کر رہے ہیں۔
یورومیڈ مانیٹر نے بتایا کہ رہا ہونے والا متاثرہ فلسطینی تاحال شدید جسمانی اور نفسیاتی اثرات کا شکار ہے اور وہ قابض اسرائیلی حکام کی جانب سے دوبارہ نشانہ بنائے جانے کے خوف میں زندگی گزار رہا ہے۔ ادارے نے اس طرف بھی توجہ دلائی کہ اسرائیلی حکام نے سنجیدہ تحقیقات کے بجائے اس ویڈیو کے لیک ہونے کے پیچھے موجود افراد کا پیچھا کرنے پر توجہ مرکوز رکھی۔
بیان میں کہا گیا کہ بنجمن نیتن یاھو اور دیگر انتہا پسند اسرائیلی سیاست دانوں کی جانب سے ان مجرم فوجیوں کو "ہیرو” قرار دینا اور فردِ جرم کے خاتمے کا خیرمقدم کرنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ معاملہ صرف عدالتی نظام کی ناکامی کا نہیں ہے، بلکہ ایک ایسی سیاسی مرضی موجود ہے جو ان جرائم کو "قومی فریضہ” بنا کر پیش کرتی ہے۔ بنجمن نیتن یاھو نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ "اسرائیل کو اپنے دشمنوں کا پیچھا کرنا چاہیے، اپنے بہادر جنگجوؤں کا نہیں”۔
یورومیڈ مانیٹر نے مزید کہا کہ اسرائیلی عسکری ادارے کے پیش کردہ بہانے انصاف سے فرار کی کوشش کے سوا کچھ نہیں ہیں۔ سی سی ٹی وی فوٹیج اور اسرائیلی ڈاکٹروں کی فراہم کردہ طبی رپورٹس خود مختار اور کافی ثبوت تھے کہ یہ جرم وقوع پذیر ہوا ہے۔ متاثرہ شخص کو بغیر بیان لیے غزہ واپس بھیج دینا بذاتِ خود ثبوتوں کو ضائع کرنے اور گواہ کے تحفظ میں ناکامی کا شاخسانہ ہے۔
ادارے نے انکشاف کیا کہ جنسی تشدد، برہنہ کرنا، بجلی کے جھٹکے دینا اور کتوں کا استعمال جیسے انسانیت سوز مظالم فلسطینی اسیران کے خلاف ایک منظم پیٹرن بن چکے ہیں، جسے بین الاقوامی تحقیقاتی کمیشن اور اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے دفاتر نے بھی دستاویزی شکل دی ہے۔
یورومیڈ مانیٹر نے عالمی برادری، خاص طور پر جنیوا کنونشنز کے فریقین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل پر حقیقی دباؤ ڈالیں کہ وہ اپنی قانونی ذمہ داریاں پوری کرے۔ ادارے نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل پر ہتھیاروں کی منتقلی پر پابندی اور دیگر سفارتی و اقتصادی پابندیاں عائد کی جائیں کیونکہ اسرائیل کو "قانون سے بالاتر ریاست” سمجھنا اسے مزید جرائم کی ترغیب دینے کے مترادف ہے۔
آخر میں، ادارے نے عالمی عدالتِ انصاف اور عالمی فوجداری عدالت سے مطالبہ کیا کہ وہ فلسطینی اسیران کے خلاف اسرائیلی جیلوں میں ہونے والے ان منظم جرائم، قتل اور جنسی تشدد کی تحقیقات کو اولین ترجیح دیں اور ملوث افراد کے خلاف بین الاقوامی وارنٹ جاری کریں۔


