طوباس میں قابض اسرائیلی فوج کے ہاتھوں پورے خاندان کا قتل عام کھلی دہشت گردی ہے:حماس

0
8

مرکزاطلاعات فلسطین

اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس ‘نے مقبوضہ مغربی کنارے میں قابض اسرائیلی فوج کے ساتھ تصادم اور مزاحمت کو تیز کرنے کی اپیل کی ہے۔ یہ مطالبہ مقبوضہ مغربی کنارے کے شمالی شہر طوباس کے جنوب میں واقع قصبے طمون میں قابض دشمن کی جانب سے ایک ہی خاندان کے چار افراد کو ان کی گاڑی پر فائرنگ کر کے بیدردی سے شہید کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔

حماس نے آج اتوار کو جاری کردہ ایک صحافتی بیان میں کہا کہ طمون میں جو کچھ ہوا وہ ایک فلسطینی خاندان کے خلاف کھلے عام فیلڈ ایگزیکیوشن یعنی ماورائے عدالت قتل کی بدترین مثال ہے۔ بیان میں اشارہ کیا گیا کہ قابض اسرائیلی فوج نے براہ راست اس گاڑی پر گولیاں برسائیں جس میں والدین اپنے دو معصوم بچوں کے ساتھ سوار تھے جس کے نتیجے میں وہ تمام افراد جام شہادت نوش کر گئے۔

حماس نے مزید کہا کہ یہ لرزہ خیز واقعہ ایک نیا جنگی جرم ہے جو قابض اسرائیل کے سیاہ ریکارڈ میں ایک اور اضافہ ہے۔ حماس کے مطابق یہ واقعہ قابض افواج کی اس مجرمانہ فطرت کی عکاسی کرتا ہے جس کے تحت وہ خواتین اور بچوں سمیت عام شہریوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنا رہے ہیں۔

حماس نے اس بات پر زور دیا کہ یہ جرائم فلسطینیوں کے دلوں میں خوف پیدا کرنے میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے بلکہ یہ صیہونیوں کے خلاف غم و غصے اور قابض دشمن کے مقابلے کے عزم کو مزید جلا بخشیں گے۔

حماس نے مغربی کنارے کے غیور فلسطینیوں سے مطالبہ کیا کہ وہ تمام تر مختلف پوائنٹس پر قابض افواج کے ساتھ تصادم کو تیز کر دیں اور قابض دشمن کی ان سفاکانہ کارروائیوں کے جواب میں صفوں کو متحد کرتے ہوئے مزاحمت کی تمام تر صورتوں کو متحرک کریں۔

غزہ کی پٹی پر سنہ 2023ء سے جاری نسل کشی کی جنگ کے آغاز سے ہی قابض دشمن اور صیہونی آباد کاروں نے مقبوضہ مغربی کنارے میں اپنے مظالم اور حملوں میں تیزی لا رکھی ہے جن میں قتل، گرفتاریاں، توڑ پھوڑ، گھروں اور تنصیبات کی مسماری سمیت جبری بے دخلی اور بستیوں کی توسیع جیسے جرائم شامل ہیں۔

فلسطینی اعداد و شمار کے مطابق ان وحشیانہ حملوں کے نتیجے میں اب تک کم از کم 1125 فلسطینی شہید اور تقریباً 11 ہزار 700 زخمی ہو چکے ہیں جبکہ لگ بھگ 22 ہزار فلسطینیوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔