سوداگر ٹرمپ ۔۔ اور جنگ کا کاروبار

0
20

بیچارہ ڈونلڈ ٹرمپ شروع دن سے ہی برکتیں سمیٹ رہا ہے

وہ ایران پر قابو پانے چلا تھا
مگر آبنائے ہرمز بھی ہاتھ سے نکل گئی۔
وہ خامنۂ ای کو ختم کرنے نکلا تھا
مگر اس کی جگہ اس سے زیادہ سخت اور نسبتاً کم عمر قیادت سامنے آ گئی۔
وہ نظام بدلنے آیا تھا
مگر اپنی ہی فوجی قیادت کو وسیع پیمانے پر برطرفیوں کے ذریعے کمزور کر بیٹھا۔
وہ پیٹرو ڈالر کو مضبوط کرنا چاہتا تھا
مگر تیل کی قیمتیں یوان میں طے ہونے لگیں۔
وہ مزاحمت کو کچلنے نکلا تھا
مگر وہ پہلے سے زیادہ طاقتور ہو کر ابھری۔
وہ ایٹمی پروگرام ختم کرنا چاہتا تھا… لیکن ایرانی پارلیمنٹ عدم پھیلاؤ کے معاہدے سے نکلنے کی بات کر رہی ہے، اور کسی بھی وقت ایٹم بم کے اعلان کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
وہ میزائل پروگرام روکنا چاہتا تھا
مگر اپنی ہی امریکی فوجی اڈوں سے ہاتھ دھو بیٹھا۔
وہ ایران کا تیل ہتھیانا چاہتا تھا
مگر خلیجی تیل بھی خطرے میں ڈال دیا۔
وہ توانائی کی قیمتیں کم کرنا چاہتا تھا
مگر وہ دگنی ہو گئیں، اور امریکی عوام مہنگائی سے پریشان ہو گئے۔
وہ امریکہ کا عالمی اثر بڑھانا چاہتا تھا
مگر ہر امریکی خود کو غیر محفوظ محسوس کرنے لگا۔
وہ ایران کو تباہ کرنے چلا تھا
مگر ساتھ ہی اسرائیل بھی نقصان سے نہ بچ سکا۔
وہ اپنے اتحادیوں کو مضبوط کرنا چاہتا تھا
مگر ان کی معیشتوں اور کمپنیوں کو نقصان پہنچا۔
اور آخر میں، اپنی فضائی طاقت پر فخر کر رہا تھا
مگر ایک ہی دن میں سات طیارے گنوا بیٹھا۔
یوں لگتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لیے نحوست بن گیا ہے، اس نے امریکہ کے ساتھ وہ کچھ کر دیا جو ستر سال میں نہ سوویت یونین کر سکا نہ چین۔

تحریر: خدیجہ بنت قنتہ (الجزیرہ مراسلہ نگار)

مترجم: حمزہ میاں جان

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں