غزہ کی پٹی میں المیہ، جنریٹرز کے لیے تیل اور فاضل پرزوں کی کمی سے ہسپتالوں کی بندش کا خطرہ ہے: وزارت صحت

0
8

مرکزاطلاعات فلسطین

غزہ کی پٹی میں وزارت صحت نے ہسپتالوں کی فعالیت برقرار رکھنے کے حوالے سے ایک درپیش سنگین خطرے سے خبردار کیا ہے کیونکہ بجلی کے جنریٹرز چلانے کے لیے درکار تیل اور فاضل پرزوں کی قلت کا بحران شدت اختیار کر گیا ہے جس کے نتیجے میں مستقبل قریب میں یہ طبی مراکز مکمل طور پر بند ہو سکتے ہیں۔

اتوار کے روز ایک پریس کانفرنس کے دوران وزارت صحت نے بتایا کہ قابض اسرائیل کی طرف سے مسلط کردہ سفاکیت اور ناکہ بندی کے باعث 90 بجلی کے جنریٹرز مکمل طور پر ناکارہ ہو کر سروس سے باہر ہو چکے ہیں جبکہ 38 جنریٹرز تیل کی انتہائی محدود مقدار پر چل رہے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ 11 جنریٹرز کو فوری مرمت کی ضرورت ہے۔ یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی ہے جب بجلی کی مسلسل بندش کے باعث ہسپتالوں کا تمام تر انحصار انہی جنریٹرز پر ہے۔

وزارت نے اس بات کی تصدیق کی کہ جنریٹرز کی بندش سے ہسپتالوں کے اہم ترین شعبے براہ راست متاثر ہوں گے جن میں سب سے اوپر انتہائی نگہداشت کے وارڈز (آئی سی یو)، نوزائیدہ بچوں کے نرسری وارڈز (انکیوبیٹرز) اور ڈائیلاسز کے شعبے شامل ہیں۔ یہ صورتحال مریضوں کی زندگیوں کے لیے مستقل خطرہ بن چکی ہے اور طبی مراکز کے اندر صحت کے حالات کی سنگینی کو کئی گنا بڑھا رہی ہے۔

وزارت صحت نے کہا کہ بجلی کی بندش سے حساس ادویات، ویکسینز اور خون کی بوتلیں ضائع ہونے کا خدشہ ہے اور اس کے ساتھ ساتھ بجلی کے اتار چڑھاؤ یا غیر مستحکم ذرائع پر انحصار کے نتیجے میں انتہائی حساس طبی آلات کے خراب ہونے کا بھی شدید خطرہ ہے۔

اسی سیاق میں وزارت نے واضح کیا کہ ہسپتالوں کی آپریشنل صلاحیت میں کمی کے باعث اب جراحی کے آپریشنز صرف ہنگامی حالات تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں جس نے مریضوں کی تکالیف میں مزید اضافہ کر دیا ہے اور ضروری طبی خدمات کی فراہمی میں تاخیر ہو رہی ہے۔

وزارت صحت نے خبردار کیا ہے کہ اس بحران کے تسلسل سے انسانی صورتحال مزید ابتر ہو جائے گی اور لاکھوں شہریوں کو صحت کی خدمات کی فراہمی معطل ہو کر رہ جائے گی۔ وزارت نے انسانی حقوق، عالمی صحت کے اداروں اور دیگر متعلقہ جہات سے اپیل کی ہے کہ وہ ہسپتالوں کی مکمل بندش کے مرحلے تک پہنچنے سے قبل تیل اور فاضل پرزوں کی فراہمی کے لیے فوری مداخلت کریں۔