
مرکزاطلاعات فلسطین
مقبوضہ مغربی کنارے کے شمالی شہروں طولکرم اور نابلس میں آباد کاروں کے دہشت گردانہ حملوں کے نتیجے میں متعدد فلسطینی شہری زخمی ہو گئے، یہ حملے طوباس اور القدس میں آباد کاروں کی جانب سے کی گئی گذشتہ روز کی سفاکیت کے تسلسل میں سامنے آئے ہیں۔
مقامی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ آباد کاروں کے مسلح جتھوں نے طولکرم کے مشرق میں واقع قصبے رامین کے میدانی علاقے میں مویشی چرانے والے چرواہوں پر لاٹھیوں سے حملہ کیا اور انہیں بدترین تشدد کا نشانہ بنایا، جس کے بعد اپنی زمین کا دفاع کرنے والے مقامی شہریوں اور حملہ آوروں کے درمیان جھڑپیں شروع ہو گئیں۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ قابض اسرائیلی افواج نے جائے وقوعہ پر دھاوا بول دیا اور آباد کاروں کے حملے کا مقابلہ کرنے والے بڑی تعداد میں نوجوانوں کو حراست میں لے لیا۔
فلسطینی ہلال احمر سوسائٹی کا کہنا ہے کہ اس کے عملے نے رامین میں آباد کاروں کے تشدد سے زخمی ہونے والے 3 شہریوں کو طبی امداد فراہم کی ہے۔
قابض اسرائیلی افواج نے زخمی ہونے والے شہری صقر نضال سلمان کو طبی امداد کے بجائے حراست میں لے لیا، جبکہ ان شہریوں پر براہ راست گولیاں برسائیں جو زخمیوں کو منتقل کرنے کے لیے ایمبولینس عملے کے ساتھ وہاں پہنچے تھے۔
نابلس کے جنوب میں واقع قصبے حوارہ کے علاقے الحمرہ میں آباد کاروں کی فائرنگ سے ایک فلسطینی شہری زخمی ہو گیا۔
مقامی ذرائع کے مطابق حوارہ کے علاقے الحمرہ پر آباد کاروں کے حملے کے دوران ایک 49 سالہ شہری کے پاؤں میں لائیو بلٹ لگی۔
نابلس میں ہلال احمر کے ایمبولینس اور ایمرجنسی سروسز کے ڈائریکٹر عمید احمد نے بتایا کہ انتہا پسند آباد کاروں نے بیتا کی ایمبولینس پر حملہ کیا، گاڑی کی چابیاں چھین کر پہاڑ میں دور پھینک دیں اور طبی عملے کو محصور کر لیا۔
دوسری جانب ایک مسلح آباد کار نے جمعرات کے روز بیت لحم کے مغرب میں واقع بیت جالا میں ایک شہری کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کی۔
مقامی ذرائع نے بتایا کہ ایک آباد کار نے بیت جالا کے داخلی راستے پر "طالبتا قومی” سکول کے قریب ایک فلسطینی گاڑی پر گولیاں چلائیں جس کے مالک قصبہ الخضر کے رہائشی یوسف عبد موسیٰ ہیں، فائرنگ سے گاڑی کے ٹائر پھٹ گئے تاہم خوش قسمتی سے مسافر محفوظ رہے۔
گذشتہ رات طوباس کے شمال مشرق میں واقع علاقے وادی تیاسیر میں آباد کاروں کے حملے میں چار شہری شدید چوٹیں آنے سے زخمی ہوئے تھے۔
اسی وادی کے قریب آباد کاروں نے ایک موبائل ہوم شیلٹر بھی نصب کر دیا ہے۔ تیاسیر ولیج کونسل کے سربراہ ہانی ابو علی نے بتایا کہ آباد کاروں نے وادی تیاسیر کے ایک پہاڑ پر موبائل ہوم اور مویشیوں کے لیے باڑے تعمیر کر لیے ہیں، انہوں نے اس بات پر تشویش ظاہر کی کہ یہ تعمیرات فلسطینی شہریوں کی بستیوں کے بالکل قریب کی گئی ہیں۔
واضح رہے کہ آباد کاروں نے گذشتہ رات طوباس کے قریب عینون کے علاقے میں ایک استعماری خیمہ بھی نصب کیا تھا۔
مقبوضہ مغربی کنارے میں آباد کاروں کے گروہوں نے گذشتہ پانچ دنوں میں 109 حملے کیے ہیں، جو ان وحشیانہ کارروائیوں میں تیزی کا واضح اشارہ ہے جن میں فلسطینی شہریوں اور ان کی املاک کو بڑے پیمانے پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
ان حملوں کی شدت 21 سے 23 مارچ کے درمیان اپنے عروج پر رہی، جب کئی گورنریوں میں سڑکوں اور نجی املاک کو بیک وقت تباہ کرنے کی مربوط کارروائیاں کی گئیں، جس سے دیہات اور قصبوں میں شدید تناؤ کی فضا پیدا ہو گئی۔
نابلس گورنری 38 واقعات کے ساتھ سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں سرِفہرست رہی، جس کے بعد رام اللہ گورنری میں 23 اور الخلیل گورنری میں 21 حملے ہوئے، جبکہ دیگر حملوں میں فلسطینیوں کے بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا گیا۔
ان حملوں میں گھروں اور گاڑیوں کو آگ لگانا، بالخصوص نابلس کے جنوبی دیہات میں تباہی مچانا، زیتون کے درختوں کو جڑوں سے اکھاڑنا، زمینوں کو بلڈوز کرنا اور سکولوں و تعلیمی مراکز کو نشانہ بنانا شامل ہے۔
آباد کاروں نے شاہراہوں پر گاڑیوں پر پتھراؤ کر کے اور راستے بند کر کے شہریوں میں خوف و ہراس پھیلایا، جبکہ دور دراز علاقوں میں کسانوں پر براہ راست حملے کر کے ان کے روزگار کو معطل کر دیا۔

