عہد نامہ عمری یا "معاہدہ عمر” وہ تاریخی معاہدہ ہے جو خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اور یروشلم (بیت المقدس) کے عیسائیوں کے درمیان 637ء میں ہوا۔ اس کے تحت عیسائیوں کو جان، مال، اور عبادت گاہوں کے تحفظ کی یقین دہانی کرائی گئی، جبکہ عیسائیوں نے مسلمانوں کی حاکمیت کو قبول کیا [6, ویکیپیڈیا]۔
معاہدے کے اہم نکات:
جان و مال کا تحفظ: عیسائیوں کی جان، مال، اور کلیساؤں کی حفاظت کی ذمہ داری مسلمانوں نے لی
جزیہ: عیسائیوں نے جزیہ (تحفظ کا ٹیکس) دینے پر رضامندی ظاہر کی۔
عبادت کی آزادی: انہیں اپنے دین پر عمل کرنے اور چرچ کو برقرار رکھنے کی آزادی دی گئی۔
شرائط: اس میں کچھ حدود بھی تھیں، جیسے وہ نئی عبادت گاہیں نہیں بنا سکتے تھے اور مسلمانوں کے خلاف سازش نہیں کریں گے۔
یہ معاہدہ اسلامی تاریخ میں مذہبی رواداری اور انسانی حقوق کی ایک اہم دستاویز سمجھا جاتا ہے۔


