
مرکزاطلاعات فلسطین
قابض اسرائیلی حکام نے ملک کے جنوبی علاقے کریات غات میں واقع غزہ کے لیے مخصوص شہری و فوجی رابطہ مرکز سے سپین کو نکالنے کا اعلان کر دیا ہے اور میڈرڈ حکومت پر اپنے خلاف کھلی جانبداری کا الزام عائد کیا ہے۔
قابض اسرائیل کے وزیر خارجہ جدعون ساعر نے جمعہ کے روز بتایا کہ یہ فیصلہ امریکہ کے ساتھ کوآرڈینیشن کے بعد نافذ کیا گیا ہے۔ انہوں نے اس اقدام کا جواز پیش کرتے ہوئے سپین کی حکومت کے ان موقفوں کو اسرائیل دشمنی قرار دیا جن کے بارے میں ان کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے ایران کے خلاف جنگ سمیت تل ابیب اور واشنگٹن کے مفادات کو نقصان پہنچایا ہے۔
وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں انہوں نے مزید کہا کہ ہسپانوی وزیراعظم پیڈرو سانشیز کی حکومت اب اس قابل نہیں رہی کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پیش کردہ امن منصوبے یا رابطہ مرکز کے فریم ورک کے اندر کوئی فعال کردار ادا کر سکے۔
دوسری جانب قابض اسرائیلی حکومت کے وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ سپین کی جانب سے کیے جانے والے سفارتی حملے پر اسرائیل خاموش نہیں رہے گا، انہوں نے میڈرڈ پر قابض اسرائیلی فوج کے سپاہیوں کی ساکھ کو مسخ کرنے کا الزام بھی لگایا۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ ممالک جو دہشت گرد قرار دیے جانے والے نظاموں کے بجائے اسرائیل پر حملہ کرتے ہیں وہ خطے کے مستقبل میں شراکت دار نہیں ہوں گے، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ وہ اس دشمنی کو بغیر جواب دیے نہیں چھوڑیں گے۔
اس کے برعکس دونوں جانب سے تعلقات میں گذشتہ ہفتوں کے دوران شدید تناؤ دیکھا گیا ہے، کیونکہ وزیراعظم سانشیز نے خطے میں قابض اسرائیل کی فوجی کارروائیوں پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ بنجمن نیتن یاھو کی حکومت کی پالیسیاں بالخصوص لبنان اور غزہ میں بحرانوں کو ہوا دینے کا باعث بن رہی ہیں۔
اسی طرح میڈرڈ نے گذشتہ ہفتے ایران پر حملوں میں شریک امریکی طیاروں کے لیے اپنی فضائی حدود بند کرنے کا اعلان کیا تھا اور واضح کیا تھا کہ وہ جنگ سے وابستہ کارروائیوں کے لیے اپنے اڈوں یا فضائی حدود کے استعمال کی اجازت نہیں دے گا۔
یہ پیش رفت ایران پر ہونے والی جارحیت اور اس کے اثرات کے حوالے سے مختلف موقف رکھنے کے باعث قابض اسرائیل اور متعدد یورپی ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے اختلافات کے تناظر میں سامنے آئی ہے۔

