طوباس کے قریب بستی کا محاصرہ ، یہودی آباد کاروں نے وادی اردن میں گھروں کو آگ لگا دی

0
9

مرکزاطلاعات فلسطین

قابض اسرائیلی فوج نے مسلح آباد کاروں کی ملی بھگت سے شہر طوباس کے شمال مغرب میں واقع گاؤں عاطوف میں فلسطینی آبادی کا محاصرہ کر لیا ہے جس کے نتیجے میں درجنوں فلسطینی خاندان اور ان کے مویشی محصور ہو کر رہ گئے ہیں جبکہ دوسری جانب وحشی آباد کاروں نے شمالی وادی اردن کی خربہ يرزا نامی بستی میں فلسطینیوں کے خالی مکانات کو آگ لگا دی ہے۔

طوباس گورنری میں وادی اردن کے امور کے نگران معتز بشارات نے بتایا کہ آباد کاروں کے گروہوں اور قابض اسرائیل کی فوج نے گاؤں عاطوف کے مشرقی علاقے کی جانب جانے والے تمام راستوں اور داخلی راستوں کو بند کر دیا ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ اس ظالمانہ محاصرے کی زد میں تقریباً 30 فلسطینی خاندان آ رہے ہیں جن کے افراد کی تعداد 180 سے زائد ہے۔

معتز بشارات نے وضاحت کی کہ یہ خاندان اب مکمل طور پر محصور ہو چکے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اس محاصرے میں 12 ہزار سے زائد مویشی بھی شامل ہیں جو پانی کی ایک بوند کو ترس رہے ہیں جبکہ ہزاروں دونم زرعی اراضی ان کے مالکان کی آنکھوں کے سامنے تباہ کی جا رہی ہے جو خود بے بس اور محصور ہیں۔

معتز بشارات نے قابض اسرائیل کی جانب سے کیے جانے والے اس جرم کو فوری طور پر روکنے کے لیے عالمی مداخلت کی اپیل کی اور متنبہ کیا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ فلسطینی عوام کے لیے ایک نئی نکہ (تباہی) کی مانند ہے۔

ایک اور المناک واقعے کا ذکر کرتے ہوئے معتز بشارات نے بتایا کہ گذشتہ منگل کی شام آباد کاروں نے طوباس گورنری سے وابستہ خربہ يرزا میں متعدد گھروں کو آگ لگا دی جن کے مکین پہلے ہی آباد کاروں کی مسلسل سفاکیت اور حملوں کے نتیجے میں وہاں سے ہجرت کرنے پر مجبور ہو چکے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ مکینوں کو 22 تنصیبات بشمول مکانات، رہائشی خیمے، باڑے اور موبائل ہیلتھ یونٹس پیچھے چھوڑ کر جانے پر مجبور کیا گیا تھا جن میں سے بعض کو نذرِ آتش کیے جانے کے بعد اب ان کی صورتحال کے بارے میں مکمل طور پر کچھ معلوم نہیں ہے۔

بدوی حقوق کے دفاع کے لیے کام کرنے والی تنظیم البيدر نے اطلاع دی ہے کہ آباد کاروں کے بڑھتے ہوئے حملوں کے باعث 11 فلسطینی خاندانوں نے اتوار کے روز خربہ يرزا سے انخلاء شروع کیا تھا جو منگل کو ان کی جبری بے دخلی پر مکمل ہوا۔

تنظیم نے کہا کہ آباد کاروں کے گروہ فلسطینی خاندانوں کو وہاں سے نکالنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ تنظیم نے خبردار کیا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ درحقیقت نسلی تطہیر کی پالیسی کا عملی نفاذ ہے جس کا مقصد وادی اردن اور مشرقی ڈھلوانوں کو فلسطینی آبادی سے خالی کروا کر وہاں آباد کاری کی توسیع کرنا ہے۔

ایک اور واقعے میں البيدر نے بتایا کہ منگل کی شام شمالی وادی اردن کے علاقے حمامات المالح میں آباد کاروں نے غیر ملکی کارکنوں اور ایک فلسطینی شہری پر حملہ کیا جو کہ اس علاقے میں فلسطینی آبادیوں کو نشانہ بنانے والے مسلسل حملوں کا ہی تسلسل ہے۔

علاوہ ازیں فلسطینی خبر رساں ایجنسی وفا کے مطابق رام اللہ کے شمال میں واقع قصبے مخماس کے چوراہے پر آباد کاروں نے فلسطینی شہریوں پر کالی مرچ کے سپرے (پیپر سپرے) سے حملہ کیا جس کے نتیجے میں متعدد افراد کے دم گھٹنے کے کیسز سامنے آئے تاہم مقامی لوگوں کی مداخلت پر حملہ آور وہاں سے بھاگ کھڑے ہوئے۔

غزہ کی پٹی پر آٹھ اکتوبر سنہ 2023ء سے شروع ہونے والی جنگ کے بعد سے مغربی کنارے میں فلسطینی دیہاتوں اور آبادیوں پر آباد کاروں کے حملوں میں شدید اضافہ ہوا ہے جس کے نتیجے میں اب تک 42 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مغربی کنارے میں قابض اسرائیل کی فوج اور آباد کاروں کی مشترکہ جارحیت کے نتیجے میں اب تک 1125 فلسطینی شہید اور لگ بھگ 11 ہزار 700 زخمی ہو چکے ہیں جبکہ تقریباً 22 ہزار افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

ان مظالم میں قتل و غارت گری اور گرفتاریوں کے ساتھ ساتھ گھروں کی مسماری، املاک کی تباہی اور فلسطینیوں کی جبری بے دخلی شامل ہے جو کہ مغربی کنارے اور مشرقی القدس میں آباد کاری کی توسیع کے متوازی جاری ہے جسے عالمی برادری مقبوضہ سرزمین قرار دیتی ہے۔