
مرکزاطلاعات فلسطین
غزہ کی پٹی پر قابض اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیوں کے نتیجے میں گذشتہ رات گئے وسطی غزہ کے مغربی علاقے میں اسرائیلی توپ خانے کی گولہ باری سے ایک خاتون صحافیہ اور دو بچیوں سمیت تین فلسطینی خواتین شہید اور 10 دیگر افراد زخمی ہو گئے۔
طبی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ وسطی غزہ کی پٹی میں الزوایدہ کے مغرب میں واقع علاقے السوارحہ میں پناہ گزینوں کے خیموں پر قابض اسرائیل کی بمباری سے قطر ریڈیو کی نامہ نگار 46 سالہ صحافیہ آمال محمد شمالی 17 سالہ بچی نور صالح الشلالفہ اور 12 سالہ بچی سلسبیل انور فراج جام شہادت نوش کر گئیں۔
ذرائع کے مطابق اس حملے میں 10 دیگر شہری بھی زخمی ہوئے جنہیں علاج کے لیے نصيرات میں واقع العودہ ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
گذشتہ روز اتوار کو بھی 4 شہری شہید ہوئے تھے جن میں سے تین اتوار کی سہ پہر شہر غزہ میں قابض اسرائیل کی جانب سے شہریوں کو نشانہ بنانے والی ایک فضائی غارت گری میں شہید ہوئے جبکہ شمالی غزہ کی پٹی میں بیت لاہیا کے مقام پر قابض اسرائیلی افواج کی فائرنگ سے زخمی ہونے والا ایک نوجوان زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔
قابض اسرائیلی فوج گذشتہ 10 اکتوبر سے غزہ کی پٹی کے مختلف حصوں میں فضائی بمباری توپ خانے سے گولہ باری اور فائرنگ کے ذریعے مسلسل جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی کر رہی ہیں۔
حکومتی میڈیا آفس کی جانب سے قابض اسرائیل کی خلاف ورزیوں سے متعلق جاری کردہ یومیہ شماریاتی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی جارحیت میں اب تک کل شہدا کی تعداد 648 ہو گئی ہے جن میں 200 بچے 85 خواتین اور 22 معمر افراد شامل ہیں۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ کل شہدا میں سے 46 فیصد سے زائد تعداد صرف بچوں خواتین اور بوڑھوں پر مشتمل ہے۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ زخمیوں کی تعداد 1721 تک پہنچ چکی ہے جن میں 518 بچے 343 خواتین اور 90 معمر افراد شامل ہیں۔ یہ متاثرہ ترین طبقہ کل زخمیوں کا 55.7 فیصد بنتا ہے جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ قابض دشمن کی عسکری کارروائیوں کا اصل ہدف نہتے شہری ہیں۔


