شمسی توانائی استعمال کرنے والوں پر رام اللہ اتھارٹی کی جانب سے نئے ماہانہ ٹیکسوں کا نفاذ

0
9

مرکزاطلاعات فلسطین

رام اللہ میں بجلی کے شعبے کو ریگولیٹ کرنے والی کونسل نے سنہ 2025ء کے کابینہ فیصلے کی روشنی میں بجلی کے گرڈ کے ساتھ قابل تجدید توانائی کے منصوبوں کو منسلک کرنے کے حوالے سے ایک معلوماتی گائیڈ جاری کی ہے۔ اس نئے نظام کے تحت "نیٹ بلنگ” کے طریقہ کار کو بنیاد بنایا گیا ہے جس کے ذریعے صارفین اپنی ذاتی ضرورت کے لیے بجلی پیدا کر سکیں گے اور اضافی بجلی گرڈ کو فروخت کر کے اس کا مالی تصفیہ کر سکیں گے۔

اس نئے نظام کے تحت ذاتی استعمال کے ماڈل میں شامل صارفین پر مستقل ماہانہ فیس یا ٹیکس عائد کیا گیا ہے جس کا حساب شمسی توانائی کے سسٹم کی فی کلو واٹ صلاحیت کی بنیاد پر لگایا جائے گا۔

بغیر اسٹوریج والے منصوبوں کے لیے یہ ماہانہ فیس گھریلو صارفین کے لیے 5 شیکل، تجارتی صارفین کے لیے 11 شیکل، صنعتی اور دیگر زمروں کے لیے 7 شیکل اور میڈیم وولٹیج والے صارفین کے لیے 6 شیکل مقرر کی گئی ہے۔

ایسے منصوبے جن میں توانائی ذخیرہ کرنے والے بیٹری سسٹم (اسٹوریج) نصب ہوں گے، ان کے لیے یہ فیس مزید بڑھا دی گئی ہے۔ اس صورت میں گھریلو صارفین کے لیے 13 شیکل، تجارتی کے لیے 20 شیکل، صنعتی کے لیے 13 شیکل اور میڈیم وولٹیج کے لیے 9 شیکل وصول کیے جائیں گے۔

گائیڈ کے مطابق اس کے علاوہ اضافی چارجز بھی وصول کیے جائیں گے جن میں درخواست کی فیس، تکنیکی معائنہ اور گرڈ کے ساتھ منسلک کرنے کی فیس شامل ہے۔ یہ فیس نئے منصوبے کی تنصیب یا پہلے سے موجود سسٹم کی صلاحیت بڑھانے کی درخواست پر لاگو ہوگی۔

ریگولیٹری کونسل نے واضح کیا ہے کہ ان تمام چارجز اور ٹیرف میں "ویلیو ایڈڈ ٹیکس” شامل نہیں ہے اور صارفین کے لیے حتمی ٹیرف کے تعین کی مساوات میں اسے شامل کیا گیا ہے، جس پر متعلقہ حکام وقتاً فوقتاً نظر ثانی کر سکتے ہیں۔

ٹیکسوں کا یہ نفاذ ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب ایندھن اور بجلی کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافے کے باعث صارفین بڑی تعداد میں شمسی توانائی کے استعمال کی طرف راغب ہو رہے ہیں تاکہ قابض اسرائیل پر توانائی کا انحصار کم کر سکیں۔

بلدیہ عوریف کے امور چلانے کے لیے قائم سرکاری کمیٹی کے سربراہ قیس مروان کا کہنا ہے کہ انہیں کابینہ کا یہ فیصلہ موصول ہوا ہے اور انہوں نے اس سلسلے میں گورنر نابلس سے رابطہ کیا ہے۔ گورنر نے یقین دہانی کرائی ہے کہ اگر اس فیصلے میں کوئی خامی ہوئی تو اس کی دوبارہ تشکیل نو کی جائے گی، جس کی تائید تحریک فتح کے سیکرٹری نے بھی کی ہے۔

قبل ازیں اتھارٹی برائے توانائی کے سربراہ ایمن اسماعیل نے تصدیق کی تھی کہ شمسی توانائی کے نظام کی طلب میں 270 فیصد سے زائد کا ریکارڈ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کی وجہ موجودہ سنگین حالات اور توانائی کے شعبے میں خود کفالت کی اشد ضرورت ہے۔

انہوں نے بتایا کہ گذشتہ برس کے دوران صرف 100 درخواستوں کے مقابلے میں موجودہ مدت میں شمسی توانائی کے منصوبوں کے لیے تقریباً 2700 درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔

انہوں نے نیٹ بلنگ سسٹم کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ متعلقہ قوانین تقسیم کار کمپنیوں اور بلدیات کو پابند کرتے ہیں کہ وہ شہریوں کو سسٹم منسلک کرنے کے لیے تین اختیارات فراہم کریں جن میں مکمل فروخت، ذاتی استعمال یا اسٹوریج شامل ہیں۔

انہوں نے اس حقیقت کی طرف بھی اشارہ کیا کہ توانائی کی 88 فیصد ضروریات بیرون ملک سے درآمد کی جاتی ہیں، جبکہ اب مقامی ذرائع پر انحصار بڑھانے اور اردن جیسے برادر ممالک کے ساتھ علاقائی روابط کو مضبوط بنانے پر کام جاری ہے۔