
مرکزاطلاعات فلسطین
غزہ کی پٹی میں قابض اسرائیل کی جانب سے سیز فائر کے معاہدے کی مسلسل 156 ویں روز بھی خلاف ورزیاں جاری ہیں جس کے نتیجے میں دو مزید فلسطینی شہری شہید اور متعدد زخمی ہو گئے۔ اس طرح 11 اکتوبر سنہ 2025ء کو جنگ بندی کے معاہدے کے نفاذ کے بعد سے اب تک اسرائیلی معاہدہ شکنی کے باعث ہونے والی شہادتوں کی مجموعی تعداد 671 ہو گئی ہے جبکہ 1779 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ قابض فوج کی سفاکیت کا نشانہ بننے والے 756 شہداء کے جسدِ خاکی بھی ملبے سے نکالے جا چکے ہیں۔
شمالی غزہ کے علاقے الصفطاوی میں شاکر حرب مال کے قریب قابض اسرائیل کی بمباری کے نتیجے میں ایک شہری شہید اور متعدد زخمی ہو گئے۔ طبی ذرائع نے بتایا ہے کہ قابض دشمن نے نہتے شہریوں کے ایک گروپ کو اس وقت نشانہ بنایا جب وہ الصفطاوی محلے میں موجود تھے۔
غزہ کی پٹی کے شمالی حصے میں طبی خدمات کے عملے اور ہنگامی ٹیموں نے ملبے تلے دبے ایک شہید اور 5 زخمیوں کو نکالا ہے جن میں سے دو کی حالت انتہائی تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
آج صبح غزہ کی پٹی کے جنوبی شہر خان یونس میں قابض اسرائیل کی فائرنگ سے ایک اور فلسطینی نوجوان جامِ شہادت نوش کر گیا۔ دفاعِ شہری کے مطابق شہید ہونے والے نوجوان کی شناخت بہاء محمود جاد اللہ القرا کے نام سے ہوئی ہے جو غزہ میں جاری فوجی کشیدگی اور قابض فوج کی فائرنگ کے وقت میڈیکل کمپلیکس کے قریب موجود تھے۔
قابض اسرائیل کے دشمن فوجیوں نے شمالی غزہ کے شہر بیت لاہیا میں ایک معصوم بچے کو اپنی گولیوں کا نشانہ بنا کر شدید زخمی کر دیا۔
گذشتہ روز اتوار کو وسطی غزہ میں الزوایدہ قصبے کے داخلی راستے پر قابض اسرائیل کے جنگی طیاروں نے پولیس کی ایک گاڑی کو وحشیانہ حملے کا نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں پولیس کے 9 افسران اور اہلکار شہید ہو گئے۔
یاد رہے کہ گذشتہ 10 اکتوبر سے قابض اسرائیل کی غاصب افواج غزہ کی پٹی کے تمام علاقوں میں فضائی بمباری اور توپ خانے کے ذریعے جنگ بندی کے معاہدے کی کھلی خلاف ورزی کر رہی ہیں۔
قابض اسرائیل کی ان خلاف ورزیوں سے متعلق روزانہ کی جاری کردہ شماریاتی رپورٹ کے مطابق شہداء کی مجموعی تعداد 671 ہو گئی ہے جن میں 199 معصوم بچے 81 خواتین اور 21 بزرگ شہری شامل ہیں۔ ان اعداد و شمار سے یہ تلخ حقیقت سامنے آتی ہے کہ اسرائیلی سفاکیت کا شکار ہونے والوں میں 45.5 فیصد تعداد صرف بچوں خواتین اور بزرگوں کی ہے۔
رپورٹ کے مطابق اب تک زخمی ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 1779 ہے جن میں 526 بچے 351 خواتین اور 93 بزرگ شامل ہیں جو کہ کل زخمیوں کا 55.2 فیصد بنتے ہیں۔ یہ صورتحال اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ قابض فوج کی فوجی کارروائیاں براہِ راست نہتے شہریوں کو نشانہ بنانے اور ان کی نسل کشی کے لیے کی جا رہی ہیں۔
اس طرح 7 اکتوبر سنہ 2023ء سے جاری اس ہولناک نسل کشی کی جنگ میں شہداء کی کل تعداد 72,247 اور زخمیوں کی تعداد 171,878 تک پہنچ گئی ہے۔ دوسری جانب سرد موسم اور بارشوں کے باعث مکانات گرنے سے ہونے والی اموات کی تعداد 28 ہو گئی ہے جن میں خان یونس میں ایک دیوار گرنے کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والے 3 شہری اور 4 زخمی بھی شامل ہیں۔


