شاخِ زیتون(نظمیں)
مصنف:محمود درویش
انتخاب و ترجمہ: نجمہ ثاقب
قیمت: ۸۸۰روپے(غیر مجلد)
محمود درویش عرب دنیا کے ان ممتاز شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنھوں نے اپنی شاعری کو صرف حسنِ بیان اور جمالیاتی اظہار تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے فلسطینی عوام کے اجتماعی شعور کی طاقت ور ترجمانی کا ذریعہ بھی بنایا۔ 1941 میں فلسطین کے’ البروہ‘ نامی علاقے میں پیدا ہونے والے محموددرویش کا شعری شعور اسرائیلی جارحیت، جلاوطنی اور وطن کی محرومی کے سائے میں پروان چڑھا۔ ان کی شاعری ایک فرد کی کہانی نہیں بلکہ ایک قوم کے المیے کی عکاس ہے۔
محمود درویش کی شاعری میں موضوعات کی ایک وسیع کائنات آباد ہے۔ انھوں نے عربی شاعری کو روایتی اسالیب سے نکال کر ایک نئے جمالیاتی اور فکری افق پر لاکھڑا کیا۔ ان کی نظموں میں استعارات، تمثیلات اور علامتوں کا ایسا حسین امتزاج پایا جاتا ہےجو قاری کو نہ صرف جذباتی سطح پر بلکہ فکری سطح پر بھی جھنجھوڑ دیتا ہے۔
فلسطین کے مسئلے کو عالمی ضمیر کے سامنے پیش کرنے میں درویش کی شاعری نے جو کردار ادا کیا، وہ کسی سفارتی دستاویز یا سیاسی تقریر سے کہیں زیادہ گہرا اور مؤثر ہے۔ انھوں نے بندوق کی گھن گرج کے بجائے لفظ کی قوت سے دنیا کو بتایا کہ فلسطینی صرف مظلوم نہیں، وہ زندہ قوم بھی ہیں۔
پاکستان اور فلسطین کے درمیان برادرانہ اور تاریخی روابط ہمیشہ گہرے رہے ہیں۔ پاکستانی قوم نے ہمیشہ فلسطینی عوام کی جدوجہد کو اپنا درد سمجھا ہے۔ ایسے میں محمود درویش کی نظموں کا اردو ترجمہ پاکستانی قارئین کے لیے صرف ایک ادبی تجربہ نہیں بلکہ ایک جذباتی اور فکری رشتہ قائم کرنے کا ذریعہ بھی ہے۔
اکادمی ادبیات پاکستان کی یہ کاوش نہ صرف عربی ادب کے ایک عظیم شاعر کو اردو دنیا سے متعارف کروانے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے بلکہ یہ پاکستان میں مزاحمتی ادب کی روایت کو مزید تقویت دینے کا عمل بھی ہے۔
اس ترجمے کی ایک اور اہم خوبی یہ ہے کہ اسے ممتاز شاعرہ اور مترجمہ نجمہ ثاقب نے براہِ راست عربی متن سے اردو میں منتقل کیا ہے۔ اردو میں عربی ادب کے تراجم عموماً انگریزی کے وسیلے سے کیے جاتے ہیں، جس کی وجہ سے ترجمے میں اصل متن کی معنویت، تہذیبی حوالہ جات اور اسلوبیاتی نزاکت اکثر متاثر ہو جاتی ہے لیکن نجمہ ثاقب کے اس براہِ راست ترجمے نے محمود درویش کی شاعری کی روح، اس کے جمالیاتی حسن اور فکری گہرائی کو اردو زبان میں پوری شدت کے ساتھ منتقل کیا ہے۔
ہمیں یقین ہے کہ یہ کتاب نہ صرف ادبی حلقوں میں بلکہ عام قارئین میں بھی مقبول ہوگی اور پاکستان میں فلسطینی مزاحمت کی ایک ادبی اور فکری تفہیم کو فروغ دے گی۔ اس ترجمے کے ذریعے اردو قارئین محمود درویش کو نہ صرف بطور شاعر بلکہ بطور مزاحمت کارکے بھی دریافت کر سکیں گے۔
اکادمی ادبیات پاکستان اور نیشنل بک فائونڈیشن کے درمیان کتابوں کی اشاعت کا ایک معاہدہ طے پایا ہے جس کے مطابق دونوں قومی ادارے کتابوں کی اشاعت اور کتب بینی کے فروغ کے لیے مشترکہ اقدامات اٹھائیں گے۔اس کتاب کو قارئین کے وسیع تر حلقے تک پہنچانے کے لیے، اکادمی اسے نیشنل بک فائونڈیشن کے تعاون سے شائع کر رہی ہے۔
(مجلس ادارت)
اکادمی ادبیات پاکستان


