’سی این این‘ کے صحافیوں پر حملے کے بعد عالمی غم و غصہ کم کرنے کے لیے قابض اسرائیل کے نمائشی اقدامات

0
5

مرکزاطلاعات فلسطین

قابض اسرائیلی حکومت مقبوضہ مغربی کنارے میں اپنے فوجیوں اور شرپسند آباد کاروں کے حملوں کی ذمہ داری سے بچنے کے لیے اپنے روایتی انداز میں ایک بار پھر محض نمائشی اقدامات کا سہارا لے رہی ہے، یہ پیش رفت یہودی دہشت گردی میں اضافے کے خلاف امریکہ سمیت عالمی سطح پر ہونے والی شدید تنقید کے بعد سامنے آئی ہے۔

تازہ ترین صورتحال شمالی مغربی کنارے کے قصبے تیاسیر میں پیش آنے والے اس واقعے کے بعد پیدا ہوئی جس میں کیمرے کی آنکھ نے قابض فوج کے سپاہیوں کو سی این این (CNN) کی ٹیم پر حملہ کرتے ہوئے محفوظ کیا۔ ان فوجیوں نے آباد کاروں کے حملے کی کوریج کرنے والے صحافیوں کو اسلحے کے زور پر دھمکایا اور کیمرے بند کرنے پر مجبور کیا۔

اس واقعے کے اثرات کو زائل کرنے کی کوشش میں قابض اسرائیل کی فوج نے ریزرو بٹالین نیتسح یسرائیل کی سرگرمیاں معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جو کہ اپنی انتہا پسندانہ سوچ کے باعث بدنام بٹالین نیتسح یہودا سے تعلق رکھتی ہے۔ تاہم اس اقدام کی سنجیدگی پر بڑے پیمانے پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا جا رہا ہے اور اسے عالمی دباؤ کے سامنے محض ایک وقتی ردعمل قرار دیا جا رہا ہے۔

قابض فوج کے اہلکاروں نے صحافتی ٹیم کے سامنے نہ صرف اسلحہ تانا بلکہ اشتعال انگیز جملے بھی کسے، اس واقعے کو اس لحاظ سے غیر معمولی قرار دیا جا رہا ہے کہ یہ سب کچھ کیمرے کے سامنے ہوا جس نے قابض اسرائیل کو عالمی سطح پر شرمندگی سے دوچار کر دیا۔

’سی این این‘ کی پروڈیوسر عبیر سلیمان نے بتایا کہ فوجیوں نے اس بات کی ذرا بھی پرواہ نہیں کی کہ ٹیم نے اپنی پہچان بطور صحافی کروا دی تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ فوجیوں نے جان بوجھ کر ٹیم کو ہراساں کیا اور ان کے ساتھ موجود بچوں کو بھی خوفزدہ کیا، انہوں نے اس منظر کو دل خراش قرار دیا۔

یہ واقعہ کوئی اتفاقی نہیں ہے بلکہ یہ مقبوضہ مغربی کنارے میں صحافیوں اور سماجی کارکنوں کو نشانہ بنانے کے اس وسیع تر تسلسل کا حصہ ہے جس میں قابض فوج کے سپاہی اور آباد کار یا تو براہ راست ملوث ہوتے ہیں یا انسانی حقوق کی رپورٹوں کے مطابق دونوں فریق ایک دوسرے کے ساتھ ساز باز کر کے یہ کارروائیاں کرتے ہیں۔

اس فریم ورک کے اندر خود قابض اسرائیل کے اندر سے ایسی آوازیں اٹھ رہی ہیں جو ان ممارست کو یہودی دہشت گردی قرار دے رہی ہیں، خاص طور پر اس وقت جب تشدد کی لہر منظم اور علانیہ ہو چکی ہے اور انفرادی کارروائیوں سے نکل کر ایک منظم رویے کی شکل اختیار کر گئی ہے۔

اگرچہ فوج نے مذکورہ بٹالین کو الگ کرنے کا اعلان کیا ہے لیکن مبصرین کا ماننا ہے کہ ایسے اقدامات عالمی غصے کو ٹھنڈا کرنے کی کوششوں کا حصہ ہیں اور ان سے آباد کاروں کے حملوں کے حوالے سے کسی حقیقی تبدیلی کی عکاسی نہیں ہوتی، کیونکہ ان حملوں کو حکومت کے اندر سے مکمل سیاسی حمایت حاصل ہے۔

اس کے متوازی اسرائیلی حلقوں میں اس رجحان سے نمٹنے کے لیے نام نہاد اصلاحی حل پیش کیے جا رہے ہیں جن میں آباد کاروں اور فوجیوں کے لیے بحالی اور رہنمائی کے پروگرام شامل ہیں۔ ناقدین نے اس قدم کو ان سنگین جرائم کو محض سلوکی یا سماجی مسائل کے طور پر پیش کرنے کی کوشش قرار دیا ہے تاکہ انہیں منظم جرائم کے طور پر دیکھنے اور ان پر محاسبہ کرنے سے بچا جا سکے۔

عبرانی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق آنے والے عرصے میں اس طرز عمل میں مزید وسعت آ سکتی ہے کیونکہ حملہ آوروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کے لیے عالمی دباؤ بڑھ رہا ہے، جبکہ دوسری جانب برسوں سے جاری وہ صورتحال برقرار ہے جس میں ان جرائم کے مرتکب افراد کو کسی بھی سزا سے مکمل استثنیٰ حاصل رہتا ہے۔