
مرکزاطلاعات فلسطین
اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کے ترجمان حازم قاسم نے اس بات پر زور دیا ہے کہ غزہ کی پٹی میں نہتے فلسطینیوں کے خلاف قابض اسرائیل کی بڑھتی ہوئی سفاکیت، جاری قتل و غارت گری اور محاصرے میں سختی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ قابض دشمن نے سیز فائر کے راستے اور امن کی کوششوں کو ناکام بنانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
بدھ کے روز اپنے ایک اخباری بیان میں حازم قاسم نے کہا کہ غزہ کے باسیوں کا مسلسل قتل عام، ظالمانہ محاصرے کی شدت اور تعمیر نو کے عمل میں رکاوٹیں ڈالنا دراصل اس نسل کشی کی جنگ کا تسلسل ہے جو اب ایک مختلف اور خطرناک انداز میں جاری ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ قابض اسرائیل کی جانب سے سیز فائر معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیاں اس بات کا تقاضا کرتی ہیں کہ تمام ثالثی کرنے والے فریق اور ضامن ادارے قابض دشمن پر عملی دباؤ ڈالیں تاکہ ان خلاف ورزیوں کو روکا جا سکے اور محاصرہ ختم کرایا جائے، جس سے فریقین کے لیے جنگ بندی کے عمل کو مکمل کرنا ممکن ہو سکے۔
میدانی حالات کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ گذشتہ رات وسطی غزہ کی پٹی میں واقع زوایدہ گاؤں کے شمال میں قابض اسرائیل کے طیاروں نے شہریوں کے ایک گروہ کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں دو فلسطینی شہید اور متعدد زخمی ہو گئے۔
مقامی ذرائع کے مطابق قابض دشمن کے طیاروں نے زوایدہ گاؤں کے شمال میں سوارحہ قبرستان کے گردونواح میں شہریوں کو نشانہ بنایا، جس سے احمد محمد درویش اور نادر النباہین جامِ شہادت نوش کر گئے۔
اس سے قبل منگل کے روز خان یونس کے علاقے مواصی میں قابض افواج کی فائرنگ سے 13 سالہ بچہ خالد سیف الدین سلیمان عرادہ شہید ہو گیا تھا۔

